امیربالاج قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے پاکستان منتقل

امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کے مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دبئی کی عدالت نے طیفی بٹ کو پنجاب پولیس کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی۔

پاکستان منتقلی سے قبل طیفی بٹ کو دبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اس سے پاکستان جانے پر رضامندی پوچھی۔ طیفی بٹ نے خود کو مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان منتقل کیے جانے پر آمادگی ظاہر کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے حوالگی کی منظوری کے بعد پنجاب پولیس کی ٹیم طیفی بٹ کو لے کر لاہور پہنچ چکی ہے۔

واضح رہے کہ 18 فروری 2024 کو لاہور میں معروف کاروباری شخصیت ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کو ایک شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق، یہ واقعہ ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں امیر بالاج سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال بلا کے بیٹے کی شادی میں شریک تھا۔ تقریب کے دوران ایک حملہ آور نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں امیر بالاج سمیت تین افراد زخمی ہوئے، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے امیر بالاج دم توڑ گیا۔ محافظین کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا تھا۔

اگست 2024 میں، کیس کے ایک اور مرکزی کردار احسن شاہ مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ وہ امیر بالاج کا قریبی دوست اور مبینہ طور پر قتل کی ریکی میں ملوث تھا۔

پولیس کے مطابق، احسن شاہ کو نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب اس کے بھائی اور دیگر افراد نے حملہ کیا، جس دوران وہ زخمی ہو کر ہلاک ہوا۔

ستمبر 2025 میں جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ نے قتل کی منصوبہ بندی کی، اور وہ اس دوران ملزم طیفی بٹ سے مسلسل رابطے میں تھا۔

ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی کی جانب سے آئندہ پیشی میں گوگی بٹ کی ضمانت منسوخ کرانے کی درخواست دی جائے گی۔ وہ اس وقت 15 ستمبر تک عبوری ضمانت پر ہیں، جبکہ طیفی بٹ کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا، جس کی گرفتاری اور پاکستان منتقلی اب مکمل ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ امیر بالاج ٹیپو کے والد، امیر محمد خان عرف ٹیپو ٹرکاں والا بھی 22 مارچ 2010 کو لاہور ایئرپورٹ پر فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کر دیے گئے تھے۔ وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپس لوٹے تھے۔

Back to top button