بحریہ ٹاؤن کے مساج سینٹر سے کونسے شرفا گرفتار ہوئے؟

https://youtu.be/_GyWrTbsy5Y
اسلام آباد پولیس نے بحریہ ٹاؤن سوک سنٹر میں واقع مساج سنٹر بلیو سٹون اینڈ سپا پر چھاپہ مارتے ہوئے کئی "شرفاء” کو بے لباس حالت میں گرفتار کر لیا جن میں سے ایک نے خود کو وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا سٹاف ظاہر کر کے بچنے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی۔
بعد ازاں پولیس نے مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا دھندہ کرنے والی خواتین اور مردوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ دو روز پہلے مقامی مجسٹریٹ کی قیادت میں پولیس نے بحریہ ٹاؤن کے تین مساج سینٹرز۔۔ کومل سپا، سٹار سپا اور بلیو سٹون سپا پر چھاپے مارے جہاں مبینہ طور پر بدکاری کے اڈے چل رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ دو مساج سینٹرز کو تو چھاپے سے پہلے ہی مخبری ہوگئی مگر بلیو سٹون سپا نامی مساج سنٹر میں کئی مرد اور خواتین داد عیش دیتے اور لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گے۔ قابل اعتراض حالت میں پکڑے گئے ایک صاحب کی پولیس آفیسر سے ہونے والی ویڈیو گفتگو واضح طور پر سنی جاسکتی ہے۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس یہ شخص پولیس والوں کو اپنا تعارف پارلمینٹ ہاؤس کے سرکاری آفیسر کے طور پر کرواتے ہوئے کہتا ہے کہ میں وزیر دفاع پرویز خٹک کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اس پر چھاپہ مار ٹیم میں شامل ایک آفیسر نے انہیں کہاکہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم پرویز خٹک کو یہ بتائیں کہ آپ کا ساتھی ہم نے برہنہ حالت میں خواتین کے ساتھ پکڑ لیا ہے؟ اس پر ڈھیٹ شخص فوری کہتا ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ! اور بھی جگہ ہیں غلط کام کے لئے !! اس پر پولیس آفیسر دوبارہ بولا کہ آپ تو ہم سے بات ہی نہ کریں۔ آپ کو ہم نے برہنہ حالت میں دیکھا ہے لہذا تھانے جانا ہو گا۔ بعدازاں موقع سے پکڑے گئے تمام مرد و خواتین کو پولیس وین میں تھانے منتقل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سمیت اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں مساج سنٹرز کی آڑ میں عصمت فروشی کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح شیشہ سنٹرز کی بھی بھرمار ہے۔ ان "اڈوں” کی سرپرستی مبینہ طور چند نام نہاد میڈیا پرسنز کے علاوہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کے کرپٹ اہلکار کر رہے ہیں جو ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف آج تک کارروائی نہیں ہوسکی۔ دوسری طرف مساج سنٹر "بلیو سٹون سیلون اینڈ سپا” کی انتظامیہ نے اپنا موقف دیتے ہوئے بتایاکہ قبل ازیں بھی پولیس دو مرتبہ کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر یہ سیلون سیل کرچکی ہے۔ اب چھاپہ مار ٹیم دوبارہ آئی اور ہمارے دو کلائنٹس اور سٹاف میں شامل چار افراد جن میں دو غیر ملکی خواتین بھی شامل تھیں، کو حراست میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھاکہ گرفتار کئے گئے سٹاف میں عون اور عامر جبکہ لڑکیوں میں عائشہ اور ماہم شامل ہیں۔ انکا گلہ ہے کہ چھاپہ مار ٹیم کے ساتھ لیڈیز پولیس بھی نہیں تھیں لیکن پھر بھی لڑکیاں گرفتار کر لی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ اسپیشل مجسٹریٹ کے اختیارات پانے والے ایکسائز آفس کے آفیسر علی پیرزادہ کی سربراہی میں مارا گیا تھا جنہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے صرف کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے اور پرائس چیکنگ کے اضافی اختیارات سونپے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ "بلیو سٹون سپا” سے گرفتار ہونے والی عائشہ نامی لڑکی کو تھانے سے چھڑوا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

Back to top button