بجٹ کے دوران قومی اسمبلی کے باہر سرکاری ملازمین کا احتجاج

قومی اسمبلی میں آج وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین وفاقی بجٹ 22-2021ء پیش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر قومی اسمبلی کے باہر وفاقی سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کےلیے سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جس شرح سے مہنگائی بڑھی اسی شرح سے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔
مظاہرین نے قومی اسمبلی کے باہر نعرے بازی کی جس پر پولیس کو طلب کیا گیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے مابین ہاتھا پائی ہوئی۔ واضح رہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں دس فیصد اضافے کی منظوری دی ۔ دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ شوکت ترین نے بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ملک کو بحران سےنکال کر لائے، حکومت مشکل فیصلے کرنےسے نہیں گھبراتی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بجٹ کا کل حجم 8 ہزار ارب روپے سے ز ائد ہے جب کہ مالی سال خسارہ 3 ہزار 154 ارب رہنے کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق حکومت نے آمدن کا تخمینہ 7 ہزار 989 ارب رکھا ہے جب کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ 8 ہزار 56 ارب روپے سے زائد متوقع ہیں۔ اسی طرح آئندہ مالی سال میں قرضے جی ڈی پی کی 3 اعشاریہ 84 فیصد شرح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3 ہزار 527 ارب روپے جاری ہونگے کل آمدنی میں سے این ایف سی کا شیئر نکالے جانے کے بعد وفاق کے پاس 4 ہزار 462ارب روپے بچیں گے۔ بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کےلیے 3ہزار 105ارب روپے‘پنشن کی مد میں 480 ارب، سبسڈی کےلیے 530ارب، ترقیاتی بجٹ کےلیے 900ارب،سول حکومت کے اخراجات کےلیے 510ارب اور گرانٹس کی مد میں 994 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال میں معاشی ترقی کا ہدف 4 اعشاریہ 2 فیصد، بجٹ خسارے کا ہدف 6 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
