براڈ شیٹ کو جرمانے کی ادائیگی حکومت کے گلے کی ہڈی کیسے بنی؟

ایک برطانوی عدالت کے حکم کے مطابق براڈشیٹ کمپنی کو اربوں روپے جرمانہ ادائیگی کا معاملہ اب حکومت پاکستان کے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے اور براڈ شیٹ نے اپنے بقایاجات کی عدم ادائیگی پر دوبارہ سے برطانیہ میں موجود پاکستانی اثاثے ضبط کروانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
براڈ شیٹ کے وکلا نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے کمپنی کو سود اور قانونی اخراجات کی مد میں واجب الادا مزید 2.2ملین ڈالر فوری ادا نہ کئے تو برطانیہ میں پاکستانی اثاثوں کی ضبطگی کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ لندن میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی مرتضی علی شاہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کے وکلا نے نیب اور حکومت پاکستان کے وکلا پر واضح کر دیا یے کہ اگر کمپنی کو سود اور قانونی اخراجات کی مد میں واجب الادا 1,180,799 ڈالر کے بقایاجات فوری ادا نہ کئے تو پاکستان کے برطانیہ میں موجود اثاثوں کی ضبطی کیلئے مزید کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ یاد رہے کہ ایک برطانوی عدالت کے فیصلے کے مطابق حکومت پاکستان پر اب بھی 5,889 ڈالرز سود واجب الادا ہے اور اس میں267.72 ڈالر یومیہ کی شرح سے اضافہ ہورہاہے۔ اسی طرح براڈشیٹ کی جانب سے انفورسمنٹ کے اخراجات کم وبیش 800,00 ڈالر ہوچکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی وکلا نے براڈشیٹ کے وکلا سے کہاہے کہ حکومت پاکستان عدالت کے باہر ہی معاملہ طے کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے نیب سے اس حوالے سے ہدایات حاصل کرنے میں تاخیر ہوئی ہے لیکن براڈشیٹ کے وکلا نے دھمکی دی ہے کہ اگر بقایاجات فوری ادا نہ کئے گئے تو دوبارہ اثاثوں کی ضبطی کی کارروائی شروع کر دی کی جائے گی۔ براڈ شیٹ کے وکلا کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل میں پوچھا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر کا سبب کیا ہے اور ان کے موکل کو مزید وقت کی کیوں ضرورت ہے۔ جوابی ای میل میں حکومت پاکستان کے قانونی نمائندے نے براڈ شیٹ کے وکلا کو کہاہے کہ جتنی جلد ممکن ہوا ہم جواب دیں گے لیکن براڈ شیٹ کے وکلا کا کہناہے کہ ان کے پاس حکومت پاکستان کے اثاثوں کی ضبطی کیلئے مزید کارروائی کرنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں ہے ،انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس مقدمے کی بہت زیادہ تشہیر کی وجہ ہم سمجھتے کہ آپ کے موکل برابر تاخیر کررہے ہیں اور ہائی کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کررہے ہیں۔
24 جنوری کو لندن سے نیب کو بھیجے جانے والے ایک خط میں آربیٹریٹرز کے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ کے کیس نمبر 12912001 کا حوالہ دیاگیا ہے، خط میں نیب کو بتایاگیا ہے کہ حکومت پاکستان لندن کے فیصلے پر عمل کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے براڈ شیٹ کو عدالت سے انفورسمنٹ آرڈرز حاصل کرنا پڑے جس کے نتیجے میں قانونی اخراجات میں اضافہ ہوگیا، براڈ شیٹ کے وکلا نے قانونی اخراجات کی تفصیل بھی بیان کی یے۔ براڈ شیٹ کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ براڈشیٹ بار بار نیب کو براڈشیٹ کی جانب سے مسٹر جسٹسTeare کے احکامات پر عملدرآمد کی کوششوں سے آگاہ کرتارہا ہے اور انھیں بتایاجاتارہا کہ ان پر واجبات ،اخراجات اورسود کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے ،انھوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے براڈشیٹ کے پورے واجبات ادا نہ کئے جانے کے سبب معاملہ طول کھینچتا گیا اورپاکستان پر واجبات میں مزید اضافہ ہوگیا جس کا خمیازہ حکومت پاکستان کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
