بزدار کا جانا طے ہو چکا ہے، صرف رخصتی طے ہونا باقی ہے

اگرچہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک بار پھر اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں تاہم اندر کی خبررکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کپتان نے بزدار کو حالیہ دورہ لاہور میں آخری شاباش دی ہے اور ممکنہ طور پر انہیں ستمبر تک بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی فارغ کردیا جائے گا۔
میدانِ سیاست میں نسبتاً نووارد، نظامِ حکومت سے ناآشنا اور جنوبی پنجاب کے ایک انتہائی پسماندہ خطے سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار کو جب پنجاب جیسے بڑے اور اہم صوبے کے وزیرِاعلیٰ کے منصب کے لیے چنا گیا، تب ہی سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے ان پر دباؤ سامنے آتا رہا ہے۔ ہر بار ان پرجب بھی دباؤ آتا ہے تو خود وزیرِاعظم عمران خان ان کی مدد کو آتے ہیں۔ ہمیشہ وہ بظاہر جاتے جاتے پھر بچ جاتے ہیں۔ یوں تقریباً دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار یہ خیال کرتے ہیں کہ بزادر کے نہ جانے میں ان سے زیادہ دوسروں کا ہاتھ ہے۔ نہ تو ن لیگ چاہتی ہے کہ بزدار فارغ ہوں نہ ہی ق لیگ اور نہ ہی ان کے متبادل پر پارٹی میں اتفاق ہوپاتا ہے۔
حالیہ دنوں ایک بار پھرخبریں گرم ہوئیں کہ بزدار کی چھٹی ہونے والی ہے لیکن کپتان لاہور آئے اور بزدار کو تھپکی دے کر چلے گئے۔ اس حوالے سے مبصرین کا ماننا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی جزوی طور پر یہ دباؤ ان کی جماعت کے اندر ہی سے آ رہا ہے۔ رواں برس ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے چند اراکین صوبائی اسمبلی نے کھلے عام ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا تھا کہ پنجاب حکومت ان کے متعلقہ حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈ فراہم نہیں کر رہی۔ کئی ارکان نے اس ضمن میں براہِ راست وزیرِ اعلٰی کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اب بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے 15 سے 20 ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جنھیں تحفظات ہیں کہ انھیں اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز نہیں دیے جا رہے۔
سنیئر صحافی اورتجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا استدلال ہے کہ اس مرتبہ عثمان بزدار کو آخری موقع ملا ہے۔ان کے مطابق جماعت کی اندر سے بھی وزیرِاعلٰی پر دباؤ ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جو مقتدر حلقے ہیں وہ بھی ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان وزیرِاعلٰی پنجاب کا کِلہ مضبوط کر کے نہیں گئے۔ وہ انھیں کمزور کر کے گئے ہیں کیونکہ بزدار کے دستِ راست ملک اسد کھوکھر اور دو اعلیٰ بیوروکریٹس کو حیران کن طور پر کپتان نے ہی فارغ کروایا ہے۔
تجزیہ کاروں کےنزدیک عثمان بزدار کے نہ ہٹائے جانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے متبادل پر اتفاق نہیں ہو پاتا۔ جب بھی کوئی نام سامنے آتا ہے تو جماعت میں اس پر اعتراضات اٹھ جاتے ہیں اور ایسی صورت میں کہا جاتا ہے کہ عثمان بزدار کو ہی چلنے دیا جائے۔ تحریک انصاف کے اندر ایک بہت مضبوط رائے یہ بن رہی ہے کہ دو سال گزر چکے ہیں اور تین سال بعد دوبارہ الیکشن میں جانا ہے، لوگوں کو کیا بتائیں گے کہ کیا کارکردگی ہے پنجاب میں۔پی ٹی آئی نے اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ وزیرِاعظم عمران خان بھی بعض روحانی مشوروں کی وجہ سے نہیں چاہتے کہ اس وقت عثمان بزدار کو ہٹایا جائے مگر بلدیاتی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دو ماہ تک بزدار کی چھٹی ہوجائے گی تاہم ایسی صورت میں ان کی جماعت کے اندر جہانگیر ترین کا گروپ بھی متحرک ہو سکتا ہے اور ان کے علاوہ ن لیگ متحرک ہو سکتی ہے کیونکہ عثمان بزدار کے روابط ن لیگ کے کچھ لوگوں سے بھی ہیں۔
