بزدار اپنے پھوپھا کی غیر قانونی تعیناتی پر مشکل میں

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پولیس سروس سے ریٹائیر ہونے والے اپنے پھوپھا کو خلاف قانون ایک سرکاری عہدے پر تعینات کرنے کے کیس میں پھنستے نظر آتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے اپنے پھوپھا امیر تیمور کی بطور ڈائریکٹر سپیشل برانچ جنوبی پنجاب تعیناتی پر لاہو ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
عدالت عالیہ میں پٹیشنر مرزا محمد ادریس نے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے ریٹائرڈ پھوپھا امیر تیمور بزدار کو ایک نیا عہدہ تخلیق کر کے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر تین سال کے لیے بطور ڈائریکٹر سپیشل برانچ جنوبی پنجاب تعینات کیا ہے جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ درخواست گزار کا موقف یے کہ امیر تیمور بزدار کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 3،4 اور 27 سے متصادم ہے، اور ان کی 25 مارچ 2021 کو کی گئی تعیناتی کا حکم نامہ غیر قانونی ہے، لہازا عدالت اس غیر قانونی و غیر آئینی حکم کو کالعدم قرار دے۔ چنانچہ ملتان بنچ نے حکومت پنجاب سے اس معاملہ پر تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔
ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

Back to top button