والد کی طرح وزیر اعظم آزاد کشمیر بنے والے فیصل راٹھور کون ہیں؟

آزاد کشمیر میں چار سال کے دوران تین وزرائے اعظم کی چھٹی کے بعد چوتھے وزیر اعظم بننے والے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل ممتاز راٹھور کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی فیملی بھٹو دور سے وزراتوں کا حصہ رہی ہے جبکہ ان کے والد ممتاز راٹھورکو ببینظر بھٹو نے وزیر اعظم آزاد کشمیر نامزد کیا تھا جبکہ اب ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سولہویں وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں یہ سیاسی تبدیلی ایسے وقت میں رونما ہوئی ہے جب آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں صرف 8 ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کے لئے یہ بات بھی باعث حیرت ہو گی اسمبلی کی حالیہ مدت میں ممتاز راٹھور سے پہلے تین وزرائے اعظم گھر جا چکے ہیں۔ 25 جولائی 2021 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سردار عبدالقیوم نیازی نے 4 اگست کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ اس وقت اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت تھی۔ تاہم، صرف آٹھ ماہ بعد ہی پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے فارورڈ بلاک نے سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرا دی۔ 16 اپریل 2022 کو اس پر ووٹنگ ہونا تھی لیکن عبدالقیوم نیازی نے دو روز قبل 14 اپریل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران استعفیٰ دے دیا تھا۔
18 اپریل کو سیاست میں نووارد ایک کاروباری شخصیت سردار تنویر الیاس خان بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ اپوزیشن نے پی ٹی آئی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔ تاہم سردار تنویر الیاس کی حکومت بھی ایک سال مکمل نہ کر سکی۔ 11 اپریل 2023 کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے انہیں توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا سناتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔ عدالت نے عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 45 کے تحت انہیں عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی جس کے نتیجے میں وہ دو برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل ہو گئے۔ یہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی وزیراعظم کو عدالت نے نااہل قرار دیا تھا۔
سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے بعد 20 اکتوبر 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قانون ساز اسمبلی چوہدری انوار الحق 53 رکنی ایوان میں 48 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ حیران کن طور پر انہیں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت بھی حاصل رہی۔ ان کے خلاف بھی کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔چوہدری انوار الحق کی کابینہ میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے ارکان بھی شامل رہے۔ ان کے دورِ حکومت میں وقفے وقفے سے بڑے عوامی احتجاج اور لانگ مارچ ہوتے رہے جنہیں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی منظم کرتی تھی، اسلام آباد کی مداخلت کے بعد حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں حکومت کو کئی مطالبات ماننا پڑے۔ اس کے باوجود چوہدری انوار الحق کی حکومت قائم رہی۔
تاہم اکتوبر کے اوائل میں ایک بار پھر بڑے احتجاجی مظاہروں میں پرتشدد واقعات ہوئے جن میں 9 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ جس کے بعد وفاقی حکومت کی مداخلت سے عوامی ایکشن کمیٹی سے معاہدہ ہونے کے بعد ہڑتال ختم ہو گئی۔ آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کے بعد اگرچہ حکومت کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دیتی رہی لیکن کسی بڑی سیاسی جماعت نے اس جانب واضح پیش رفت نہیں کی۔ تاہم اکتوبر کے آخر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے چوہدری انوار الحق کی حکومت کے خلاف سرگرمیاں شروع کیں اور بالآخر دو برس اور تقریباً چھ ماہ بعد انہیں بھی وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنا پڑا۔ اب کشمیر کے آئندہ عام انتخابات سے قبل آٹھ ماہ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 اپریل 1978 کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والے فیصل راٹھور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور کے بیٹے ہیں۔فیصل راٹھور کی والدہ بیگم فرحت راٹھور بھی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی صدر رہ چکی ہیں۔فیصل ممتاز کے والد ممتاز حسین راٹھور سنہ 1975 کے انتخابات کے بعد سینیئر وزیر، سنہ 1990 میں وزیراعظم، سنہ 1991 میں اپوزیشن لیڈر جبکہ سنہ 1996 میں سپیکر قانون ساز اسمبلی کے عہدوں پر فائز رہے۔ممتاز حسین راٹھور کی وفات کے بعد سنہ 1999 میں ان کے بڑے بیٹے مسعود ممتاز راٹھور بقیہ مدت کے لیے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
تاہم فیصل ممتاز راٹھور نے پہلا الیکشن سنہ 2006 میں حلقہ ایل اے-17 حویلی کہوٹہ سے لڑا جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔انہیں الیکشن میں پہلی کامیاب سنہ 2011 میں ملی جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس وقت کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیرِ برقیات کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔
23 مارچ 2017 کو وہ پیپلز پارٹی کشمیر کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں۔فیصل ممتاز راٹھور سنہ 2021 کے انتخابات میں وہ دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سنہ 2023 میں وہ چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت میں وزیرِ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بنے اور وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے چند گھنٹے قبل تک وہ اس عہدے پر موجود رہے۔
