بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

وزیراعظم عمران خان نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ بڑے بجلی چوروں کو پکڑنے پر مکمل توجہ دیں تا کہ عوام کو سسٹم کی خامیوں اور استحصال سے محفوظ رکھا جاسکے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک اجلاس میں متعدد شعبوں میں دی گئی حکومتی سبسڈیز کا جائزہ لیا اور وزیراعظم کو بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں مجموعی طور پر 2 کھرب 51 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔
اجلاس میں وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان شریک ہوئیں جنہیں توانائی، خوراک اور کھاد کے شعبوں میں دی جانے والی حکومتی سبسڈی کے علاوہ سماجی بہبود کے پروگرام، برآمدات کے فروغ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کی گئیں رقوم کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے سبسڈی فراہم کرنے کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے گروہوں اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو ریلیف دینا، صنعتوں کا فروغ اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سبسڈی کا استعمال اس کے خاص مقاصد کےلیے ہورہا ہے اور عوام کے لیے فائدہ مند ہے جس کےلیے ان سبسڈیز کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شعبہ توانائی کو 2 کھرب 51 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جس میں سے ایک کھرب 62 ارب روپے ان گھریلو صارفین کےلیے مختص ہیں جو ایک ماہ میں 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں ٹیوب ویلز (زرعی) کو 8 ارب 50 کروڑ کی سبسڈی دی گئی جب کہ 18 ارب روپے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع، 3 ارب روپے آزاد کشمیر اور کے الیکٹرک کو 25 ارب روپے دیے گئے۔
انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ عوام کو معاشی استحکام اور معاشی اشاریوں میں بہتری سے آگاہ کیا جائے تا کہ تاجر برادری کے اعتماد میں اضافہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button