برطانوی اخبار کا شہباز شریف سے معافی مانگنے کا امکان


وزیراعظم اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے شہباز شریف کے خلاف ایک برطانوی اخبار ڈیلی میل میں لگائے گئے الزامات پر اصرار کے باوجود اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ اخبار اپنی رپورٹ پر معافی مانگ لے گا جس سے حکومت کے احتسابی بیانیے کو ایک بڑا دھچکا لگے گا۔ یاد ریے کہ برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے وزیر اعظم عمران خان اور شہزاد اکبر سے پاکستان میں ملاقاتوں کے بعد اپنے آرٹیکل میں الزام عائد کیا تھا کہ شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرین کیلئے ملنے والی 550؍ ملین پائونڈز کی برطانوی امداد چوری کی، اور یہ کہ ان کے اہل خانہ ان فنڈز کی منی لانڈرنگ کرکے رقم برطانیہ منتقل کرتے رہے۔ شہباز شریف نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دے کر ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کا ایک دعوی دائر کیا تھا جس پر اب کارروائی شروع ہو چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آرٹیکل شائع کرنے والے برطانوی اخبار کے پاس اب معافی مانگنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے چونکہ شہباز شریف پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں اب جسٹس سر میتھیو نکلن نے یہ کہہ دیا ہے کہ برطانوی اخبار کو ثابت کرنا ہوگا کہ اسکے شہباز شریف پر لگائے گے کرپشن، منی لانڈرنگ اور کمیشن لینے کے الزامات حقیقت ہر مبنی تھے اور یہ کہ شہباز شریف اور ان کی فیملی نے سرکاری خزانے سے لاکھوں پائونڈز کی خرد برد کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کی اور پیسہ برطانیہ منتقل کیا۔ ایسا کرنے کے لیے اخبار کو ٹھوس دستاویزی ثبوت اور شواہد پیش کرنا ہوں گے جو کہ اسکے پاس موجود نہیں ہیں لہذا برطانوی اخبار کے پاس اب معافی مانگنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔
اس کیس کی ابتدائی سماعت میں برطانوی عدالت کے جج نے قرار دیا ہے کہ اخبار کے آرٹیکل سے شہباز شریف کی بہت زیادہ توہین ہوئی ہے کیونکہ انہیں برطانوی ٹیکس دہندگان کی رقم چوری کرنے کا قصور وار بتایا گیا ہے۔ لندن میں مقیم سینیئر پاکستانی صحافی مرتضی علی شاہ کے مطابق ڈیلی میل کے وکیل نے کہا کی ابتدائی سماعت میں کرپشن، کمیشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سے پسپائی اختیار کی اور دفاعی پوزیشن پر چلا گیا۔
یاد ریے کہ ڈیوڈ روز کا آرٹیکل ڈیلی میل میں 19؍ جولائی 2019ء کو شائع ہوا تھا یہ دو صفحات پر مبنی تھا اور اس میں شہباز شریف کی تصاویر بھی شائع کی گئی تھیں۔ سماعت کے دوران جج نے شہباز شریف کے وکیل کی طرف سے دائر کردہ تمام اعتراضات قبول کیے اور تسلیم کیا کہ ان کے موکل کیخلاف لگائے گے الزامات توہین آمیز اور مبالغہ آرائی پر۔مبنی ہیں۔
برطانوی عدالت کو بتایا گیا کہ ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روز کو حکومت پاکستان کی خفیہ رپورٹس تک خصوصی رسائی دی گئی اور اسے جیل میں ریمانڈ پر بھیجے گئے گواہوں تک بھی رسائی دی گئی جن میں برطانوی شہری آفتاب محمود بھی شامل ہے جس نے مبینہ طور پر شہباز شریف فیملی کی طرف سے لاکھوں کی منی لانڈرنگ کی اور رقم برمنگھم منتقل کی۔ جج نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اخبار نے اپنے آرٹیکل میں ایک چارٹ دکھایا ہے جس میں بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران نے زلزلہ متاثرین کیلئے دیے گئے دس لاکھ پائونڈز کی رقم لانڈرنگ کرکے برمنگھم منتقل کی۔ اخبار میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شہباز شریف لاہور میں 53؍ ہزار اسکوائر فٹ کے محل میں رہتے ہیں جو ان کی ذرائع آمدن کے مطابق نہیں۔
اس حوالے سے ڈیلی میل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اخبار نے یہ سمجھ لیا تھا کہ چونکہ شہباز شریف محل میں رہتے ہیں اسلئے منی لانڈرنگ میں شہباز شریف ملوث ہوں گے۔
برطانوی عدالت کو بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں شہزاد اکبر کے اثاثہ ریکوری یونٹ کی دی گئی رپورٹ ملنے کے بعد ڈیوڈ روز نے ڈیلی میل میں آرٹیکل لکھا اور یہ الزام لگایا کہ شہباز شریف فیملی بشمول علی عمران نے منی لانڈرنگ کی کئی اسکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان سب میں مرکزی فائدہ اٹھانے والے شہباز شریف تھے جس کا ثبوت انکے شاہانہ اخراجات اور محلاتی گھروں میں رہنا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ڈیوڈ روز نے ایسیٹ ریکوری یونٹ کے چیف شہزاد اکبر کے 200؍ الفاظ پر مشتمل بیان کو بھی اپنے آرٹیکل میں شائع کیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر برطانیہ کو کی جانے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے شواہد اور ثبوت برطانیہ سے جمع کیے گئے ہیں۔
جسٹس میتھیو نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ’’پورا آرٹیکل پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف قصور وار ہیں اور تمام الزامات براہِ راست عائد کیے گئے ہیں اور اس قدر مخصوص ہیں کہ پڑھنے والا شخص یہ سمجھے گا کہ شہباز شریف کرپشن، منی لانڈرنگ اور کرپشن کے قصور وار ہیں۔ لہٰذا اب یہ اخبار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جرائم کے حوالے سے شواہد پیش کرے اور ثابت کرے کہ شہباز شریف نے بتائی گئی کرپشن اور منی لانڈرنگ واقعی کی ہے۔ یاد رہے کہ اس حوالے سے شہباز شریف پر نیب کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔
عدالت میں ڈیلی میل کے وکلاء نے ایک نہیں بلکہ تین مرتبہ یہ کہا ہے کہ ان کے پاس شہباز شریف اور ان کی فیملی کی منی لانڈرنگ کے شواہد موجود نہیں ہیں لہذا اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ برطانوی اخبار شہباز شریف سے معافی مانگ لے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button