برسوں پرانی امریکی فلم کرونا وائرس کے بعد ہٹ کیوں ہو گئی؟

قریب دہائی قبل ایک موذی وائرس کے پھیلاؤ پربنائی جانے والی امریکی ڈائریکٹر اسٹیون برگ کی فلم "ٹریلر کونٹیجن” کو چین میں پھیلنے والے کرونا وائرس کے نتیجے میں ایک نئی زندگی مل گئی ہے اور فلم نے دس برس بعد ایک مرتبہ پھر سے کمائی شروع کر دی ہے۔
اس امریکی فلم کی کہانی حیران کن حد تک کرونا وائرس کی کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ فلم "ٹریلر کونٹیجن” کا آغاز ایک خاتون سے ہوتا ہے جو ہانگ کانگ سے واپس منی سوٹا ایک عجیب بیماری کے ساتھ واپس لوٹتی ہے۔ چند دنوں میں اس کی موت ہوجاتی ہے جس کے بعد اس کے شوہر اور دیگر افراد میں وہی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور پھر یہ بیماری دنیا بھر میں ایک موذی وبا کی طرح پھیل جاتی ہے۔ جیسا کہ مشہور زمانہ امریکی اینی میٹڈ کارٹون سیریز سمپسن کی تقریباً دو دہائیاں قبل کی گئی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ کچھ اسی طرح کرونا وائرس کے حوالے سے بھی ہوا ہے۔
فلم ’ٹریلر کانٹیجن‘ 2011 میں ریلیز ہوئی جسے اب کورونا وائرس کے نتیجے میں نئی زندگی مل گئی ہے۔ فلم میں بدترین صورتحال کی دہلا دینے والی جھلک دکھائی گئی ہے کہ کس طرح افواہیں پھیلتی ہیں اور ان سے معاشرتی زندگی کس بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ خالی ائیرپورٹس اور لوٹ مار کے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں۔ اب گوگل پر اس فلم کے بارے میں سرچز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب کہ آئی ٹیونز پر یہ فلم 28 جنوری کو رینٹڈ فلموں کی ٹاپ 10 فہرست کا حصہ بن کر دوبارہ سے بزنس کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ فلم میں ایم ای وی 1 نامی وائرس کو پھیلتے ہوئے دکھایا گیا اور اس وقت کرونا وائرس مختلف ممالک میں سامنے آیا ہے جسے فی الحال عالمگیر وبا کی جگہ گلوبل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ مگر فلم میں یہ ضرور دکھایا گیا تھا کہ ایم ای وی 1 ایک حیوانی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی۔ جیسا ابھی کورونا وائرس کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے۔ اس فلم میں یہ وائرس ایک چمگادڑ سے ایک چینی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے ایک جانورسے منتقل ہوا اور پھر امریکی خاتون تک پہنچا اور کرونا وائرس کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ چمگادڑ یا سانپ یا پینگولین سے شروع ہوکر انسانوں میں منتقل ہوا۔ تاہم یہ مکمل طور پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے ملتی جلتی نہیں جیسے اس میں 29 دن میں دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں جب کہ کورونا وائرس میں یہ تعداد اتنے دنوں میں صرف سینکڑوں میں رہی۔ مگر پھر بھی یہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے واقعات کے قریب ترین فلم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button