بغیر تصفیے کے امریکی انخلا پاکستان کے گلے پڑ گیا

یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ افغانستان کی خانہ جنگی کا کوئی فوجی حل نہیں، امریکہ کا طالبان اور افغان حکومت کے مابین کوئی سیاسی تصفیہ کرائے بغیر افغانستان سے نکل جانا پاکستان کے لیے ایک بڑی پریشانی کا سبب بن سب سے زیادہ پریشانی چکا ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ نے ایک ایسا فیصلہ کیوں کیا جس سے پوری دنیا میں یہ تاثر گیا کہ وہ افغانستان میں 20 سال سے لڑی جانے والی جنگ طالبان کے ہاتھوں ہار گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کی ڈیڈ لائن 11ستمبر ہے لیکن ابھی سے حالات یہ ہیں کہ افغانستان کے 407 اضلاع میں سے 200 پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے اور 124 اضلاع پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔
افغانستان میں خانہ جنگی میں مصروف طالبان اور اشرف غنی حکومت میں کوئی سیاسی تصفیہ کرائے بغیر وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کرنے والے صدر بائیڈن نے افغان جنگ کو ناقابلِ فتح قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد اسامہ بن لادن کو سزا اور دہشتگردی کو امریکا کے لیے خطرہ بننے سے روکنا تھا اور یہ دونوں مقاصد حاصل ہوچکے ہیں۔ صدر بائیڈن نے افغانستان کو 20 سال حالتِ جنگ میں رکھنے اور افغانوں کی بے گناہ ہلاکتوں پر ایک لفظ بھی نہ کہا اور انتہائی ‘کاروباری’ انداز میں کہا کہ وہ افغان قوم کی تعمیر کے لیے نہیں گئے تھے اور یہ کام افغانوں کا ہے کہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کریں۔
افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار آصف شاہد کا کہنا ہے کہ امریکا کی افغانستان سے واپسی انتہائی پُراسرار انداز میں ہوئی۔ امریکیوں نے بگرام ایئربیس رات کے اندھیرے میں بجلی بند کرکے خالی کیا اور مقامی کمانڈر کو اطلاع تک نہ دی۔ اب 31 اگست کی نئی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی امریکی افغانستان چھوڑ چکے ہیں اور صرف 650 امریکی فوجی کابل میں چھوڑے گئے ہیں جو امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی کا کام کریں گے۔ امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی طالبان کی پیشقدمی تیز ہوچکی تھی اور وہ ہر روز نیا علاقہ قبضے میں لے رہے ہیں، لیکن امریکیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی انخلا سے پہلے ہی افغان فورسز نے ہتھیار ڈالنا شروع کردیے تھے جبکہ کئی اضلاع اور بارڈر پوسٹس طالبان نے لڑے بغیر ہی قابو کرلیے۔ اب حالت یہ ہے کہ طالبان تاجکستان، ازبکستان، ایران اور پاکستان کے ساتھ بارڈرز کراسنگ پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں اور بڑے صوبائی دارالحکومت طالبان کے نشانے پر ہیں۔
شمالی افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی ان کی بہترین جنگی حکمتِ عملی کی تصویر ہے۔ اگر شمالی افغانستان پر طالبان کا کنٹرول مضبوط ہوجاتا ہے، جیسے انہوں نے شمال کے بڑے حصے پر قابو پالیا ہے، تو افغان حکومت اپنے روایتی مددگار علاقوں کا کنٹرول کھونے کے بعد مزاحمت کے قابل ہی نہیں رہے گی اور اس کے بکھرنے کا امکان مزید بڑھ جائے گا۔
آصف شاید کے مطابق طالبان اور کابل حکومت کی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس سال یکم مئی کو طالبان کے کنٹرول میں صرف 73 اضلاع تھے جبکہ حکومت کے کنٹرول میں 115 اضلاع تھے، لیکن 15 جولائی تک صورتحال بدل گئی اور طالبان کا کنٹرول 73 اضلاع سے بڑھ کر 195 اضلاع تک پھیل گیا جبکہ کابل حکومت 115 اضلاع سے سکڑ کر 75 اضلاع تک محدود ہوگئی ہے۔ ان حالات میں شمالی افغانستان اگر مزاحمت میں ناکام رہا تو مشرق، مغرب اور جنوب میں لڑائی کی نوبت ہی نہیں آئے گی جبکہ وسطی افغانستان پر بھی طالبان کا قبضہ آسان ہوجائے گا اور وہ جلد کابل شہر کے دروازے پر ہوں گے۔
ان حالات میں اب سوال پھر وہی ہے کہ امریکا افغانستان سے جلدی میں کیوں نکلا؟ اس کا جواب صدر بائیڈن نے خود دیا تھا جب انہوں نے افغانستان سے انخلا کے معاہدے پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا۔ صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ اس لاحاصل جنگ کو ختم کرکے اب امریکا کی نمبر ون خارجہ پالیسی ترجیح چین پر توجہ دینے کا وقت آگیا ہے۔ بائیڈن کا خیال ہے کہ اس لاحاصل جنگ پر وسائل اور توانائیاں صرف کرنے کے بجائے امریکا کو درپیش سب سے بڑے چیلنج چین کے مقابلے کے لیے وسائل اور توانائیاں بچائی جائیں۔ امریکا چین کو ابھرتی ہوئی آمرانہ قوت سمجھتا ہے جو عالمی افق پر امریکا کے غروب کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکا چین کو ٹیکنالوجی، فوجی اور معاشی میدانوں میں چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
لیکن اس جلدی کے فوجی انخلا نے پاکستان کے لیے گھمبیر مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طالبان کا اقتدار میں آنا یا خانہ جنگی پاکستان کے مفاد میں نہیں کیونکہ تحریکِ طالبان پاکستان بھی افغان طالبان کا حصہ بن چکی ہے اور اب واپسی کے منصوبے بنا رہی ہے۔ دوسرا مسلہ یہ یے کہ مہاجرین کا نیا سیلاب پہلے سے رجسٹرڈ 14 لاکھ افغان مہاجرین کی تعداد کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے جو پاکستان کی معیشت کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔ لیکن اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا پاکستان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی تیاری کی تھی تو مایوس کن جواب ملتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے محاذ پر حالات اس تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں کہ اب پاکستان کے پاس تیاری کا وقت ہی نہیں بچا۔
