بحرین ایئر لائنز نے بھی پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا

بحرین ائیرلائنز نے بھی جعلی لائسنس کا اسکینڈل سامنے آنے پر پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق بحرین ایئر لائنز نے جعلی لائسنس کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کر دیا ہے۔ بحرین سی اے اے کی جانب سے پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خط لکھا گیا ہے جس میں پائلٹ کے لائسنس کی تصدیق اور تحقیقات کرنے کو کہا گیا ہے۔
بحرین سی اے اے کے خط میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ چوہدری غفور ثاقب، پائلٹ محمد مبشر خان اور ملک عمران الطاف کے لائسنس کی تصدیق کی جائے۔ خط میں مزید کہا گیا کے پانچ پاکستانی انجینئرز کے لائسنس کی تصدیق کرکے رپورٹ دی جائے۔ فلائٹ انجینئرنگ میں جاوید اقبال ملک، محمد جنید خان، دانش افضل، عرفان فیروز اور محمد شاہد امرون شامل ہیں۔
بحرین کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کو فوری طور پر تحقیقات کرکے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈی جی سول ایوی ایشن پاکستان نے تینوں پائلٹس اور پانچ انجیئرز سے متعلق تحقیقات شروع کردی ہیں۔ خط میں بحرین حکومت کی جانب سے بھی گلف ائیر میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کے بارے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈپٹی سی ای او گلف ائیر محمد قبی کی جانب سے پاکستانی ایوی ایشن حکام کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سے سی اے اے پائلٹس اور انجینئرز کے لائسنس کی تصدیق کرکے تفصیلات سے آگاہ کرے۔
دوسری جانب حکومت نے یورپ کیلئے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بحال کرنے کےلیے اہم اقدام اٹھایا ہے، پی آئی اے اور یورپی یونین ایئر سیفٹی کے درمیان ورکنگ پلان بنانے پر اتفاق ہوگیا، ورکنگ پلان میں6 ماہ میں ایاسا کو پائلٹس، ٹیکنکل اسٹاف کی ہائرنگ اور مشتبہ لائسنس پر بھرتیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات دی جائیں گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے پروازوں پر یورپی ممالک میں پابندی کے خاتمے کےلیے جرمنی میں پاکستانی سفیر نے یورپی یونین ایئر سیفٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات کی ہے۔
جس میں پابندی کے خاتمے کےلیے پی آئی اے کی جانب سے ایاسا کو ورکنگ پلان دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں طے پایا ہے کہ قومی ایئر لائن پی آئی کی جانب سے یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کو ورکنگ پلان بنا کر دیا جائے گا۔ ورکنگ پلان ایاسا سے ہونے والے مذاکرات کے نکات پر مبنی ہوگا۔ ورکنگ پلان میں6 ماہ میں ایاسا کو پائلٹس، ٹیکنکل اسٹاف کی ہائرنگ اور مشتبہ لائسنس پر بھرتیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات دی جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button