’’بزرگ سیاستدان قائم علی شاہ، غوث علی شاہ آمنے سامنے‘‘

50 سال کا تجربہ رکھنے والے دو بزرگ سیاستدان قائم علی شاہ اور غوث علی شاہ 2024 الیکشن کے دوران آمنے سامنے آگئے، سید قائم علی شاہ اور سید غوث علی شاہ سندھ کے وزرائے اعلٰی بھی رہ چکے ہیں، دونوں کی عمریں 90 سال سے زائد ہیں۔نمائندہ اردو نیوز سے گفتگو میں قائم علی شاہ نے بتایا کہ دورِ طالب علمی میں انہوں نے اس وقت کے مضبوط سمجھے جانے والے میر، پیر اور سرداروں کے خلاف الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے، اس کامیابی سے ان کا سیاسی سفر شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ سید قائم علی شاہ کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 1933 ہے، انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں ایک ہی جماعت کا انتخاب کیا اور آج تک اسی جماعت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔ وہ جنرل ضیا الحق کے دور میں ہونے والے غیرجماعتی انتخابات میں وزیراعلٰی سندھ منتخب ہوئے تھے۔ سید غوث علی شاہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بھی حصہ رہے اور کئی برسوں تک پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔بعد ازاں 2013 میں صدارتی امیدوار کے انتخاب پر غوث علی شاہ کی نواز شریف سے ناراضی ہوئی اور انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا۔ خیرپور سے تعلق رکھنے والے ایک شہری ناصر علی شاہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس علاقے سے منتخب ہونے والوں کی صرف عمر پر بات کی جاتی ہے کہ وہ اس عمر میں عوام کی خدمت کیسے کریں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلابی صورت حال میں سب نے دیکھا کہ سائیں قائم علی شاہ کتنے متحرک رہے ہیں۔ گاؤں گاؤں جا کر انہوں نے لوگوں کی داد رسی کی اور ان کے نقصان کا ازالہ کیا۔ ناصر علی نے مزید کہا کہ 2024 کی انتخابی مہم کی بات کی جائے تو سندھ کے یہ بزرگ سیاست دان اپنی برسوں پُرانی دوستی کو نبھاتے ہوئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ دونوں جلسے جلوس نکالتے اور لوگوں سے ملتے ملاتے ہیں لیکن احترام کا رشتہ بھی برقرار رکھتے ہیں۔ ممتاز کالونی خیرپور کے رہائشی امیر علی پھلپھوٹو کا کہنا ہے کہ سندھ میں کئی برسوں سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور یہاں اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ چلتا ہے۔ان کے مطابق اسمبلیوں میں جانا عام آدمی کے بس میں نہیں ہے یہاں سے الیکشن لڑنے والے بزرگ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں لیکن اس علاقے سے نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ امیر علی پھلپھوٹو نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اگر آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی ہیں تو پھر آپ کے لیے سب آسانی ہے ورنہ تو مشکل ہی مشکل ہے۔ سندھ میں کئی برسوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہاں اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ چلتا ہے۔ برسوں سے ایک ہی امیدوار الیکشن لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اسمبلیوں میں جانا عام آدمی کے بس میں نہیں ہے۔ یہاں سے الیکشن لڑنے والے بزرگ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں لیکن اس علاقے سے نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ’ابھی دور تبدیل ہوگیا ہے، لوگ چاند پر جا رہے ہیں، آئی ٹی کا دور ہے، بات تو سب کرتے ہیں نوجوانوں کو آگے لانے کی لیکن لائے کون؟ یہاں تو 50 برسوں سے الیکشن کا امیدوار نہیں بدلا تو ہماری تقدیر کیسے بدلے گی؟‘
امیر علی پھلپھوٹو نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اگر آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی ہیں تو پھر آپ کے لیے سب آسانی ہے ورنہ تو مشکل ہی مشکل ہے۔

Back to top button