چیف سیکرٹری کی تبدیلی، اسٹیبلشمنٹ اور کپتان میں اختلافات کا شاخسانہ

وزیراعظم عمران خان نے آٹا چینی اسکینڈل میں وزیر اعلی پنجاب کے ملوث ہونے کے تگڑے ثبوت ہونے کے باوجود اس مرتبہ بھی عثمان بزدار کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو چند ماہ بعد ہی فارغ کر کے جواد رفیق ملک کو صوبے کا نیا چیف سیکریٹری لگایا ہے۔ کپتان کے اس فیصلے کو ان کے اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتے ہوئے اختلافات اور اپنی سیاسی قوت کے اظہار سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بزدار کو ہٹائے جانے کا مطالبہ بدستور اپنی جگہ موجود ہے. یاد رہے کہ ہٹائے جانے والے چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان دراصل فوج میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیچ میٹ تھے۔
پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے اٹھارہ مہینوں کے اقتدار کے دوران تمام تر سکینڈلز اورناکامیوں کے باوجود کپتان کے چہیتے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار تو اپنے عہدے پر بدستور قائم ہیں لیکن ان کی شکایت پر اب تک تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جیز تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ پنجاب میں حالیہ تبدیلی ایک بار پھر بیوروکریسی کے حصے میں آئی حالانکہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ آٹا چینی سکینڈل میں عثمان بزدار کے ملوث ہونے کے واضح ثبوتوں کی روشنی میں کپتان اس مرتبہ ان کی چھٹی کروا دیں گے مگر سارا ملبہ ایک بار ہھر چیف سیکرٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان پر ڈال دیا گیا۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف حکومت نے گزشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران اکبر خان درانی، یوسف نسیم کھوکھر اور اعظم سلیمان کو بطور چیف سیکرٹری عہدوں سے ہٹایا ہے اور اب گریڈ22 کے کے ڈی ایم جی افسر جواد رفیق ملک نئے چیف سیکریٹری پنجاب لگادیئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 23 اپریل کو عثمان بزدار نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں صوبے کے مختلف امور بالخصوص آٹا چینی سکینڈل زیربحث آئے۔ کہا جاتا ہے کہ عثمان بزار نے وزیراعظم سے چیف سیکریٹری اعظم سلیمان کی شکایت کی کہ وہ ان کی توقعات کے مطابق ڈیلیور کرنے میں ناکام ہیں جس کے بعد وزیراعظم نے اعظم سلیمان کو عہدے سے ہٹا کر سیکرٹری مواصلات جواد صدیق ملک کو پنجاب میں نیا چیف سیکرٹری تعینات کیا ہے۔
جواد رفیق ملک کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ اپنے پولیٹیکل باس سے بنا کر رکھتے ہیں۔ جب تک کسی معاملے پر ان کی رائے طلب نہ کی جائے یہ کسی بھی قسم کی از خود مداخلت نہیں کرتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جواد رفیق ملک کی بطور چیف سیکرٹری پنجاب تعیناتی سے تحریک انصاف حکومت اور سول سرونٹس کے مابین معاملات ممکنہ طور پر بہت بہتر ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ جواد رفیق ملک کی اصل پہچان ایک فوڈ سپیشلسٹ کی ہے کیونکہ وہ ایک عرصے تک پنجاب میں بطور ڈائریکٹر فوڈ کام کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ جواد رفیق ملک نے پنجاب میں بطور کمشنر لاہور، سیکرٹری بلدیات، صحت، کمیونیکیشن اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیت کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان اسٹیبلشمنٹ کی چوائس تھے جبکہ جواد رفیق ملک وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی چوائس ہیں جو کہ پچھلے چیف سیکرٹری کی من مانیوں سے کارنر ہو چکے تھے۔
خیال رہے کہ 23 اپریل کو وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کیا جہاں ایک لمبے عرصے کے بعد دونوں کے مابین لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کو ہٹائے جانے کا معاملہ اس ملاقات میں بھی زیر بحث آیا ہوگا۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ کپتان نے ایک مرتبہ پھر عثمان بزدار کی چھٹی کروانے کی بجائے آرمی چیف کے بیچ میٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے سمجھے جانے والے میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو گھر بھجوا کر اپنے طاقتور اور بااختیار وزیراعظم ہونے کا تاثر دیا ہے۔
یاد رہے کہ سیاسی حلقوں میں اسوقت یہ تاثر پایا جاتا یے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں پہلے جیسے مثالی تعلقات نہیں رہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عثمان بزدار کی بجائے کسی ایسے تجربہ کار شخص کو وزیراعلی پنجاب بنانے کی خواہاں ہے جو شہباز شریف کی گڈگورننس کے تاثر سے بڑھ کر پرفارمنس دے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے وزیراعظم کو کئی مرتبہ باور کروایا گیا ہے کہ چونکہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لہٰذا اگر حکومت کامیاب ہونا چاہتی ہے تو اسے پنجاب میں ڈیلیور کرنا ہوگا جبکہ عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے تحریک انصاف کسی صورت گڈ گورننس کو فروغ نہیں دے سکتی کیونکہ گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں بزدار کی نااہلی کھل کر سامنے آچکی ہے۔
