بلاول بھٹو نے لاہور سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

 لاہور سے گذشتہ کئی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی صوبائی یا قومی اسمبلی کی کوئی نشست حاصل نہیں کر سکی تاہم آمدہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے گڑھ سمجھے جانے والے لاہور میں اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ہی میدان میں اتار دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقے 127 میں بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم بھی زوروشور سے جاری ہے۔  تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلاول کے لیے لاہور کے حلقہ این اے 127 کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا ہے؟ الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے بعد جن علاقوں پر مشتمل حلقے کا نمبر 127 دیا گیا ہے، اس کا نمبر پہلے 133 تھا، جہاں ذوالفقار علی بھٹو دور کے بعد سے مسلم لیگ ن کا قبضہ رہا ہے۔

پیپلز پارٹی آٹھ فروری کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری کی اس حلقے سےکامیابی کے لیے پر امید ہیں۔ پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کی اس حلقے میں پی ٹی آئی کے دور میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں انہیں باقی حلقوں کی نسبت سب سے زیادہ 36 ہزار ووٹ ملے تھے۔ ’اب بلاول یہاں سے لڑیں گے تو ایک لاکھ سے زائد ووٹ ملنے کا قوی امکان ہے کیونکہ مسلم لیگ ن مخالف، پی ٹی آئی، غریب آبادیوں اور مسیحی ووٹ ہمیں ملیں گے اور ہم یہاں سے سیٹ جیت سکتے ہیں۔‘ پیپلزپارٹی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ’یہ تاثر درست نہیں ہے کہ لاہور مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے کیونکہ بھٹو دور میں لاہور سے تمام نشستیں ہم نے جیتی تھیں۔ اس کے بعد بھی ہم کئی بار لاہور میں نشستیں جیت چکے ہیں۔ اس حلقے سے 2018 میں پرویز ملک مسلم لیگ ن کی جانب سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد جب ضمنی الیکشن ہوا تو ہم نے یہاں سے 36 ہزار ووٹ حاصل کیے لیکن کامیاب اگرچہ مسلم لیگ ن کی امیدوار شائستہ پرویز ملک ہوئیں۔‘ان کے خیال میں: اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے ووٹرز کی تعداد دیگر حلقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ مسلم لیگ ن مخالف پی ٹی آئی ووٹرز بھی بلاول کو ووٹ دیں گے۔‘ ہمیں یقین ہے کہ اس بار ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے اس نشست کو جیت کر لاہور اور پنجاب کو دوبارہ پیپلز پارٹی کا قلعہ بنائیں گے۔‘

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ شاید پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اس حلقے کے حوالے سے کوئی ’غیر اعلانیہ سمجھوتہ‘ ہوا ہے۔

سلمان غنی نے بتایا: ’اس حلقے سے مسلم لیگ ن کوئی مضبوط امیدوار سامنے نہیں لا رہی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں غیر اعلانیہ سمجھوتہ ہوا ہے۔ یہاں طاہر القادری کا بھی ووٹ بینک ہے اور پی ٹی آئی کا بھی موجود ہے، اگر وہ بلاول کو ووٹ دیں گے تو یہ حلقہ ایوانوں میں سب سے زیادہ موضوع بحث بن جائے گا۔‘انہوں نے مزید کہا: ’اس حلقے سے 2018 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو پانچ ہزار ووٹ ملے تھے، جو تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار سے بھی کم تھے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار پرویز ملک جیت گئے تھے، پھر ان کی وفات کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تو ضمنی الیکشن ہوا جس میں انہیں 36 ہزار ووٹ مل گئے، یہی وجہ ہے کہ بلاول کے لیے بھی اسی حلقے کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ لاہور میں ایک نسشت حاصل کر کے مسقتبل کے لیے پنجاب میں پیپلز پارٹی کا راستہ بنایا جائے۔‘

لاہور سے بلاول اور کراچی سے شہباز شریف کی سیٹ پر ڈیل کا کتنا امکان؟اس سوال کے جواب میں سلمان غنی نے کہا کہ ’لاہور کے حلقہ این اے 127 سے کئی انتخابات میں مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوتی آئی ہے۔ اس بار یہاں سے منتخب ہونے والی پرویز ملک فیملی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اب وحید عالم، نصیر بھٹہ یا عطا تارڑ کو ٹکٹ جاری کرنے پر غور ہو رہا ہے۔’مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں ٹکٹ جاری کرنے کے معاملے میں غیر سنجیدگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلاول کو لاہور جبکہ شہباز شریف کو کراچی سے جتوانے کا دونوں جماعتوں میں کوئی خفیہ معاہدہ ہوا ہے۔‘

سلمان غنی کے مطابق ’اس حلقے میں آرائیں برادری کے ووٹ سب سے زیادہ ہیں۔ اگر مسلم لیگ ن یہاں سے اسی برادری یا یہاں کے پاپولر امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیتی تو ایوانوں میں اسی حلقے کا چرچا ہوگا۔ مسلم لیگ ن کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے امیدوار جو بھی ہو لیکن یہاں سے بلاول کے لیے انتخاب جیتنا مشکل ضرور ہوگا۔‘

Back to top button