بلاول بھٹو نےلاہور این اے127سےاپنی جیت کیسے پکی کی؟

مسلم لیگ ن تاحال لاہور سمیت ملک بھر میں انتخابی مہم کا آغاز نہیں کیا تاہم دوسری طرف پیپلز پارٹی نے نون لیگ کو لاہور میں ٹف ٹائم دینے کیلئے نون لیگ مخالف تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانا شروع کر دیا ہے۔ آئندہ انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی جہاں اپنے ووٹرز کو متحرک کر رہی ہے وہیں پیپلز پارٹی قیادت نےاینٹی نواز شریف ووٹ حاصل کرنے کیلئے بھی اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کے حلقہ این اے 127 میں نون لیگ کو شکست دینے کیلئے اپنی انتخابی مہم کو مزید تیز کر دیا ہے۔
جمعے کو بلاول بھٹو بیدیاں روڈ پر واقع چوہدری اعتزاز احسن کے فارم ہاؤس پر پہنچے اور ان سے الیکشن میں مکمل تعاون مانگ لیا۔ترجمان پیپلزپارٹی کے مطابق بلاول بھٹو زرداری چوہدری اعتزاز کے گھر ان کی اہلیہ کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کے لیے گئے تھے۔ چوہدری اعتزاز احسن نے بلاول بھٹو کو دروازے پر خوش آمدید کہا۔
خیال رہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے چوہدری اعتزاز احسن ’پارٹی پالیسی‘ کے خلاف تحریک انصاف کی حمایت کر رہے تھے جس کی وجہ سے پارٹی کی جانب سے انہیں نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔چوہدری اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ نے ایک بار پھر وکلا تحریک شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ بعد ازاں لطیف کھوسہ نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی اور چوہدری اعتزاز احسن کے درمیان سرد جنگ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ان کے گھر چل کر آنے کے بعد اب ختم ہو جائے گی۔ اعتزاز احسن نے انہیں این اے 127 میں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔
اس سے قبل بلاول بھٹو نے جمعرات کو ق لیگ کے رہنما چوہدری سرور سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی اور ان کے بھائی کی وفات پر تعزیت کی اور بعد ازاں ان سے الیکشن میں حمایت مانگی۔چوہدری سرور نےبتایا کہ ’بلاول بھٹو زرداری ایک نوجوان سیاستدان ہیں اور مجھے خوشی کے کہ وہ متحرک ہیں۔ انہوں نے مجھ سے این اے 127 سے حمایت مانگی ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ میری حمایت ان کے ساتھ ہے۔‘
بلاول بھٹو نے جمعہ کو ہی ڈاکٹر طاہر القادری کے ادارہ منہاج القرآن کا دورہ بھی کیا۔ جہاں خرم نواز گنڈاپور نے ان کا استقبال کیا۔ بلاول بھٹو کو منہاج القرآن کی تاحیات رکنیت بھی دی گئی۔
یاد رہے کہ منہاج یونیورسٹی لاہور کے حلقہ این اے 127 میں ہی واقع ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری 2002 میں اسی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈاپور کہتے ہیں کہ ’ہم پیپلز پارٹی کو اپنی تنظیم کی مشاورت سے سپورٹ کر رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں ہم بہت جلد ایک بہت بڑا جلسہ بھی رکھیں گے جس میں بلاول بھٹو اور ان کی پارٹی کو مدعو کیا جائے گا۔ ہم بھرپور طریقے سے ان کا الیکشن لڑیں گے۔ ہم سیاسی مخالفت ہمیشہ سے مسلم لیگ ن سے رہی ہے اور اس الیکشن میں بھی ہم ان کے امیدوار کی مخالفت ہی کریں گے۔‘
مسلم لیگ نے حلقہ این اے 127 سے عطاللہ تارڑ کو میدان میں اتارا ہے۔ تاریخی طور پر اس حلقے سے ڈاکٹر طاہر القادری کے 2002 میں الیکشن کے علاوہ یہ سیٹ ہمیشہ مسلم لیگ ن ہی جیتتی رہی ہے۔
