برطانیہ کی نئی امیگریشن پالیسی سے جنوبی ایشیائی لوگ ناراض کیوں؟

برطانوی حکومت کی جانب سے امیگریشن کی تعداد میں کمی کیلئے نئے قوانین کے اعلان سے جنوبی ایشیائی ممالک کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مقیم ایک 25 سالہ برطانوی پاکستانی ماہر قانون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم سب گھبراہٹ کا شکار ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے برطانیہ میں مقیم شخص کیلئے فیملی کو سپانسر کرنے کیلئے کم از کم آمدنی کی حد 18 ہزار 600 پاؤنڈز سے بڑھا کر 38 ہزار 700 پاؤنڈز کر دی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ میں 2024 کے موسم گرما میں اپنی پاکستانی منگیتر سے شادی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا اور میرے خاندان کے تمام ٹکٹس، مقامات وغیرہ بک ہو چکے ہیں، اب مجھے اپنی سیونگز استعمال کرنی پڑیں گی اور اس عمل کو جلدی کرنا ہوگا۔ایک 25 سالہ برطانوی سری لنکن خاتون نے بتایا کہ انہیں سری لنکا میں اپنی شادی میں تاخیر کرنی پڑے گی، میں نے پچھلے سال منگنی کی تھی اور ارادہ کیا تھا کہ ہم اگلے سال وہیں شادی کریں گے اور میرے منگیتر کو میرے ساتھ واپس یہاں آنا تھا، میرے گھر والے سب صدمے میں ہیں، اگر ہم شادی وہاں کر بھی لیتے ہیں تو میں اپنے منگیتر کو اسپانسر نہیں کر سکتی کیونکہ میں اتنی آمدنی نہیں کماتی، یہ کوئی معقول اضافہ نہیں ہے، یہ دوگنا اضافہ ہے۔برطانوی حکومت کی نئی پالیسی امیگریشن قوانین اور فیسوں میں تبدیلیوں کے سلسلے میں تازہ ترین اقدام ہے، جولائی 2023 میں برطانوی حکومت نے ورک ویزا اور وزٹ ویزوں کی لاگت میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا اور ترجیحی ویزا، اسٹڈی ویزوں اور اسپانسر شپ کے سرٹیفکیٹس کی لاگت میں تقریباً 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں مائیگریشن آبزرویٹری کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میڈلین سمپشن نے کہا کہ ہوم سیکرٹری کی جانب سے آمدنی کی حد کو 38 ہزار 700 پاؤنڈز تک بڑھانے کے فیصلے سے فردِ واحد پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ اثرات کم آمدنی والے برطانوی شہریوں اور خاص طور پر خواتین اور کم عمر افراد پر پڑیں گے جو کم آمدنی کماتے ہیں۔ویب سائٹ Free Movement.org نے اسے بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ’تاریک دن‘ قرار دیا جو کم از کم آمدنی کی دوگنی سے زیادہ حد کو پورا کرنے سے قاصر ہوں گے، کینٹربری کے آرچ بشپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ نئے ویزا قوانین کا خاندانی تعلقات پر ’منفی اثر‘ پڑے گا، بیرسٹر رشید احمد نے کہا کہ پالیسی میں یہ تبدیلیاں مضحکہ خیز ہیں اور لوگ انہیں عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کر رہے ہیں، کچھ لوگ ڈر رہے ہیں کہ انہیں واپس جانا پڑے گا، دوسرے سوچ رہے ہیں کہ کیا اسے قانونی طور پر چیلنج کیا جائے گا، مجموعی طور پر یہ ہر ایک کیلئے انتہائی افسردہ کن صورتحال ہے۔
