بادشاہت کا چکر: چارلس 5 دن بعد ہی قرنطینہ سے باہر آ گئے

ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم اوربرطانوی وزیر اعظم بورس جانسن میں کرونا وائرس کی تشخیص اور ان کے قرنطینہ ہونے کے بعد ملک میں بادشاہت کے حوالے سے جاری چہ مگوئیوں کے بعد کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 71 سالہ شہزادہ چارلس محض 5 دن بعد ہی قرنطینہ سے باہر آگئے ہیں تاکہ ملک میں بادشاہت کے حوالے سے کسی قسم کا بحران پیدا نہ ہو جائے۔
شہزادہ چارلس ملکہ برطانیہ کے بیٹے اورشہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے والد ہیں، بادشاہت کے تخت پر بیٹھنے کے حوالے سے ملکہ برطانیہ کے بعد ان کا نمبر ہے۔ 71 سالہ شہزادہ چارلس نے حفاظتی انتظامات کے پیش نظر کرونا کی تشخیص سے قبل ہی خود کو اہلیہ سمیت قرنطینہ میں منتقل کردیا تھا اور وہ لندن کے شاہی محل سے نکل کر اسکاٹ لینڈ چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔شہزادہ چارلس میں 25 مارچ کو کرونا کی تشخیص کی تصدیق کی گئی تھی اور اسی دن ان کی اہلیہ 78 سالہ شہزادی کمیلا کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔ کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد شہزادے نے خود سخت قرنطینہ کرلیا تھا تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ وہ محض 5 دن بعد ہی قرنطینہ سے باہر آگئے۔ عام طور پر کرونا وائرس کے مریض کو طبی ماہرین 2 ہفتوں تک قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کرتے ہیں تاہم بعض مریضوں میں کورونا کی علامات انتہائی کم ہونے کی وجہ سے انہیں پہلے بھی گھر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے شاہی محل کے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شہزادہ چارلس 30 مارچ کی دوپہر کو قرنطینہ سے باہر آگئے اور مجموعی طور پر وہ ایک ہفتے تک قرنطینہ میں رہے۔ شاہی محل کے نمائندے کا کہنا تھا کہ شہزادہ چارلس ڈاکٹروں کے مشورے سے ہی قرنطینہ سے باہر آئے اور ان میں کرونا کی اتنی شدید علامات نہیں تھیں تاہم وہ اب بھی گھر تک ہی محدود رہیں گے۔شاہی ترجمان کا کہنا تھا کہ شہزادہ چارلس قرنطینہ سے نکلنے کے بعد بھی احتیاط برتیں گے اور ماہرین صحت کی ہدایات پر عمل کریں گے۔
خیال رہے کہ جہاں شہزادہ چارلس نے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر لندن میں واقع شاہی محل کو چھوڑ کر اسکاٹ لینڈ میں اہلیہ سمیت رہائش اختیار کی تھی، اسی طرح ملکہ برطانیہ نے بھی کورونا وائرس کے پیش نظر شاہی محل چھوڑ کر شوہر شہزادہ فلپ کے ہمراہ یارکشائر میں واقع ونڈسر محل میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ ملکہ برطانیہ اور شہزادہ چارلس نے اس وقت شاہی محل چھوڑا تھا جب شاہی محل کے ایک ملازم میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت شہزادہ چارلس سمیت ان کی اہلیہ اور ملکہ برطانیہ سمیت ان کے شوہر کی صحت اچھی ہے اور ان میں کورونا کی کوئی علامات بھی ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔
تاہم دوسری جانب برطانیہ میں یہ چہ مگوئیاں پہلے ہی شروع ہوگئی تھیں کہ اگر ملکہ برطانیہ اور شہزادہ چارلس کو کرونا وائرس لاحق ہوتا ہے تو عارضی طور پر بادشاہت کی ذمہ داریاں شہزادہ ولیم ادا کریں گے جو بادشاہت کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہیں لیکن اب سامنے آنے والی خبروں سے لگتا ہے کہ شاہی خاندان میں ایسے حالات نہیں ہوں گے کیوں کہ شہزادہ چارلس بھی قرنطینہ سے باہر آگئے جب کہ ملکہ برطانیہ میں تاحال کورونا کی علامات ہی نہیں پائی گئیں۔
یاد رہے کہ شہزادہ چارلس برطانوی شاہی خاندان کے پہلے فرد تھے جن میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی، اس سے قبل شاہی محل کے ایک ملازم میں کرونا کی تشخیص کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد ملکہ برطانیہ اور شہزادہ چارلس نے شاہی محل چھوڑ دیا تھا۔ ملکہ برطانیہ بھی اس وقت شاہی محل میں نہیں بلکہ انگلینڈ میں واقع ونڈسرمحل میں موجود ہیں، جہاں ان کے ہمراہ ان کے عمر رسیدہ شوہر بھی ساتھ ہیں اور دونوں نے خود کو قرنطینہ کر رکھا ہے جبکہ ملکہ برطانیہ نے شاہی خاندان کے دیگر افراد سے میل جول بھی ترک کر رکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button