بشریٰ بی بی کیسے کپتان کی فیصلہ سازی پر اثر ڈالتی ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کے اس دعوے کے برعکس کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم غیر سیاسی اور گھریلو خاتون ہیں، شواہد اور واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون اول عرف پنکی پیرنی ملک کے اہم ترین سیاسی اور انتظامی معاملات کے حوالے سے فیصلہ اندازی پر پوری طرح سے اثر انداز ہورہی ہیں۔
اگرچہ عمران خان کے نکاح میں آنے سے قبل ہی بشریٰ بی بی نے انہیں سیاسی مشوروں سے نوازنا شروع کردیا تھا اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو انہی کے عملیات اور وظائف کی مرہون منت قرار دیا جاتا ہے تاہم کپتان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں ان کا واضح اثر ورسوخ نظر آتا ہے۔ مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت قائم ہونے کے بعد جب مختلف صوبوں میں گورنرز، وزرائے اعلیٰ لگانے کا مرحلہ درپیش آیا تو کہا جاتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے روحانی حساب لگا کر وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ کس کو کیا عہدے دیئے جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ بشری بی بی نے کپتان کو مشورہ دیا تھا چونکہ ان کا نام عمران اردو کے حرف ع سے شروع ہوتا ہے اس لیے وزیراعلی پنجاب بھی وہ ہونا چاہیے کہ جس کا نام ع سے شروع ہو اور وہ کسی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ عثمان بزدار کو عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب نامزد کیا۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اصل وجہ یہ تھی کہ عثمان بزدار پنکی پیرنی کی قریبی ترین سہیلی فرح کا خاوند ہے۔
بعدازاں جب صدر پاکستان کے عہدے پر انتخاب کا مرحلہ آیا ہوں تو مبینہ طور پر بشریٰ بی بی نے حساب لگایا کہ صدرمملکت کا نام بھی ع سے شروع ہونا چاہیے۔ پارٹی میں موجود سینئر رہنماؤں پر نظر دوڑائی گئی تو قرعہ فال عارف علوی کے نام نکلا۔ اسی طرح گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی حرف ع اور بشریٰ بی بی کی وجہ سے نوازے گئے۔ معاملہ یہیں نہیں تھما بلکہ بعد ازاں کابینہ میں شامل کئی وزراء کے حوالے سے بھی کہا جاتا رہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کی سفارش پر ہی کیبنٹ میں شامل کیا گیا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو انکے عہدے سے فارغ کروانے اور ان کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو لانے میں بھی بشریٰ بی بی کی کرم فرمائی شامل تھی۔
مرکز اور پنجاب میں کئی اہم عہدوں پر افسران کے تقرر و تبادلوں پر بھی آوازیں اٹھتی رہیں کہ ان سب کو بشریٰ بی بی کے کہنے پر ہی لگایا اور ہٹایا جارہا ہے۔ سابق ڈپٹی کمشنر لاہور صالحہ سعید کے بارے میں مشہور تھا کہ انہیں بشریٰ بی بی کی سفارش پر تعینات کیا گیا تھا۔ 2018 میں ایک واقعے میں جب بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا اور ان کی بیٹیوں کے ساتھ پاکپتن میں مبینہ طور پر پولیس افسران نے بدتمیزی کی تو بشریٰ بی بی کی ناراضی کی وجہ سے ہی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کیا تھا۔ ان دنوں ایسا ہی معاملہ گوجرانوالہ میں پیش آیا جب تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی کی پکی سہیلی فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر کا فلنگ سٹیشن گرانے کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ کروادیا گیا۔ اس وقت بھی یہی الزام لگا تھا کہ یہ سب بشریٰ بی بی کی ایماء پر ہوا ہے۔ یاد رہے کہ عثمان بزدار فرح کے خاوند احسن جمیل گجر کے بہترین دوست ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملے پر بھی بشریٰ بی بی نے کپتان کو نیا آرمی چیف لگانے کا مشورہ دیا تھا تاہم حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے میں ہی عافیت جانی۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی کپتان سے سخت ناراض ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ضعیف الاعتقاد ثابت ہوئے ہیں، ان کی جانب سے بھی کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے کہ ملک کے اہم سیاسی اور انتظامات معاملات سے متعلق کلیدی فیصلوں میں بشریٰ بی بی کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے گیا اور فیصلے روحانیت کی بجائے یے عقل کی بنیاد پر کیے جانے چاہیے۔
تحریک انصاف کی اٹھارہ مہینے کی حکومت میں کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی ملک کے اہم سیاسی و انتظامی معاملات میں بھرپور ان پٹ دیتی ہیں، لہذا وزیراعظم عمران خان کا یہ دعویٰ سچ نہیں لگتا کہ مریم نواز کے برعکس بشریٰ بی بی سو فیصد گھریلو اور غیر سیاسی خاتون ہیں اور یہ کہ ان کے بارے میں رائے زنی کرنے والی کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
