بلاول بھٹو آئینی ترامیم کا جھنڈا لے کر میدان میں کیوں نکلے ہوئے ہیں ؟

حکومت کی جانب سے آئینی ترامیم بارے مختلف سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیموں کو ایک پیج پر لانے میں ناکام ہونے کے بعد بلاول بھٹو نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ہے۔ بلاول بھٹو مجوزہ آئینی پیکج اور وفاقی آئینی عدالت کے حق میں ان دنوں خاصے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو جہاں مختلف بار کونسلز سے خطاب میں وفاقی آئینی عدالت کو عدالتی نظام کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں وہیں وہ آئندہ چند دنوں میں آئینی ترمیم کی منظوری بارے پر امید ہیں۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلاول بھٹو آئینی ترامیم بارے جے یو آئی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء تنظیموں کو قائل کرنے میں کامیاب ہونگے؟ اور کیا حکومت 25 اکتوبر سے قبل آئینی ترمیم منظور کروا پائے گی؟
خیال رہے کہ 15 ستمبر کو حکومت نے مجوزہ آئینی ترمیمی مسودے کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کیے تھے۔ تاہم مسودے کی منظوری کے لیے درکار دو تہائی اکثریت نہ ہونے پر یہ معاملہ التوا کا شکار ہو گیا تھا۔
واضح رہے کہ مجوزہ آئینی مسودے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام، چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی، آئینی عدالت کے ججز کی عمر 68 برس کرنے اور آرٹیکل 63 اے میں ترمیم سمیت دیگر ترامیم شامل تھیں۔
دوسری جانب بلاول بھٹو کے اس معاملے میں اچانک متحرک ہونے پر جہاں بعض حلقے سوال اُٹھا رہے ہیں، وہیں یہ بھی بحث جاری ہے کہ آئینی ترامیم کی منظوری سے پیپلزپارٹی کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟بعض حلقوں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی ناکامی کے بعد آئینی ترمیمی بل لانے کا کام پیپلزپارٹی نے اپنے ہاتھوں میں اس لیے لے لیا ہے کہ وہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ملک میں سیاسی اختلافات کی فضا میں بھی پیپلزپارٹی مفاہمت سے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بعض حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی اس کام میں کامیابی حاصل کر کے مقتدر حلقوں میں نمبر بڑھانا چاہتی ہے اور چھوٹے صوبوں کو آئینی عدالت میں برابری کی بنیاد پر نمائندگی دلوا کر مزید مضبوط ہونا چاہتی ہے۔
تاہم مسلم لیگ (ن) کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آئینی پیکج کی منظوری میں ناکامی کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس میں یہ طے پایا کہ مولانا فضل الرحمان کو منانے اور اس آئینی پیکج پر اتفاقِ رائے کا ٹاسک اب پیپلزپارٹی کو دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمراں اتحاد موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 25 اکتوبر کو ریٹائرمنٹ سے قبل آئینی مسودہ ایوان میں لانا چاہتا ہے۔ 15 اور 16 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہے، لہذٰا اس سے پہلے یہ آئینی مسودہ ایوان میں لایا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے نے آئینی ترامیم کی راہ سے تمام رکاوٹیں ہٹا دیں
اس حوالے سےسینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے بلاول بھٹو کا متحرک ہونا تعجب کا باعث نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بعض معاملات پر اختلاف کے باوجود تحریکِ انصاف کی مخالفت میں ایک ہیں۔اُن کے بقول مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ بنایا جائے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف تو اس کی مخالفت کر ہی رہی ہے، تاہم وکلا برادری کی جانب سے بھی اس کی بھرپور مخالفت کا خدشہ ہے۔ لہٰذا بلاول بھٹو وکلا برادری کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس معاملے میں بظاہر تو مولانا فضل الرحمان تحریکِ انصاف کے مؤقف کے قریب ہیں۔ لیکن پھر بھی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح انہیں منایا جائے۔
تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آئینی عدالت کے قیام کی بینظیر بھٹو بھی بات کرتی تھیں۔ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اگر چھوٹے صوبوں کی سپریم کورٹ میں نمائندگی ہوتی تو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا نہ ہوتی۔
دوسری جانب پی پی پی رہنماؤں کے مطابق پیپلزپارٹی اس معاملے پر اسی لیے سرگرم ہے کیوں کہ میثاقِ جمہوریت میں وفاقی آئینی عدالت پر اتفاق کیا گیا تھا۔رہنماؤں کے بقول پیپلزپارٹی یہ سمجھتی ہے کہ آئینی تنازعات کے حل کے لیے وفاقی آئینی عدالت ضروری ہے جس میں صوبوں کو مساوی نمائندگی ملے۔پیپلز پارٹی اس لیے بھی آئینی ترمیم چاہتی ہے کہ 1973 کا آئین پیپلز پارٹی کے بانی قائد نے دیا اس کو بحال بھی پیپلز پارٹی نے کیا اور اب اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے آئینی عدالت کا قیام ضروری ہے۔ جس کیلئے پیپلزپارٹی کوشاں ہے۔پیپلزپارٹی قیادت کی جے یو آئی سے مشاورت بھی جاری ہے او امید ہے دونوں جماعتوں کے درمیان اس مسودے پر اتفاق کے بعد آئینی پیکج بل دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا۔
