بشریٰ انصاری نے ناقدین کو کھری کھری کیوں سنائیں؟

سینیئر اداکارہ، گلوکارہ و پروڈیوسر بشریٰ انصاری کی جانب سے انسٹاگرام پر کچن میں کھچوائی گئی اپنی تصویر شیئر کرنے اور پراٹھے بنانے کی کوشش کرنے کی پوسٹ شیئر کرنے پر تنقیدکرنے والے ناقدین کو کورا جواب دے دیا۔

خیال رہے کہ انسٹا گرام پراداکارہ نے کچن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پراٹھا بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کو اپنے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے اور ان کی پراٹھے بنانے کی ویڈیو دیکھنے کا کہا۔

تاہم صارفین نے ان کی ویڈیو دیکھنے کے بجائے ان کی تصویر پر کمنٹس کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں طعنے دیے کہ اتنی بڑی عمر ہوجانے کے باوجود تاحال انہیں پراٹھا بنانا نہیں آیا۔

بعض صارفین نے ان کی پوسٹ پر قدرے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اس عمر میں بھی پراٹھا بنانا نہیں آ رہا جبکہ بعض افراد نے انہیں عمر کے طعنے بھی دیے کہ وہ انہیں دیکھ دیکھ کر بوڑھے ہوگئے لیکن وہ بوڑھا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

بعض افراد نے نشاندہی کی کہ بشریٰ انصاری نے لکھا ہے کہ وہ پراٹھا بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں پراٹھا بنانا نہیں آتا۔

بعد ازاں بشریٰ انصاری نے انسٹاگرام پر ہی ایک مختصر ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ اپنا تیار کردہ پراٹھا کھاتی دکھائی دیں۔پراٹھا کھانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ ان پر تنقید کرنے والے لوگ اگر تھوڑی سے زحمت کرکے یوٹیوب پر ان کی پراٹھا بنانے کی ویڈیو دیکھ لیتے تو بات کو سمجھ جاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اداکارہ کی جانب سے یوٹیوب پر شیئر کی گئی مختصر ویڈیو میں انہیں آلو کا پراٹھا بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری 1978 سے شوبز انڈسٹری کا حصہ ہیں اور طویل عرصے سے انڈسٹری پر راج کررہی ہیں۔ حالیہ دنوں بشریٰ انصاری کا ایک انٹرویو بہت وائرل ہوا تھا جس میں بشریٰ انصاری نے بتایا تھا کہ  بچپن سے لے کر آج تک لوگ انہیں ’گوپی‘ کے نام پکارتے ہیں۔’فیملی اور دوست احباب مجھے پیار سے گوپی بلاتے ہیں، یہ ہندی نام ہے جو میرے والد نے رکھا تھا، میرے بھارتی دوست یہ نام سن کر بہت خوش ہوتے ہیں۔‘انہوں نے شوبز انڈسٹری کی اداکاراؤں کومشورہ دیا تھا کہ اپنے کریئر کے دوران ہی شادی کرکے بچے پیدا کرلیں، اگر آپ یہ سوچیں گے کہ بچہ آنے کے بعد کام رُک جائے گا تو پھر کچھ نہیں ہوگا، میرے علاوہ اداکارہ روبینہ اشرف، صبا حمید اور ان جیسی دیگر خواتین نے اپنے کام کے ساتھ بچوں کی پرورش بھی کی۔‘

Back to top button