بروس لی مارشل آرٹس کا مائیکل جیکسن کیوں کہلاتا ہے

اگر آپ مارشل آرٹس کے شوقین ہیں تو آپ نے بروس لی کا نام ضرور سنا ہوگا، جو مارشل آرٹ کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا اداکار اور ایک بہترین ڈانسر بھی تھا۔۔
وزن 63 کلوگرام، قد 5 فٹ 7 انچ، پنچ کی طاقت ہیوی ویٹ چیمپئن محمد علی کے برابر، وہ ایک انچ کے فاصلے سے مکا مارتا تھا اور تختہ توڑ دیتا تھا، وہ اپنے فن کا جادوگر تھا۔ بروس لی مارشل آرٹس کا مائیکل جیکسن تھا، اس نے صرف چار فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن اس کے بعد دنیا کی ہر فلم انڈسٹری کا ہر ایکشن ہیرو اس جیسا بننے کی خواہش لے کر سیٹ پر آیا، آج کے بڑے بڑے ایکشن ہیرو اس کی فلموں میں ایکسٹراز کا۔رول لیا کرتے تھے ، وہ صرف 32 سال جیا اور بھرپور جوانی میں اپنے سارے خواب پورے کرکے مر گیا، آخر اس ساڑھے پانچ فٹ کے انسان میں ایسا کیا تھا کہ چند برس کے کیرئیر میں وہ زمانے پر ایسی دھاگ بٹھا گیا کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ہو جو بروسلی کو نہ جانتا ہو ، آج ہم آپ کو ہانگ کانگ کے جادو گر مارشل آرٹس لی کی کہانی بتائیں گے۔
بروسلی کو ایک بڑا فنکار بننے کا خواب ورثے میں ملا تھا کیوں کہ اس کے والد سان فرانسسکو میں بڑا ہالی ووڈ اسٹار بننا چاہتے تھے لیکن وہ لاکھ کوشش کے باوجود اوسط اسٹیج اداکار سے آگے نہ بڑھ سکے اور بروسلی کی پیدائش کے صرف تین برس بعد سان فرانسسکو کا چائنا ٹاؤن چھوڑ کر ہانگ کانگ واپس آگئے جہاں انہوں نے 30 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ بروسلی بھی ان کے ساتھ اکثر سیٹ پر موجود رہتا تھا۔ اپنے والد کے خواب کو پورا کرنے کیلئے بروسلی نے ایک کاغذ پر تحریر کیا تھا کہ وہ ایک دن ہالی ووڈ کا سب سے بڑا اسٹار بنے گا اور اس کا معاوضہ بھی سب اداکاروں سے زیادہ ہوگا۔ لیکن اس کے والد اس کی کاوشوں سے زیادہ مطمئن نہیں تھے کیوں کہ اس وقت کا ہانگ کانگ آج کی طرح بہت ترقی یافتہ نہیں تھا۔
بروسلی کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک انگلی اور انگوٹھے پر پُش اپس نکالتا تھا، دوسری جنگ عظیم کے بعد ہانگ کانگ میں غربت کا دور دورہ تھا اور جرائم بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہے تھے، اس لیے نوجوانوں میں مارشل آرٹس سیکھنے کا شوق بڑھ رہا تھا، اسی وجہ سے بروسلی کے والد نے اس کو مارشل آرٹس کی تربیت دلانے کا فیصلہ کیا۔
بروسلی کے استاد ’اپ مین ‘نے بری محنت سے اپنے شاگرد کو تمام داؤ پیج سکھائے جس کے بعد گلی، محلوں میں بروسلی کی لڑائیاں بڑھنے لگیں یہاں تک کہ پولیس نے بروسلی کے والد کو آخری وارننگ جاری کی جس کے بعد انہوں نے اسے امریکہ میں اپنے دوست کے پاس بھجوا دیا جہاں بروسلی دن میں تعلیم حاصل کرتا اور بقیہ وقت ایک ہوٹل میں ملازمت کرتا تھا، کالج کے تمام دوست بروسلی کی پڑھائی کی بجائے اس کے مارشل آرٹس سے زیادہ متاثر تھے، موقع اچھا جان کر بروسلی نے اپنی مارشل آرٹس کی اکیڈمی شروع کرلی۔
اکیڈمی میں بروسلی کی ملاقات لنڈا نامی لڑکی سے ہوئی اور دونوں میں محبت ہوگئی، دونوں کے خاندان نہیں چاہتے تھے کہ انکی شادی ہو اس لیے بروس لی اور لنڈا نے چھپکے سے کورٹ میرج کرلی۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، کچھ ناراضی کے بعد دونوں کے خاندانوں نے اس شادی کو قبول کر لیا۔
تاہم چینی بروس لی سے بہت زیادہ ناراض تھے وہ بالکل نہیں چاہتے تھے کہ مارشل آرٹس کا فن گوروں کے ہاتھ لگے۔ انہوں نے بروس لی کو منع بھی کیا لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ تب بروس لی کو چیلنج کیا گیا کہ وہ چین کے سب سے بڑے مارشل آرٹس فائٹر سے مقابلہ کرے، اگر وہ جیت گیا تو جو مرضی کرے مگر ہار گیا تو استادی شاگردی کا تمام سلسلہ بند کر دے گا، بروسلی نے چیلنج قبول کیا اور اپنے حریف کو صرف 3 منٹ میں ڈھیر کر دیا۔
اس کے بعد بروسلی نے 1964 میں امریکہ کے معروف لانگ بیچ کراٹے ٹورنامنٹ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا کر لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، خاص طور پر ون انچ پنچ اور انگلی پر پش اپس نکالنے کا ہُنر دیکھ کر گوروں نے اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں۔
بروسلی صرف ایک انچ کے فاصلے سے پنچ مار کر تختہ توڑ ڈالتا تھا جب کہ حریف کو اس پنچ سے کئی گنا فاصلے تک گرا دیتا تھا، بروسلی کی اسی قابلیت کی وجہ سے اسے ایک ہالی ووڈ سیریز میں کاسٹ کیا گیا جوکہ بُری طرح فلاپ ہوگئی لیکن بروس لی نے ہمت نہ ہاری، وہ اس حد تک جنونی تھا کہ اس نے فلم میں بھی فائٹ کے دوران اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی بنا پر فلم کے اسکرپٹ کو تبدیل کرنا پڑا۔ امریکی عوام کسی طور پر بھی کسی ایشیائی کو اپنی فلموں میں ہیرو نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ تب بروس لی نے مایوس ہو کر چین واپس آنے کا فیصلہ کیا جہاں کامیابی اس کی منتظر تھی، سرمایہ دارانہ نظام پر بننے والی بروس لی کی پہلی ہی فلم نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، شہرت کا یہ عالم تھا کہ اس کا اپنی فیملی کے ساتھ باہر نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔
فسٹو فیوری کے نام سے بروس لی کی دوسری فلم نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور اس کے بعد اس کے خواب کی تکمیل کا وقت آیا جب ہالی ووڈ سے اس کو ایک فلم میں کاسٹ کرنے کی آفر ہوئی جوکہ چین اور ہالی ووڈ کی مشترکہ پراڈکشن تھی اس فلم کو Enter The Dragon کا نام دیا گیا، فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے پر بروسلی ایک مہلک دماغی مرض کا شکار ہو گیا جس کے علاج کیلئے وہ امریکہ بھی گیا۔ ڈاکٹروں نے اسے ابتدائی طور پر فٹ قرار دیا، لیکن چین واپسی کے کچھ مہینوں بعد وہ ایک مرتبہ پھر سردرد کا شکار ہوگیا۔ ایک روز اسکے سر میں پھر درد اٹھا تو وہ دوا لے کر آرام کیلئے سو گیا۔ لیکن پھر وہ کبھی نہیں اٹھ سکا۔ اس کی اچانک موت نے اس کے پرستاروں کو گھما کررکھ دیا۔
بروس لی کی فلم Enter the Dragon اس کی موت کے صرف ایک مہینے بعد ریلیز ہوئی جس نے نہ صرف بے پناہ مقبولیت حاصل کی بلکہ ہالی ووڈ کی تاریخ بھی بدل ڈالی جسکے بعد ہالی ووڈ میں بھی ایشیائی ہیروز کو کاسٹ کیا جانے لگا۔
