بزدار کی نیب میں طلبی چھٹی کا پیش خیمہ ہے یا ایک ڈرامہ؟


قومی احتساب بیورو کی جانب سے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو غیر قانونی طور پر ایک ہوٹل کو شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کرنے کے الزام میں طلب کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا بزدار کو گھر بھجوانے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے یا نیب بیلنسنگ ایکٹ کے طور پر کوئی ڈرامہ رچا رہا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق بزدار پر الزام ہے کہ انہوں نے ہوٹل کو یہ غیرقانونی لائسنس دلوانے کے عوض پانچ کروڑ روپے کی رشوت وصول کی۔
نیب ذرائع کے مطابق لاہور ایئر پورٹ کے قریب زیر تعمیر ہوٹل نے پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ ایکٹ 1976 اور رولز 1977 کے 4/5 اسٹار کی درجہ بندی کے تحت محکمہ ٹورسٹ سروسز پنجاب سے رجسٹریشن اور لائسنس حاصل کیے بغیر ایل 2 شراب کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو درخواست دی تھی۔ ایل-2 شراب کے لائسنس کے حصول کے لیے 4 یا 5 اسٹار ریٹنگ کی شرط ضروری تھی کیونکہ 2009 میں وزیر اعلیٰ نے ایک ایسی پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے تحت صرف 4/5 اسٹار ریٹنگ والے ہوٹلز کو ایل-2 شراب لائسنس دیا جاتا ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے سی ایم پالیسی 2009 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور پنجاب کے محکمہ ٹورسٹ سروسز سے ہوٹل کی رجسٹریشن کے بغیر سن 2019 میں ہوٹل میں لائسنس دیا تھا۔ اس خلاف ورزی کا سب سے واضح پہلو یہ ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے وزیراعلیٰ کو یہ معاملہ بھجوایا تھا اور کہا تھا کہ یہ سی ایم پالیسی 2009 کے خلاف ہے تاہم سی ایم نے محکمے کو پھر بھی ہوٹل کو لائسنس جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کام کے عوض عثمان بزدار کے ایک قریبی رشتے دار کو 5 کروڑ روپے رشوت دیے گئے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عثمان بزدار کو غیر قانونی شراب لائسنس کیس میں نیب کی جانب سے طلبی کا نوٹس دراصل انہیں عہدے سے ہٹانے کا بہانہ ہے۔ واضح رہے کہ نیب لاہور کے دفتر سے عثمان بزدار کے خلاف سادہ کاغذ پر الزامات کی تفصیلات میڈیا سے شیئر کی گئی تاہم اس ضمن میں باقاعدہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بننے والے ایک بڑے ہوٹل کو غیر قانونی طور پر شراب بیچنے کا لائسنس دیتے ہوئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بزدار نے مذکورہ لائسنس جاری کر کے سی ایم پالیسی 2009 کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا انہیں وضاحت کے لیے 12 اگست کو نیب آفس لاہور طلب کیا گیا ہے۔ بزدار پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ڈی جی ایکسائز کے اختیارات کا غیر قانونی طور پر استعمال کیا اور ایسا کرتے ہوئے پالیسی اور قوانین کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اس اہم ڈویلپمنٹ کے بعد کچھ تجزیہ کار اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ نیب کے ذریعے عثمان بزدار کی طلبی کا نوٹس دراصل انہیں ملعون و مطعون کر کے وزارت اعلی سے ہٹانے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
خیال رہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے کئی تگڑے رہنما عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب برقرار رکھنے کے حق میں قطعاً نہیں تاہم وزیراعظم عمران خان کسی روحانی اشارے کی وجہ سے عثمان بزدار کو فارغ کرنے سے انکاری ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے بعد کپتان نے بزار کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ کپتان نے ایک بار پھر اپنا وزن بزدار کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اس وقت بھی تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وقتی طور پر بزدار کے سر سے لٹکتی ہوئی تلوار ٹل گئی ہے تاہم مناسب وقت پر بزدار کو ضرور ٹھکانے لگا دیا جائے گا کیونکہ وہ اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کے خیال میں نیب کی جانب شراب کا غلط لائسنس دینے پر عثمان بزدار کو طلب کرنا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ رانا ثناءاللہ کے بقول نیب صرف مریم نواز کو بلانا چاہتا تھا مگر ادارے کو غیرجانبدار ثابت کرنے کیلئے عثمان بزدار کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ خیال رہے کہ عثمان بزدار کو ایک ایسے وقت میں نیب نے بلاوا بھیجا ہے جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نئے کیسز دائر کیے گئے ہیں جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور چھوٹے بھائی شہباز شریف کو بھی 200 کنال سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں انکوائری کے لئے طلب کیا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور نواز شریف کے بھتیجے حمزہ شہباز شریف پر بھی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ان حالات میں رانا ثنا اللہ خان کا موقف کسی حد تک درست نظر آتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے بیلنسنگ ایکٹ کے تحت نیب کے ذریعے بزدار کو طلبی کا نوٹس بھجوایا ہے تاکہ یہ ڈھونگ رچایا جاسکے کے کہ نیب کی نظر میں میں حکومتی اور اپوزیشن رہنما برابر ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے بزدار کے خلاف شراب کے لائسنس کے کیس میں الزامات لگانے پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ نیب عثمان بزدار کا آٹا اور چینی کے میگا کرپشن سکینڈلز پر احتساب کرنے کے بجائے انہیں صرف ایک ‘شراب فروش’ ثابت کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘عثمان بزدار ایک کٹھ پتلی ہیں اور سب سے زیادہ کرپٹ وزیر اعلیٰ ہیں تاہم ان کے خلاف شراب فروخت کرنے کے الزامات قابل مذمت ہیں’۔ پیپلز پارٹی رہنما نے حیرت کا اظہار کیا کہ بزدار کا شوگر ملز کو سبسڈی دینے اور گندم ‘غائب’ کرنے کے الزامات پر احتساب کرنے کے بجائے نیب انہیں ایک غیر سنجیدہ مقدمے میں طلب کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button