بلاول بھٹو کے وزیر بننے کے بعد حکومت لمبا عرصہ چلنے کا امکان

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کے بعد اس اُمید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور وقت سے پہلے الیکشن کا امکان اب معدوم ہو گیا یے۔ بلاول کے بطور وزیر خارجہ حلف لینے کے بعد شہباز شریف کی اتحادی حکومت میں پیپلز پارٹی کے وزیروں کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے بطور وزیر شہباز کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے لندن میں نواز شریف کے ساتھ اہم ترین مذاکرات کیے جن کا ایک مقصد انہیں اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ نئی حکومت اپنی معیاد پوری کرے اور اگلے الیکشن اپنے وقت پر ہوں، اس کے علاوہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین 2006 میں ہونے والے میثاق جمہوریت کو بھی زندہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا یے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس موقف کی حامی ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے جلد الیکشن کروائے گی تو اس کا فائدہ عمران کو ہوگا جبکہ نقصان موجودہ حکومتی جماعتوں کو ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بھی اس بات کا پوری طرح ادراک ہے اور اسی لئے انہوں نے فوری الیکشن کے لیے تحریک شروع کر دی ہے تاکہ امپورٹڈ حکومت نامنظور اور امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے، جیسے نعرے لگا کر عوام سے ہمدردی کا ووٹ حاصل کر سکیں۔
بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف اور بلاول بھٹو کے مابین اگلے انتخابات اپنے وقت پر کروانے پر اتفاق کے بعد ہی بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ حلف اٹھایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے بیٹے کی حیثیت سے دنیا میں بلاول ایک پہچان رکھتے ہیں اور ان کی کابینہ میں شمولیت سے حکمران اتحاد کی مضبوطی کا تاثر اُبھرا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو کی کابینہ میں شمولیت سے سابق وزیراعظم عمران خان کو یہ پیغام گیا ہے کہ موجودہ حکومت کہیں نہیں جا رہی اور ان کا جلدی الیکشن کا مطالبہ پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا، تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی شمولیت سے یقیناً حکومت کو فائدہ ہوگا کہ بڑے مرتبے کا لیڈر اس کا حصہ بن گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ موجودہ حکومت اب مدت پوری کرے گی اور کم سے کم دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے ساتھ چلیں گی۔
زاہد حسین کے مطابق عمران خان کی مضبوط اپوزیشن دونوں جماعتوں کو جوڑے رکھے ہوئے ہے اور اسی وجہ سے حکمران اتحاد میں اختلافات کے امکانات بہت کم ہیں، سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا کہ بلاول کی شمولیت حکومت کے لیے اچھی خبر ہے تاہم خود بلاول بھٹو کے لیے ایک چیلنج ہوگا کہ وہ کم وقت میں اپنی کارکردگی سے ثابت کریں کہ اگلے الیکشن میں وہ بڑی کامیابی کے اہل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کو کوشش کرنا ہوگی کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں تاہم اس میں بھی انہیں اپوزیشن کی طرف سے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہوگا کہ ایسا تاثر نہ جائے کہ بہتر تعلقات خودمختاری کی قیمت پر ہیں، اسی طرح روس اور یوکرین کے تنازعے میں بھی بلاول کو گذشتہ حکومت کے اقدامات کے حوالے سے دیکھ بھال کر حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔
مظہرعباس کے مطابق پاکستان میں خارجہ پالیسی عمومی طور پر اسٹیبلشمنٹ بناتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس میں بلاول بھٹو کس طرح اپنی کارکردگی دکھا سکیں گے۔ تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو دونوں نام مل کر حکومت کے لیے تو ایک اچھی خبر ہیں مگر دونوں بڑی جماعتوں کے اتحاد کا اصل مرکز عمران خان ہیں۔ انکے مطارق عمران کی مقبولیت اور مضبوط اپوزیشن کے باعث یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی میں پی ڈی ایم بھی نہیں چل پائی تھی اس لیے یقینا حکومتی اتحاد کو پیپلز پارٹی کی اس سطح کی حمایت کا بہت فائدہ ہوگا۔

دوسری طرف بلاول بھٹو سیاست میں اپنے نانا اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے کئی کاموں کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے تھے اور ان کی سفارتی محاذ پر صلاحیتوں کی تعریف آج بھی کی جاتی ہے۔ 21 دسمبر 1988 کو کراچی میں پیدا ہونے والے بلاول کا پورا نام بلاول علی زرداری تھا جسے ان کی والدہ کی وفات کی بعد تبدیل کرتے ہوئے ’بلاول بھٹو زرداری‘ کر دیا گیا۔ ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ 2012 میں کراچی میں ایک بڑے جلسہ عام کے ذریعے سیاست میں انٹری دینے والے بلاول بھٹو زرداری کم عمری کی وجہ سے 2013 کے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ 2018 کے انتخابات میں این اے 200 لاڑکانہ سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچنے والے بلاول بھٹو زرداری اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر تھے اور اپنے پہلے ہی خطاب میں انھوں نے وزیراعظم عمران خان کو ’سلیکٹڈ‘ کا خطاب دیا جو اب بھی زبان زدعام ہے۔ متعدد مواقع پر انھوں نے اسمبلی فلور پر اپنے فنِ خطابت کا لوہا منوایا ہے۔
کرکٹ، تیراکی، نشانہ بازی اور گھڑ سواری کا شوق رکھنے والے اور کراٹے میں بلیک بیلٹ کے حامل بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت خارجہ ڈپلومیسی ایک نیا چیلنج ہوگا۔ سیاسی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق جہاں بحیثیت وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو ان کا خاندانی پس منظر اور تعلیم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں مدد دے گا، وہیں ان کے لیے چیلنج بھی ہوگا۔ ان کے سامنے رول ماڈل شاہ محمود قریشی نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو ہوں گے۔

Back to top button