بلاول بھٹو زرداری نجی دورے پر نیویارک پہنچ گئے

واشنگٹن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ نجی دورے پر امریکا میں ہیں اور ستمبر میں دوبارہ آئیں گے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اتوار کی سہ پہر کو نیویارک پہنچے جہاں انہوں نے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر اپنے پارٹی ورکرز سے ملاقات کی۔اس سے قبل کہ وہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے ایک غیر ظاہرشدہ مقام، بظاہر وومنگ روانہ ہوئے تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پہلے ہی امریکا میں ہیں جس سے پیپلز پارٹی کے دو اہم رہنماؤں کی امریکا میں موجودگی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ایسے وقت میں جنم دیا جب جو بائیڈن انتظامیہ جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہی ہے۔امریکی افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کے بعد افغان حکومت کی تقدیر کے حوالے سے پریشان ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کابل اور طالبان کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے معاہدے کے انتظام میں کردار ادا کرے۔
پاکستان نے اس کوشش میں تعاون کرنے کی پیش کش کی ہے تاہم واضح طور پر کہا ہے کہ نہ ان سے امریکی فوج نے اڈے طلب کیے ہیں اور نہ ہی وہ انہیں پیشکش کر رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے حامی اور مخالف دونوں اس دورے کو افغانستان کے بارے میں امریکی خدشات سے جوڑ رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے بیان کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ نجی دورہ ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے ایک بیان نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا جس میں یہ دعوٰی کیا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے خواہاں ہیں۔
