بجٹ پاس کروانے کے لیے حکومت کا چھوٹی جماعتوں سے رابطہ

وفاقی بجٹ کا سیزن آتے ہی بجٹ منظور کروانے کے لیے اسلام آباد کے طاقتور ایوانوں اور پارلیمنٹ کے کمیٹی رومز میں ملاقاتوں، ظہرانوں اور عشائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور حکومت اپنی اتحادی جماعتوں کے علاوہ اپنے پچھلی نشتوں پر بیٹھنے والے اراکین اسمبلی کو راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے علیحدہ ہو جانے کے بعد کپتان حکومت بجٹ پاس کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لہذا ایک حکمت عملی کے تحت حکومتی اراکین نے اپنی اتحادی جماعتوں اور ناراض اراکین اسمبلی کو راضی کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بجٹ کی وجہ سے ہی جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی کو سلو ڈاؤن کر دیا گیا ہے تاکہ ترین گروپ سے بھی بجٹ پاس کروانے کے لیے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ خیال رہے کہ اگر حکومت وقت اپنا پیش کردہ بجٹ پاس کرانے میں ناکام ہو جائے تو اسے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
اسی سلسلے میں گذشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعت متحدہ قومی مومنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کر کے ان کے مطالبات سنے۔ ملاقات کے دوران صوبہ سندھ اور بالخصوص کراچی کے مسائل، ترقیاتی ضروریات، آئندہ بجٹ کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اتحاد کے امور پر بات چیت کی گئی۔
اس سے قبل گذشتہ ماہ ترین گروپ کے اعلان کے بعد حکومتی ارکان کی دوڑیں لگ گئی تھیں اور جیسے تیسے وزرا اور دیگر اعلی عہدیدروں نے ترین گروپ کے اہم ممبران سے ملاقات کر کے انہیں بجٹ پاس کروانے میں حمایت پر راضی کیا تھا جس کے بعد حکمران جماعت نے کچھ سکھ کا سانس لیا تھا۔ تاہم دوسری جانب یہ اطلاعات ہیں کہ جہانگیر ترین اور عمران خان کے مابین معاملات بہتری کی بجائے ابتری کی طرف ہے جس کی بڑی وجہ بیرسٹر علی ظفر کی تیار کردہ شوگر انکوائری رپورٹ ہے۔ ترین گروپ کا اصرار ہے کہ علی ظفر نے اپنی رپورٹ میں جہانگیرترین پر لگنے والے الزامات کو رد کیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان جان بوجھ کر اس رپورٹ کو پبلک نہیں کر رہے۔
گذشتہ دنوں ترین گروپ کے حوالے سے حکومتی مشکلات پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’حکومت پر یہ دباؤ بجٹ سیشن تک رہتا ہے لیخن پھر معاملہ پورے سال کے لیے آگے چلا جاتا ہے۔‘ تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔ گذشتہ سال بھی بجٹ سیزن کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی مینگل کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔حالیہ تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا بجٹ گزرا ہو جس سے قبل وزیراعظم کی اپنی اتحادی جماعتوں اور اراکین اسمبلی سے گرمجوش ملاقاتیں نہ ہوئی ہوں۔ ان ملاقاتوں کے بعد حکومتی بیانات میں بھی اتحادیوں اور ارکان کی عظمت کے گن گاتے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہوتی ہے کہ بجٹ سے قبل اتحادیوں کی رضا حاصل کرنے میں جت جاتی ہے اور اتحادی بھی اس سنہری موقع پر مطالبات کی فہرست حکومت کے حوالے کیوں کرتے ہیں؟
سینئیر تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ بجٹ پاس کرانا حکومت کے لیے ایسے ہوتا ہے جیسے نئے سرے سے حکومت تشکیل دینا۔ یہ خطرہ خاص طور پر عمران خان جیسی کمزور عددی اکثریت رکھنے والی حکومت کو زیادہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت اہنا پیش کردہ بحٹ پاس نہ کروا سکے تو وہ سنبھل نہیں سکتی ۔اس لیے جب حکومت کے پاس اپنی اکثریت نہ ہو اور اتحادی حکومت بنائے تو اسے چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو راضی رکھنا پڑتا ہے۔ رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ’جن ممالک میں پارلیمانی روایات مضبوط ہوں وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ حکومتیں اس طرح بلیک میل ہوں بلکہ ایک ووٹ سے بنی ہوئی حکومتیں بھی مدت پوری کرتی ہیں۔ مگر پاکستان میں حکومتوں کو ہر وقت خطرہ لگا رہتا ہے کہ کہین اسکی اپنی جماعت کے یا اسکے اتحادی ارکان اسمبلی دوسری طرف نہ چلے جائیں۔‘انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی سے ایم کیو ایم اور بلوچ قوم پرست جماعتیں تقریبا ہر بجٹ سے قبل سیاسی مطالبات پیش کر دیتے تھے جو کبھی پورے ہو جاتے اور کبھی نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جمہوریت نہیں دھڑے بندی اور گروہی مفادات کی سیاست ہے۔ اسی طرح بجٹ سے قبل اپنی جماعت کے ایم این ایز یا ایم پی ایز کو ترقیاتی فنڈ بھی دیے جاتے ہیں حالانکہ وزیراعظم عمران خان کا منشور تھا کہ اقتدار میں آ کر وہ اس فنڈ کو ختم کر دیں گے تاہم چونکہ وزیراعظم پارلیمانی نظام میں اکثریت سے ہی بنتا ہے تو اسے ارکان کی بات ماننا پڑتی ہے۔‘
رسول بخش رئیس کے مطابق ترقیاتی فنڈز ایک قسم کی سیاسی رشوت ہے کیونکہ ارکان اسمبلی اپنے ٹھیکے داروں کے ذریعے کام کرواتے ہیں اور اپنی مرضی کا کام کرواتے ہیں۔ دوسری طرف ارکان اسمبلی حکومت سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر علاقے میں کام نہ کروائے تو ووٹ کون دے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران سیاسی بلیک میلنگ شروع ہو جاتی ہے کیونکہ اتحادی اگر اس دوران اپنی حمایت واپس لے لیں تو حکومت مشکل میں پڑ جائے گی اور بجٹ پاس نہ ہو پائے تو حکومت قائم نہیں رہتی۔ اسی وجہ سے حکومت عام طور پر ہر طرح کے مطالبات مان جایا کرتی ہے۔ کچھ جماعتیں تو ایسا ہر سال کرتی ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت کے پاس آپشن تو ہوتا ہے کہ وہ سٹینڈ لے اور بلیک میل نہ ہو، تاہم ہماری بار بار کے مارشل لاوں کے بعد سیاسی جماعتیں اتنی مضبوط نہیں رہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اپنا انتظام مضبوط کرنا چاہیے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں کسی جماعت میں سبسکرپشن کا باقاعدہ نظام نہیں اور نا ہی ممبرز کی لسٹیں موجود ہیں۔ صرف ایک اخبار میں خبر آتی ہے کہ فلاں نے اپنی جماعت بدل لی اور یہ کافی ہوتا ہے۔
پارلیمانی امور کے ماہر اور قومی اسمبلی کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری طاہر حنفی کا کہنا تھا کہ سنہ 1985 سے وہ ہر سال یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ جہاں حکومت کے لیے بجٹ سیشن ایک مشکل ٹیسٹ کا وقت ہوتا ہے وہیں پچھلی نشتوں پر بیٹھے ارکان اور اتحادی جماعتوں کے لیے اچھا وقت لے کر آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چند ارکان اسمبلی پورا سال وزیراعظم سے ملاقات کے منتظر رہتے ہیں تاہم انہیں یہ موقع بجٹ سیشن میں میسر آتا ہے کیونکہ وزیراعظم اس سیشن میں کم و بیش ہر روز اسمبلی آتے ہیں تاکہ بجٹ کی منظوری کے وقت ارکان کی تعداد پوری رہے۔ اس دوران وزیراعظم پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں ہر روز ارکان سے ملتے اور ان کے مسائل سنتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ اتحادیوں اور ارکان اسمبلی کو پورا سال خوش رکھے تاہم بجٹ سیشن کے دوران ایسا ممکن بھی ہوتا ہے اور ضروری بھی۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق بجٹ سیشن میں حکومتی ارکان اسمبلی کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ موجود ہوں اور حکومت کو ووٹ دیں تاہم بیماری وغیرہ کا عذر بنا کر غیر حاضر رہنا ناممکن نہیں اس لیے حکومت اس ڈر سے اپنے ارکان کو خوش ہی رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔
