بلاول بھٹو کی جے یو آئی کے دھرنے میں شرکت بارے مشاورت

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے جے یو آئی کے دھرنے میں شرکت بارے کارکنان اور پارٹی عہدیداروں سے رائے مانگ لی ہے.بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ سلیکتڈ حکمرانوں کو عوام کا کوئی احساس نہیں ان کو ہر صورت جانا ہوگا. ان کو ملک سے بھگا کر رہیں گے.
بلاول ہاؤس ملتان میں چیئرمین پیپلزپارٹی کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کااجلاس ہوا۔۔اجلاس میں پارٹی معاملات کیساتھ ساتھ آزادی مارچ پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔۔ چیئرمین بلاول بھٹونےکہا کہ مولانا فضل الرحمان کےمطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔۔ حزب اختلاف مقصد ایک ہونے کی وجہ سے مزید قریب آ سکتی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان تنزلی کی طرف جا رہا ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے موجودہ حکومت سے جان چھڑانا ناگزیر ہے. حکمرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے. بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کراچی سے کشمیر تک حکومت کے خلاف ہماری احتجاجی مہم جاری ہے،دھرنے میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کارکنان مجھے رائے دیں۔ کارکنان جو رائے دیں گے اس کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سی ای سی کے سامنے رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر بہتر فیصلہ سی ای سی اور کور کمیٹی کرے گی۔ سی ای سی جو فیصلہ کرے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں،سندھ سے اسلام آباد تک آزادی مارچ میں پی پی کارکنان و عہدیداران نے بھر پور شرکت کی ہے۔
یاد رہے کہ اس قبل 3 نومبر کو بلاول بھٹو زرداری نے دھرنے میں شرکت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے شروع دن سے آزادی مارچ کی حمایت کی اور پہلے دن سے پیپلز پارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ ہم دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم اب جے یو آئی کے دھرنے کا حصہ نہیں ہیں لیکن اگر پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے فیصلے پر نظر ثانی کی تو ہم دھرنے میں شرکت کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے شرکاء 6 روز سے اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں بھی ڈیڈلاک برقرار ہے۔
