بلاول بھٹو کو اگلا وزیر اعظم بننے کا اتنا یقین کیوں ہے؟

پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق جہاں ایک طرف امریکی حکام کا کہنا ہے پاکستان میں اقتدار کا فیصلہ پاکستانی عوام کرینگے امریکہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں دوسری طرف زمینی حقائق بھی پیپلز پارٹی کے اس دعوے کو جھٹلاتے نظر آتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مرکز اور پنجاب میں نون لیگ حکومت بنانے جا رہی ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت سب سے تگڑی انتخابی مہم چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری چلا رہے ہیں۔ فی الحال پنجاب میں انہوں نے اپنا سیاسی مورچہ لگا رکھا ہے۔ وہ اپنے انتخابی جلسوں میں تواتر سے نون لیگ کو للکار رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ آزاد ارکان سے مل کر ان کی پارٹی اگلی حکومت بنائے گی۔ پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت کے بھی یہی جذبات ہیں۔ تاہم ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ جب بیشتر سیاسی پنڈت یہ پیشن گوئی کر رہے ہیں کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں تو ایسے میں پیپلز پارٹی بظاہر وزارت عظمی کے حصول کیلئے اتنی پر اعتماد کیوں ہے؟

اس اعتماد کا بیک گراؤنڈ جانے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ گہرا تاثر پایا جاتا ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ خاص طور پر امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے۔ بلکہ ایک اہم پی پی رہنما کے بعض قریبی ذرائع نے تو یہ پر جوش دعویٰ بھی کر ڈالا کہ بائیڈن انتظامیہ نے با قاعدہ پاکستان کو ڈکٹیٹ کیا ہے کہ بلاول اگلا وزیراعظم ہونا چاہیے۔

ان دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ؟ اس بارے میں ایک اہم ذریعے کا جو پچھلی چار دہائیوں سے پردے کے پیچھے اقتدار کے بنتے بگڑتے کھیلوں کے شاہد ہیں ، ان کا کہنا ہے ”اس میں شک نہیں کہ بلاول بھٹوزرداری مغرب کے لاڈلے ہیں۔ ان کی بیشتر زندگی بھی یورپ میں گزری ہے۔ مغرب نے روشن خیالی کے جو معیار مقرر کر رکھے ہیں۔ ان پر بھی وہ پورا اترتے ہیں۔ نوجوان بھی ہیں۔ لیکن ان تمام خوبیوں کے باوجود اس بار بلاول بھٹوزرداری کے وزیر اعظم بننے کا امکان نہیں۔ البتہ پیپلز پارٹی کوسندھ دوبارہ مل سکتا ہے۔

سندھ کے حوالے سے خود پیپلز پارٹی بھی مطمئن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹوزرداری اس وقت سارازور پنجاب پر لگا رہے ہیں ۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اقتدار کا راستہ پنجاب سے گزرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ سندھ تو ویسے ہی ان کی جھولی میں پڑا ہے۔ اگر وہ دیگر صوبوں بالخصوص پنجاب سے قابل ذکر سیٹیں حاصل کر لیتی ہے تو اس کے لئے مرکز تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ۔ پنجاب میں اگرچہ بلاول بھٹو اچھے انتخابی جلسے کر رہے ہیں۔ لیکن ان جلسوں کو الیکشن ڈے پر ووٹ میں تبدیل کرنا ایک الگ سائنس ہے۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی کا جنم نہ ہوتا تو پھر بھی جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لئے اچھی گنجائش تھی۔ جہاں سے وہ گزشتہ انتخابات میں بھی قومی اسمبلی کی دو چار سیٹیں نکالتی رہی ہے۔ تاہم جہانگیر ترین کی زیر قیادت استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کے سبب جنوبی پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کی توقعات کو شدید دھچکا لگے گا۔

یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی شدید خواہش مند ہے۔ لیکن تاحال اسے نا کامی کا سامنا ہے۔ یہ پنجاب ہی تھا، جس نے بلاول بھٹو زرداری کے نانا ذوالفقار علی بھٹوکو وزیر اعظم بنایا تھا۔ پھر بلاول کی والدہ بے نظیر بھٹو کو بھی اسی صوبے نے اقتدار میں پہنچایا۔ جواں سال چیئرمین پیپلز پارٹی اب اسی روایت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں ، جو ایک مشکل ٹاسک ہے۔ مبصرین کا دعوی تھا کہ مرکز اور پنجاب میں نون لیگ حکومت بنانے جارہی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں بلاول بھٹوزرداری کی جارحانہ انتخابی مہم کے مطلوبہ نتائج ملنا اس لئے مشکل ہے کہ پیپلز پارٹی کی اب بھی یہاں جڑیں مضبوط نہیں ہیں۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہوسکتا تھا اگر پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی طویل حکمرانی کے دوران صوبے کو چار چاند لگائے ہوتے ۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ الیکشن میں نون لیگ نے تمام مشکلات کے باوجود پنجاب میں سب سے زیادہ سیٹیں لے لی تھیں۔ اگر جہانگیر ترین آزاد ارکان کو توڑ کر تحریک انصاف کی جھولی میں نہ ڈالتے تو پچھلی بار بھی پنجاب میں نون لیگ کی حکومت ہی ہونی تھی ۔ اب یہی جہانگیر ترین نون لیگ کے اتحادی ہیں ۔ پنجاب میں نون لیگ کے لئے واحد خطرہ تحریک انصاف تھی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور زیر عتاب ہے۔ یوں نون لیگ کے لئے میدان صاف ہے اور پالیسی سازوں کے پاس بھی اس کے علاوہ کوئی دوسری چوائس نہیں۔ ادھر نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ چیئر مین پیپلز پارٹی کی گولہ باری کا جواب نہیں دیا جائے گا۔ تا ہم جب یلغار تیز ہو گئی تو حکمت عملی میں ترمیم کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ بلاول بھٹو کی گولہ باری کا جواب پارٹی قیادت دے گی لیکن نواز شریف براہ راست الفاظ کی اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ان ذرائع کے بقول پارٹی نے اپنے طور پر این اے ایک سو ستائیس کا سروے کرایا ہے۔ پنجاب تو دور کی بات ہے کہ بلاول اس حلقے سے بھی کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ واضح رہے کہ بلاول بھٹوزرداری لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 127 سے الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔ یہ حلقہ روایتی طور پر نون لیگ کا مضبوط سیاسی گڑھ رہا ہے۔ دو ہزار آٹھ سے نون لیگ مسلسل اس حلقے سے کامیاب ہوتی چلی آئی ہے۔ حتی کہ دو ہزار اٹھارہ کے گزشتہ عام انتخابات میں جب تحریک انصاف کا سورج نصف النہار پر تھا اور سارا سسٹم اس کا ساتھ دے رہا تھا۔ تب بھی تحریک انصاف کے اعجاز چوہدری اس حلقے سے نون لیگی امیدوار پرویز ملک سے ہار گئے تھے۔ پرویز ملک کے انتقال کے بعد دو ہزار اکیس کا ضمنی الیکشن ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک نے جیتا تھا۔ اس بار اس حلقے سے نون لیگ نے عطاء اللہ تارڑ کو میدان میں اتارا ہے۔ جو پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا مقابلہ کریں گے۔

جہاں تک بلاول بھٹوزرداری کی جانب سے نون لیگی قیادت پر کڑی تنقید کا تعلق ہے تو یہ ان کی سیاسی مجبوری ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے ذرائع کے بقول صوبائی قیادت نے چیئرمین کو باور کرایا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ پنجاب میں مسلم لیگ مخالف ووٹ پڑا ہے۔ لہذا اگر صوبے میں اپنا ووٹ بینکدوبارہ بحال اور اپنے ووٹرز کو متحرک کرنا ہے تو پھر نون لیگ پر تیر برسانے ہوں گے۔ بلاول اسی حکمت عملی کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔

Back to top button