برطانیہ: عوام میں کھانسنے یا تھوکنے والے کو 2 سال تک قید کی سزا

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے کھانسنے، چھینکنے اور لوگوں کے قریب تھوکنے والے افراد پر کورونا کے مریض ہونے کے شبہ کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں اور ایسے مسائل کے پیش نظر متعدد ممالک میں سخت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں لوگ ڈاکوؤں اور دیگر مجرموں کے مقابلے چھینکنے اور کھانسنے والے افراد سے زیادہ ڈر رہے ہیں اور ایسے ہی افراد کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔کھانسنے اور چھیکنے جیسی علامات کو کورونا وائرس کی ابتدائی علامات بھی تصور کیا جاتا ہے تاہم یہ لازمی نہیں ہے کہ چھینکنے اور کھانسنے والے افراد کورونا سے متاثر ہوتے ہیں۔لیکن ایسے ہی افراد کے لیے برطانیہ کے ریاستوں انگلینڈ اور ویلز نے سخت ضوابط کی تجویز پیش کرتے ہوئے لوگوں کے قریب کھانسنے اور تھوکنے والے افراد کو 2 سال تک قید کی سزا کی تجویز پیش کردی۔
برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں پہلے سے ہی کھانسنے اور تھوکنے والے افراد کے حوالے سے سخت ضوابط نافذ ہیں تاہم نئی تجاویز کے مطابق کھانسنے والے افراد کو 2 سال کی سزا بھی دی جا سکے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ انگلینڈ اور ویلز کے محکمہ انصاف کی جرائم پر سزائیں تجویز کرنے والی کونسل نے ایک مجوزہ بل تیار کیا ہے جس کے تحت لوگوں کے قریب کھانسنے اور تھوکنے والے شخص کو 2 سال تک جیل کی سزا دی جا سکے گی۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ بل کا مقصد خاص طور پر عوامی ملازمین یعنی پولیس، محکمہ صحت اور دیگر سرکاری ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، کیوں کہ بعض لوگ سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ بنا کر ان کے قریب کھانسنے سمیت ان کے قریب تھوکتے ہیں۔
مجوزہ بل کے مطابق جو کوئی بھی شخص پولیس اہلکاروں اور محکمہ صحت کے ملازمین سمیت دیگر سرکاری ملازمین کے قریب تھوکنے سمیت کھانسے گا، اسے مقامی عدالتوں کے ججز اور میجسٹریٹ 2 سال تک کی سزا سنا سکیں گے۔مذکورہ بل برطانیہ کے ریاستوں انگلینڈ اور ویلز میں نافذ کیے جائیں گے تاہم بتایا گیا کہ مذکورہ بل کے قانون بننے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجوزہ بل سے قبل ہی انگلینڈ اور ویلز میں کھانسنے اور تھوکنے پر سخت سزاؤں کے ضوابط نافذ ہیں۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں پولیس یا محکمہ صحت کے ملازمین پر کھانسنے والے افراد کو جیل کی سزائیں دی جاتی ہیں، تاہم وہ سزائیں ایک ماہ سے ایک سال تک ہوتی ہیں لیکن نئے مجوزہ بل میں سزاؤں کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔کھانسنے اور تھوکنے پر سزاؤں میں اضافے کی تجویز ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب کہ انگلینڈ اور ویلز میں لوگوں کے قریب جاکر کھانسنے اور تھوکنے کے واقعات میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔گزشتہ ہفتے ہی انگلینڈ کے شہر اسٹے فورڈشائر میں ایک شخص کو محکمہ صحت کی 2 نرسز کے قرب جاکر کھانسنے پر ایک سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
اس سے قبل انگلینڈ کے ہی شہر ویسٹ مڈ لینڈ میں ایسے تین افراد کو جیل بھیج دیا گیا تھا جنہوں نے پولیس اہلکاروں سمیت دیگر افراد کے قریب جاکر نہ صرف کھانسا تھا بلکہ انہوں نے لوگوں کو دھمکایا تھا کہ وہ لوگوں کو کورونا وائرس میں مبتلا کردیں گے۔ایسے واقعات بڑھنے کے بعد انگلینڈ سمیت ویلز کی انتظامیہ نے لوگوں کے قریب جاکر کھانسنے، تھوکنے یا لوگوں کو کسی بھی بیماری میں مبتلا کرنے کی دھمکی دینے والے افراد کو 2 سال تک جیل بھیجنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں بھی دیگر ممالک کی طرح کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں پر 16 اپریل کی سہ پہر تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ کے قریب جا پہنچی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی 13 ہزار تک جا پہنچی تھیں۔
