بشریٰ بی بی کیا چورن بیچ کر کپتان کی شریک حیات بنیں؟

پاک پتن میں بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے نام کا ڈنکا ایک عرصہ سے بج رہا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمران خان کی ان تک رسائی نہیں ہوئی تھی اور وہ ملتان کے ایک پیر کے آستانے پر حاضری دیا کرتے تھے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے عمران خان جب سٹیج سے گر کر زخمی ہوئے تھے تو اس کے پیچھے ملتانی بابا کی ناراضی کارفرما تھی۔ دراصل خان صاحب جب ملتانی پیر کے بلانے کے باوجود ان کے آستانے پر حاضری کے لئے نہیں گئے تو وہ جلال میں آگئے اور پھر کپتان کو گروا دیا۔ اس قصے میں کتنی سچائی ہے؟ یہ خان صاحب یا ان کے احباب ہی بتا سکتے ہیں، تاہم یہ سچ ہے کہ پاک پتن کی پیرنی پرعمران خان کا اعتقاد دن بدن پکا ہوتا جارہا تھا۔
پنکی پیرنی کا میڈیا میں چرچا بھی خان صاحب کی وجہ سے ہی ہوا کیونکہ وہ کسی بھی نئی مہم جوئی سے پہلے اپنے دوستوں کے ساتھ پاک پتن شریف جانا نہیں بھولتے تھے۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بشریٰ بی بی کے کردار کو سوشل میڈیا نے متنازعہ بنایا ہے؟ عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ ایک دن صبح بشریٰ بی بی نے انھیں یاد دلایا کہ آپ ملک کے وزیراعظم ہیں، عوام کے مسائل پر کڑھنے کی بجائے انہیں حل کیوں نہیں کرواتے؟
خان صاحب اتنے سادہ ہیں کہ وہ 22 سال کی جد و جہد کے بعد وزیراعظم بن کر بھی بھول گئے کہ وہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہو چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کپتان اپنے وزیراعظم بننے کا کریڈٹ اسٹیبلشمنٹ کو دینے کی بجائے بشری بی بی کو دیتے ہیں جس نے انہیں الیکشن سے بہت پہلے بتا دیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کا راستہ ان دونوں کے ستاروں کے ملنے سے ہوگا اور ان ستاروں کے ملاپ کا ایک ہی راستہ ہے کہ کپتان اور پنکی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجائیں۔
دوسری طرف کپتان کے ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ وہ بات جانتا تھا جو بشریٰ بی بی نے کپتان کو بتائی یعنی وزیراعظم بننے کی بات۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ اسی روز ہو گیا تھا جس روز اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو اقتدار سے نکالا تھا۔ اور یہ بات گلی کے بچوں کی طرح بشریٰ بی بی کو بھی معلوم تھی لہذا اگر کپتان کو کسی نے ماموں بنا کر جیون ساتھی بنا لیا ہے تو اس میں قصور انکی اپنی سادگی کا ہے کسی اور کا نہیں۔
کون نہیں جانتا کہ جب خان صاحب وزارت عظمیٰ کی کرسی کی طرف بڑھ رہے تھے تو میڈیا کو بھی کپتان کی زبانی یہ خبر ہوئی کہ یہ سب کمالات "پنکی پیرنی” کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خان صاحب کوئی غلط فیصلہ کرتے ہیں یا یو ٹرن لیتے ہیں تو لوگ کہنے لگتے ہیں کہ کہیں بشریٰ بی بی نے کوئی اُلٹا منتر تو نہیں پڑھ دیا؟ اور تو اورخان صاحب کی چہیتی سابقہ اہلیہ جمائما خان بھی انھیں مسائل میں گھرا دیکھ کر چپ نہیں رہ سکیں اور بالآخر بول پڑیں۔ جمائما نے پنکی بی بی کو جادو گرنی قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر پر ایک پوسٹر شیئر کی جس میں بشریٰ بی بی کوئی روحانی عمل کر رہی ہیں جبکہ کپتان ایک تابعدار مرید کی طرح بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ پوسٹر میں ایک طرف جمائما بھی پریشان بیٹھی ہیں لیکن اس سے کہانی واضح نہیں ہوتی کیونکہ اصل کہانی اس سوال میں چھپی ہے جو پوسٹر پر بڑے واضح انداز میں درج ہے۔۔۔”تو نے کیسا جادو کیا؟”
یہ جادو ہی تو تھا، خان صاحب فیض حاصل کرنے پنکی پیرنی کے ڈیرے پر کیا گئے، پاکپتن شریف ہی کے ہو کر رہ گئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ملکی سیاست میں تبدیلی کی ہوا چل نکلی تھی اور اقتدار کے ہما کوخان صاحب کے سر پر بیٹھنے کی پریکٹس کروائی جا رہی تھی۔ پنکی پیرنی نے بھی اس موقع پر فیصلہ کن عمل کرنے کی ٹھان لی، ایک روز خان صاحب ان کے پاس حاضری دینے پہنچے تو بشری بی بی نے ان کو بتایا کہ انہیں بشارت ہوئی یے کہ اب پاکستان کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے اور اسے سنوارنے کے لیے ضروری ہے کہ میں آپ کے عقد میں آ جاؤں۔ اسی عمل کے نتیجے میں آپ وزیراعظم بنیں گے اور پھر پاکستان کی قسمت سجائیں گے۔ چنانچہ خان صاحب مان گئے اور ریحام خان سے جان چھڑوانے کی کوششوں کا آغاز کیا۔
خان صاحب پنکی پیرنی کی روحانیت کے اسیر تو تھے ہی، اب دل بھی انھیں سونپ دیا لیکن سوال یہ تھا کہ ریحام خان کو راستے سے کیسے ہٹایا جائے؟ خیر جب کپتان نے اپنی دوسری اہلیہ کو سنی سنائی جھوٹی سچی باتوں پر چارج شیٹ کرنا شروع کیا تو یہ مرحلہ بھی باآسانی سَر ہو گیا۔
ریحام چیختی ہی رہ گئی کہ عمران یہ زیادتی اپنی پیرنی کے کہنے پر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پنکی بی بی ہی تھیں، جن کے کہنے پر خان صاحب نے نہ صرف انھیں طلاق دی بلکہ اپنے بہت سے دوستوں سے بھی دور ہو گئے۔
دوسری طرف بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر خاور مانیکا پر نجانے کیا منتر پڑھ کر پھونکا کہ وہ انھیں خوشی خوشی طلاق دینے پر راضی ہو گئے۔ بعد ازاں دونوں نے لاہور میں خفیہ شادی کرلی۔ پھر انتخابات کا مرحلہ آیا اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کپتان کو وزیراعظم بنا دیا۔ یوں عمران کا وزیراعظم بننے کا برسوں پرانا سپنا تو پورا ہوا ہی لیکن ساتھ میں بشریٰ بی بی کا خاتون اول بننے کا خواب بھی پورا ہوگیا۔
