بجلی پر ریلیف کے بدلے گیس کی قیمتوں میں 50فیصد اضافہ

نگراں حکومت کی بار بار کی درخواستوں کے بعد بالآخر جہاں ایک طرف عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے 200 یونٹ والے بجلی صارفین کو 15 ارب روپے کے ریلیف کی منظوری دیتے ہوئے صارفین کے بلوں کی 3 ماہانہ اقساط میں وصولی کی اجازت دیدی ہے وہیں دوسری طرف جولائی سے گیس کی قیمتوں میں50 فیصد تک اضافے اور بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ زشتہ ماہ یعنی اگست میں موصول ہونیوالے بجلی کے بلوں پر عوام کو شدید تحفظات تھے اور ملک بھر میں بجلی کے زائد بلوں پر عوام نے بھر پور احتجاج کیا، متعدد مقامات پر نہ صرف بل جلائے گئے جبکہ اکثریت نے بل ادا ہی نہیں کیے۔عوامی احتجاج کے پیش نظر نگراں حکومت نے آئی ایم ایف سے ریلیف کے لیے مختلف درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا، تاہم اب آئی ایم ایف نے بجلی کے صارفین کے لیے 15 ارب روپے کے ریلیف کی منظوری دی ہے۔

وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان یہ مفاہمت نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور ان کی کابینہ کی توثیق سے مشروط ہے۔اس ریلیف سے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو فائدہ ہو گا جبکہ دکانوں اور تجارتی صارفین کو اس ریلیف سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ریلیف کی حتمی منظوری آئندہ کابینہ اجلاس میں دی جائے گی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی بلوں کے صارفین کے لیے 15 ارب کی منظوری کی خبر دینے والے صحافی شہباز رانا کے مطابق آئی ایم ایف نے 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بل کی ادائیگیوں میں 3 ماہ کی توسیع کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اس توسیع کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔سینئر صحافی شہباز رانا کے مطابق نگراں حکومت نے 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے ریلیف کی درخواست کی تھی، جس حساب سے 3 کروڑ 20 لاکھ یعنی 81 فیصد بجلی کے صارفین کو ریلیف ملتا، تاہم آئی ایم نے اس کی منظوری نہیں دی۔’۔۔۔صرف 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو اگست کے بلوں میں ریلیف ملے گا، اس سے 40 لاکھ یعنی 10 فیصد صارفین کو استفادہ کرسکیں گے۔‘

سینئر صحافی شعیب نظامی کے مطابق آئی ایم ایف نے صرف 200 یونٹ استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان کیا ہے، اس سے زیادہ 300 یا 400 یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کے لیے کسی بھی ریلیف کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔شعیب نظامی کے مطابق ملک بھر بجلی استعمال کرنے والے مڈل کلاس شہریوں کے لیے، جو 300 سے 500 یونٹ استعمال کرتے ہیں، آئی ایم ایف نے کوئی ریلیف کا اعلان نہیں کیا، تاہم ایک ہی گھر میں دو میٹر لگا کر یونٹ تقسیم کرنے والے صارفین کو بھی اس ریلیف کا فائدہ ہو گا۔’ 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کو مؤخر ادائیگیوں کی اجازت دی جائے گی جبکہ موخر کرنے پر عمومی طور پر عائد کیے جانے والا 10 فیصد جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا، اس طرح ایک ارب 20 کروڑ روپے جو موخر ادائیگیوں کے ذریعے حکومت نے وصول کرنا تھے اں پر بھی ریلیف دے دیا گیا ہے۔‘شعیب نظامی کے مطابق 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے بجلی بلوں میں فی یونٹ 6 سے 8 روپے بڑھائے گئے تھے جسے کم کر کہ 3سے 4 روپے فی یونٹ کردیا جائے گا۔

صحافی شہباز راناکے مطابق آئی ایم ایف نے صارفین کو بجلی ریلیف کے بدلے میں پاکستان سے جولائی کے مہینے سے گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ کرنے اور بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔گیس کے بلوں میں اضافے کی شرط کے ساتھ ریلیف کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے تبصروں کا انبار لگا دیا ، کسی نے یہ ریلیف واپس لینے کا مطالبہ کرڈالا تو کسی نے سوال پوچھا کہ کیا اس کو ریلیف ہی کہتے ہیں؟ اسی حوالے سے صارف نادر ممتاز نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اچھی خبر ہے یا بری؟بجلی کے بلوں میں ریلیف کے حوالےسے آئی ایم ایف کی اس شرط پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم تو نماز بخشوانے چلے تھے یہ تو روزے ساتھ لے آئے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے آئے روز نئی شرائط لاگو کرنے کے مطالبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صارف نے لکھا کیا ہم ایک آزاد ملک ہیں؟ لگتا ہے کہ آئی ایم ایف ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے لیکن ہمیں بچانے کے لیے کوئی گاندھی نہیں آئے گا۔ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔صحافی شہباز رانا نے اپنی خبر پر تبصرہ کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھا ’لینا ہے تو لو ورنہ رہنے دو‘۔واضح رہے کہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ مؤخر ادائیگیوں اور ریلیف کے لیے حتمی منظوری دے گی جبکہ بجلی کے بلوں میں ریلیف صرف اگست کے بلوں کے لیے ہوگا۔

Back to top button