عمران خان مسائل حل نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دیں گھر جائیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم صاحب کے پاس مسائل کا حل نہیں تو استعفے دیں اور گھر چلے جائیں۔
ملیر ایکسپریس وے کراچی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خزانہ خالی ہونے کے باوجود ہم نے تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کیا، ہم نےغریبوں کے تحفظ کیلئے بے نظیر سپورٹ پروگرام شروع کیا، ہم نے ایک دن بھی عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا، ہمارے پاس عوامی مسائل کا حل ہے، ہم جانتے ہیں عوام کو مشکل حالات سے کیسے نکالا جاسکتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم صاحب اگر آپ کے پاس مسائل کا حل نہیں تو استعفے دیں اور گھر چلے جائیں، مشکل حالات میں وزیراعظم کا ایک ہی جواب ہوتا ہے میں کیا کروں؟ کشمیر پر حملہ ہوا تو وزیراعظم نے کہا ’’میں کیا کروں‘‘، آپ کہتے ہیں معاشی اشاریے اچھے ہیں، لیکن لوگ خودکشی کررہے ہیں، پاکستان بنگلا دیش اور افغانستان سے جی ڈی پی میں پیچھے رہ گیا ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتا ہے میری تیاری نہیں تھی تو 22 سال کی جدوجہد میں وہ کیا کررہا تھا، کیا تیاری نہیں کررہا تھا، سندھ سمیت سارے صوبوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، این ایف سی ایوارڈ کا پیسا سالہا سال نہیں دیا جاتا، آپ پرانے این ایف سی ایوارڈ پر پورے نہیں اترتے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملیر ایکسپریس وے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ ملیر ندی کے بائیں کنارے تعمیر ہونے والا 39 کلومیٹر پر محیط ملیر ایکسپریس وے 6 لین روڈ ہو گا۔
ملیر ایکسپریس وے کورنگی روڈ ڈی ایچ اے سے شروع ہوگا اور اس کا اختتام کاٹھور پر ہوگا جب کہ اس پر پیدل چلنے والوں کے لیے نو مقامات ہوں گے۔سنگ بنیاد کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ حکومت سندھ شہید محترمہ بے نظیر بھترو کے فلسفے اور نظریے کو آگے لے کر چل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کے 1993 کے منشور میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی سوچ کو متعارف کرایا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اسی نظریے کو آگے لے کر چلی ہے اور اس سلسلے میں جو کام کیے ہیں وہ سارے صوبوں اور وفاق سے بھی بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھر کول مائننگ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پراٹنرشپ کا کامیاب منصوبہ ہے جو تھر میں انقلاب لے کر آیا، تھر کی عورتیں آج اس منصوبے کی وجہ سے انجینئرز سے لے کر ٹرک ڈرائیور بھی بن گئی ہیں، وہاں کے عوام کو اس کی بدولت روزگار کے مواقع ملے، پورے علاقے میں معاشی ترقی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے کوئلے سے نہ صرف بجلی پیدا کررہے ہیں بلکہ سندھ تھر کول سے پورے پاکستان کو بجلی دے رہے ہیں۔بلاول نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کا منصوبنہ کراچی کے عوام، مزدوروں، کاروبار اور کاروباری افراد، سفید پوش طبقے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا، اس منصوبے سے کراچی کے عوام کو فائدہ پہنچائیں گے اور کراچی کی کاروباری برادری سے بات کر کے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت سے اعتراضات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ سمیت سارے صوبوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، آپ نے تو این ایف سی ایوارڈ 18ویں ترمیم سے پہلے دیا تھا، ترمیم کے بعد آپ نے صوبوں کو زیادہ ذمے داری دی ہے لیکن اس کے لیے نئے این ایف سی ایوارڈ کا بندوبست نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جو صوبوں کا اپنا پیسہ ہے وہ انہیں نہیں دیا جاتا، اس میں سالہا سال کٹوتی ہوتی ہے جس سے پاکساتن کے تمام صوبے متاثر ہوتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ وفاق میں ایک ایسی حکومت مسلط کی گئی ہے جو نہ صرف ناجائز بلکہ نالائق اور نااہل بھی ہے اور ان کی نالائقی کا بوجھ پاکستان کے عوام اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین سال ہونے کو ہیں اور سنا ہے کہ وزیر اعظم صاحب اب بھی ٹریننگ پر ہیں، نجانے یہ ٹریننگ کب مکمل ہو گی اور اس ٹریننگ کی تکمیل کے دوران عوام کو جو بوجھ اٹھانا پڑے گا وہ کس سے پوچھیں گے کہ اگر وہ تیاری نہیں کررہے تھے تو 7سال سے خیبر پختونخوا میں کیا کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جو 22سال کی جدوجہد ہم سنتے آ رہے ہیں، اگر تیاری نہیں کررہے تھے تو پھر اس وقت کیا کررہے تھے، آپ نے تو 90دن میں کرپشن ختم کرنا تھا، آپ نے اپنے پہلے 100دن میں پاکساتن کی مشکلات کو ختم کرنا تھا اور 3سال بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ ٹریننگ چل رہا تھا، یہ پاکستان کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ کی درخواست نہیں کررہے لیکن اگر ہمارا وزیر اعظم تھوڑا بہت اہل ہوتا تو حالات آج ایسے نہیں ہوتے، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان آج جی ڈی پی اور ترقی میں افغانستان اور بنگلہ دیش سے پیچھے ہے، پاکستان کی مہنگائی کی شرح میں ہم افغانستان اور بنگلہ دیش سے آگے ہیں اور یہ صرف اس لیے ہے کہ ہمارا وزیر اعظم میں وہ استعداد نہیں ہے کہ وہ پاکستان جیسے ملک کو چلا سکے۔
