برطانیہ سے آنے والے پاکستان میں وائرس کیسے پھیلا رہے ہیں؟

پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے برطانوی کرونا وائرس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ برطانیہ سے پاکستان کا سفر کرنے والے شہری تمام تر کورونا ایس او پیز کو نظر انداز کرتے ہوئے بلا روک ٹوک پاکستان کا سفر کر رہے ہیں اور جو اس جان لیوا وائرس کو پاکستان منتقل کرنے کی وجہ بن رہے ہیں۔

پاکستان حکام کے مطابق بعض پاکستانی نژاد برطانوی شہری کووڈ کے دوران سفر کی جائز یا قانونی وجوہات کی شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں پاکستانی نژاد برطانوی شہری وبا کے دوران اپنی دوہری شہریت کو استعمال کرتے ہوئے مانچسٹر ایئرپورٹ سے پاکستان کا رُخ کر رہے ہیں جہاں کورونا ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس پھیلاؤ میں کورونا کی ’برطانوی قسم‘ کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام نے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کووڈ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔

دوسری جانب الٹا برطانوی حکومت نے پاکستان کو ان ممالک کی ریڈ لسٹ میں شامل کر دیا ہے جہاں سے آنے والے مسافروں کو 1700 پاونڈز ایئرپورٹ پر دینا ہوں گے جس کے بعد انہیں دس روز کے لیے ہوٹل میں قرنطینہ کر دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور زیادہ متاثرہ علاقوں میں وہ شہر سرفہرست ہیں جہاں برطانیہ سے براہِ راست پروازیں آتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 میں 32 ہزار افراد نے برطانیہ سے پاکستان کا سفر کیا اور ان میں سے تقریباً 15 ہزار مانچسٹر ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔ یہ تعداد اس سے نصف ہے جس تعداد نے گزشتہ برس وبا پھیلنے سے پہلے جنوری میں پاکستان کا سفر کیا تھا۔ اسی دوران برطانوی حکومت نے صرف چھٹی منانے کے غرض سے پاکستان کا سفر کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ کچھ پاکستانی نژاد برطانوی ایسی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کا سفر کر رہے ہیں جس کی قانونی اجازت ہے لیکن مانچسٹر کے ایک ٹریول ایجنٹ نے انکشاف کیا کہ کئی افراد غلط بیانی کا سہارا بھی لے رہے ہیں۔ ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ پاکستان کے معاملے میں ہر چھ میں سے تین مسافروں کی سفر کی وجوہات اصل ہیں، جن کا کوئی پیارا بیمار ہے، لیکن باقی تین سے جو ردعمل مل رہا ہے، وہ کووڈ کے دوران یہاں سال گزار چکے ہیں، انہیں برطانیہ میں بہت مشکلات کا سامنا ہے اور وہ بس یہاں سے دور جانا چاہتے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی پاکستان آمد سے میرپور آزاد کشمیر، گجرات اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں کرونا وائرس کی مہلک برطانوی قسم پھیلنے کا پتہ چلا ہے جس کے بعد پاکستان کے سرکاری حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی وجہ برطانیہ سے آنے والے شہری ہیں جو اپنے ساتھ کووڈ کی اس قسم کو لے کر آئے ہیں۔

پاکستان میں کرونا کے متاثرین بڑھنے کے بعد پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچیئن ٹرنر نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ صرف ان وجوہات کی وجہ سے سفر کریں جن کی قانون اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے مسافروں کو روانگی سے قبل ایک ایسا فارم پر کرنا ہوگا جس میں انہیں اپنے سفر کی وجوہات کا ذکر کرنا ہو گا۔ تاہم 2 اپریل کو پاکستان کو ان ممالک کی ریڈ لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں سے صرف برطانوی شہری ہی برطانیہ کا رخ کر سکیں گے۔مانچسٹر میں پاکستانی قونصل جنرل طارق وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ برطانیہ سے لوگ کرونا کی نئی قسم لے کر پاکستان جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تجاویز زیر غور ہیں جو پہلے کی نسبت بہت سخت ہوں گی جس کا مقصد کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے پاکستان کے سفر کی وجوہات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ثقافتی ہے، جہاں لوگ اپنے رشتہ داروں اور شادیوں میں شریک ہونے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وبا کے دوران بھی سفر آسان ہے اور لوگوں کو آنے جانے کےلیے کئی پروازیں دستیاب ہیں۔
دوہری شہریت والے افراد کےلیے ویزے کے بغیر پاکستان جانے کی آسانی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ایسی پابندیاں لاگو کر دی جائیں گی جن کے تحت پاکستان جانے کی وجوہات سے متعلق مزید دستاویزات پیش کرنی پڑ سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button