بجلی لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار پچھلی حکومت ہے یا نئی حکومت؟

پاکستان میں گرمیوں کے آغاز اور حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ملک بھر میں شدید لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو کہ شہباز شریف حکومت کے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ بڑے چھوٹے شہروں میں تقریباً ہر دو گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا حال اس سے بھی برا ہے۔ گرم موسم کی آغاز کے ساتھ ہہ پاکستان کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافے نے نہ صرف ماہ رمضان میں عوام کو بلکہ نئی حکومت کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں عوام عید کی تیاری کے سلسلے میں بازاروں اور مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ بجلی کی بار بار بندش سے نہ صرف گاہک پریشان ہیں بلکہ ان کا کاروبار بھی خراب ہو رہا ہے۔
لیکن حال ہی میں حکومت سنبھالنے والے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ یکم مئی سے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔اس اعلان کے مطابق تو اس بحران کے خاتمے میں چند ہی دن رہ گئے ہیں لیکن کیا حکومت عملی طور پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر پائی گی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہم اس وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جب اس معاملے کی جانب توجہ کی تو متعلقہ حکام کی جانب سے ان کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ دور حکومت میں بجلی گھروں کے لیے مناسب وقت پر ایندھن فراہم نہ کرنا، متعدد پاور پلانٹس تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے بند ہونے سمیت متعدد وجوہات کے باعث ملک کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے دو ہفتے میں ایندھن کا انتظام کیا ہے، بجلی گھروں سے بجلی کی پیداوار بڑھا کر لوڈ شیڈنگ کا سدِباب بھی کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے بعد کہا تھا کہ ‘پاور پلانٹس بند پڑے ہیں اور سابقہ حکومت نے ایندھن بروقت نہیں خریدا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار تقریباً 18500 میگا واٹ ہے جبکہ طلب کے لحاظ سے ملک کو 500 سے 2000 میگا واٹ کمی کا سامنا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق بروقت ایندھن نہ خریدنا، پاور پلانٹس میں تکنیکی خرابیاں اور سابقہ حکومت کی جانب سے ان کی دیکھ بھال نہ کرنا موجودہ بحران کی وجہ بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ایندھن کی دستیابی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
وزارت توانائی کے حکام کا کہنا ہے در حقیقت ہمارے پاس پلانٹس کو چلانے کے لیے ایندھن موجود نہیں جس کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے ، آئی پی پیز کو ادائگیاں نہیں کی گئیں اور یہ مسئلہ سابقہ وزیر توانائی کے دور میں بھی تھا، جب ادائیگیاں نہیں ہوتیں اور ایندھن نہیں ملتا تو پھر پلانٹس اپنی مکمل استعداد کے ساتھ کام نہیں کرتے۔’
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر جب بجلی کی اتنی زیادہ طلب ہوتی ہے تو اس وقت تک آبی ذخائر ہمارے ڈیم فل لیول تک بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس بار ابھی گلیشئیر نہیں پگھلے۔‘
ملک میں جاری لوڈشیڈنگ اور موجودہ حکومت کی جانب سے اس صورتحال کا ذمہ دار سابق حکومت کو قرار دینے پر پی ٹی آئی کے سابق وزیر توانائی حماد اظہر کہتے ہیں کہ ‘میں نے اس حکومتی دعوے کو چیلنج کیا ہے۔’ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے پاس اتنے پاور پلانٹس ہیں ہی نہیں تو پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ 27 میں سے 21 پلانٹس بند ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ حکومت چھوڑ کر گئے تو اس وقت ‘مجموعی طور پر پانچ پلانٹس تکنیکی بنیادوں پر بند تھے ان میں سے تین پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں اور جہاں پاور پلانٹس کے بند ہونے کی بات ہے تو دیکھ بھال اور مرمت کے لیے پلانٹس کو بند کرنا عام بات ہے۔‘
سابق وزیر توانائی حماد اظہر موجودہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ‘نئی حکومت بروقت فیصلے نہیں کر سکی۔ جب حکومت بدلی تو ہفتہ دس دن تک تو معاملہ ٹھیک رہا لیکن نئی حکومت سے غلطیاں ہوئی اور بد انتظامی ہوئی ہے، بروقت گیس اور فیول کی ڈائیورژن نہیں ہو سکی۔انھوں نے غلط فیصلہ کیا اور اسے کور کرنے کے لیے مزید غلط فیصلے کیے۔‘ حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ’نئی حکومت نے عجلت میں گیس سے پلگ کرنے کے بجائے فرنس آئل کے ساتھ پلگ کرنے کی کوشش کی جس سے فرنس آئل کی کمی ہو گئی۔‘
پی ٹی آئی دور حکومت میں تیل کی خریداری میں تاخیر یا پاور پلانٹس کو ادائیگیاں روکے جانے کی تردید کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ‘ایسا کبھی نہیں ہوا۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہاں کوئلے کی قیمت بڑھ رہی ہے اس پر حکومت کو خبردار کیا گیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب ان کی حکومت گئی تھی اس وقت ملک میں ڈیزل کا ایک ماہ کا ذخیرہ موجود تھا۔ حماد اظہر نے موجودہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے تیل کی قیمتوں پر اتنی کنفیوژن پھیلائی کہ لوگوں نے اس کو ذخیرہ کیا اور اب گندم کی کٹائی کے سیزن میں کسان کے پاس ڈیزل نہیں پہنچ پا رہا۔ کچھ پتہ نہیں آگے کیا کرے گی یہ حکومت۔‘
بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر توانائی کے شعبے کے ماہرین کی رائے موجودہ و سابقہ حکومت کے دعوؤں اور الزامات سے کچھ مختلف ہے۔نیپرا کے سابق افسر فضل اللہ قریشی کہتے ہیں کہ ’اصل مسئلہ مینیجمنٹ کا ہے جس کو بہتری کی ضرورت ہے۔ ملک میں چند پاور پلانٹس مہنگے لگے ہیں اور کورونا وبا کے بعد تیل کی بڑھتی قیمت اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے کچھ پاور پلانٹس بند ہو گئے۔ انکا کہنا تھا کہ نیپرا ان پاور پلانٹس کا آڈٹ ٹھیک سے نہیں کرتی سابقہ دور حکومت میں ایک آڈٹ رپورٹ تیار کی گئی لیکن اس کو سامنے کبھی نہیں لایا گیا نہ کبھی اس پر عمل کیا گیا۔‘
