برطانوی اخبار نے شہباز کے داماد پر جھوٹے الزام کیوں لگائے؟

وزیراعظم شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف نے کہا ہے کہ ڈیلی میل میں جھوٹی خبر کے ذریعے ڈیوڈ روز نے انھیں صرف اس لئے بدنام کیا کہ وہ شریف فیملی کے داماد ہیں، لیکن لندن کی عدالت نے انہیں تمام الزامات سے  بری کر دیا۔ عمران یوسف نے کہا کہ برطانوی اخبار نے شریف خاندان کے مخالفین کے ایما پہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی کسی کرپشن میں ملوث نہیں رہے، انکے خلاف جھوٹ چھاپے، ڈیلی میل کی جانب سے شہباز شریف اور عمران یوسف کے خلاف ڈیوڈ روز کا ہتک آمیز آرٹیکل اپنی ویب سائٹ سے ہٹائے جانے کے بعد لندن میں مرتضیٰ علی شاہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اپنی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کیا۔

عمران یوسف نے کہا کہ میرے اور شہباز شریف کے خلاف یہ خبر تب شائع کرائی گئی جب عمران خان کی دھاندلی زدہ حکومت قائم تھی، وہ ایک ظالم حکومت تھی، جس نے شہباز شریف سے نفرت میں مجھے بھی گھسیٹ لیا، لیکن ڈیلی میل میرے خلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں کرسکا کیونکہ کوئی کرپشن ہوئی ہی نہیں تھی۔ ساری خبر من گھڑت اور بے بنیاد تھی، یہی وجہ تھی کہ ڈیلی میل نے معافی مانگ کر جعلی خبر ہٹا دی۔ یہ صحافت کے نام پر ایک بڑا فراڈ تھا۔ عمران یوسف نے ثبوت کے طور پر ڈیلی میل کے وکلا کی جانب سے کی جانے والی ایک ای میل دکھائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخبار نے عمران یوسف اور شہباز شریف کی جانب سے اپنے اپنے وکلا کو ڈیلی میل کے خلاف کارروائی کی ہدایت دیئے جانے کے چھ ماہ کے اندر ہی مشروط معافی کی پیشکش کی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیلی میل نے مقدمے کی سماعت سے قبل ہی مقدمے پر تصفیہ کرنے کیلئے تین مختلف مواقع پر ان کو تین مختلف آفرز کیں، چونکہ ڈیلی میل نے مصالحت کیلئے مختلف شرائط عائد کی تھیں، اس لئے میں نے اپنے وکلا سے مشورے کے بعد ان پیشکشوں کو رد کردیا لیکن میرے وکلا کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دعوے کا دفاع نہیں کریں گے، اس کے بعد کوویڈ کی پابندیاں آگئیں اور اخبار نے نو مرتبہ عدالت سے وقت لیا اور آخر میں مکمل طور پر سرنڈر کردیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ڈیلی میل کو اپنی کامیابی کی معمولی سی بھی امید ہوتی تو وہ جعلی خبر ہٹا کر معافی نہ مانگتا۔

عمران یوسف نے کہا کہ اخبار نے الزام عائد کیا تھا کہ میں نے جان بوجھ کر زلزلہ زدگان کی بحالی اور تعمیر نو سے متعلق ادارے ERRA کے سینئر ایگزیکٹو اکرام نوید سے رقم وصول کی اور کرپشن میں ملوث تھا لیکن اخبار کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈیلی میل کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی تھے، جو عمران کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے انھیں فراہم کئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ نوید نے مجھ سے کاروباری لین دین کے تحت پراپرٹی خریدی تھی اور وہ میرے پاس ایک ڈیلر کے ذریعے آیا تھا، یہ پہلی املاک نہیں تھی جو میں نے اپنی زندگی میں فروخت کی، میں پرویز مشرف کے دور سے ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کررہا ہوں اور اب تک لاہور میں6 بلند وبالا عماتیں تعمیر کروا کر خریداروں کو دے چکا ہوں، نوید نے ایک ڈیلر کے ذریعے گفت وشنید کے بعد مجھ سے پراپرٹی خریدی تھی اور انھوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے تھے، اس کے بینک اکائونٹ اور ذرائع آمدنی کی تحقیق کرنا میرا کام نہیں تھا، ہم نے قانونی ضروریات پوری کیں، ڈیلی میل نے یہ حقیقت فراموش کردی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طورپر ایرا کے فنڈز میں خورد بررد کے الزام میں نوید کو گرفتار کرنے کے احکام دیئے تھے اور ان کا احتساب کیا تھا۔ اگر شہباز شریف اس کے ساتھ کرپشن میں ملوث ہوتے یا انھیں معلوم ہوتا کہ میں ان کے ساتھ کرپٹ ڈیل کر رہا ہوں تو وہ اسے گرفتار کیوں کراتے۔ یہ شہباز شریف کا کریڈٹ ہے کہ انھوں نے ایرا میں کرپشن اور نوید کے کردار کو بے نقاب کیا، لیکن ڈیلی میل نے عوام سے یہ حقیقت چھپائی کہ نوید نے اسی دوران یوسف علی اور فاطمہ ڈیلپرز سمیت41 مختلف بلڈرز سے پراپرٹیز خریدی تھیں لیکن صرف مجھے ہی ہدف بنایا گیا کیونکہ میں شہباز شریف کا داماد تھا۔

انکا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے میرے سوا سب کے معاملات کا تصفیہ کردیا کیونکہ وہ جھوٹے الزامات کے تحت میڈیا ٹرائل کے ذریعہ شریف فیملی کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، وہ کفر کا نظام تھا، اس میں انصاف اور شفافیت نہیں تھی۔ پوری انتقامی مہم کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن ڈیلی میل برطانوی عدالت میں کسی ایک بھی الزام کو ثابت نہیں کرسکا اور اس نے تصدیق کی کہ اس کے شہزاد اکبر کی جانب سے ڈیوڈ روز کے حوالے کئے جانے والے فرضی اور من گھڑت کاغذات کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔

جھوٹے کرپشن کیس کے اپنے خاندان پر پڑنے والے جذباتی اور سماجی اثرات کے بارے میں عمران یوسف نے کہا کہ ڈیلی میل کے جھوٹے الزامات بہت ہی تکلیف دہ تھے جن سے پوری فیملی صدمے سے دوچار تھی، تصور کیجئے کہ جب آپ جانتے ہوں کہ آپ نے کوئی کرپشن اور کوئی غلط کام نہیں کیا اور آپ پر کرپشن کا الزام ہو تو آپ پر کیا گزرے گی۔ میرا اللہ گواہ ہے کہ میں کبھی کرپشن میں ملوث نہیں رہا، عمران خان نے ہمارے خلاف کچھ تلاش کرنے میں چار سال تک ریاستی وسائل استعمال کئے لیکن انھیں کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور جعلی مقدمات ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے برسراقتدار آنے سے بہت پہلے شروع ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کو کچھ نہیں ملا اور جعلی مقدمات ختم ہوگئے۔ عمران یوسف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی برطانوی اخبار نے کسی پاکستانی وزیراعظم سے معافی مانگی ہے جس سے شہباز شریف کی دیانت داری پر مہر ثبت ہوگئی ہے۔

Back to top button