بلاول نے بطور وزیر خارجہ اپنے نانا بھٹو کا ریکارڈ کیسے توڑا؟

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا کا کم عمر ترین وزیر خارجہ ہونے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ بنے تو ان کی عمر 35 برس تھی جبکہ 21 ستمبر 1988 کو پیدا ہونے والے بلاول بھٹو تقریباً 34 برس کی عمر میں وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو کو اہم ذمہ داریاں نبھانے سے قبل حالات مختلف ملے مگر ان تینوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ تینوں کو حالات کے جبر نے ذمہ داریاں سونپیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد بے نظیر کو عملی سیاست میں اُترنا پڑا اور پارٹی اُمور سنبھالنے پڑے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بلاول بھٹو کو پارٹی چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد عملی سیاست میں آنا پڑا۔ بلاول بھٹو اپنے مختلف انٹرویوز میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں ’میں نے سیاسی زندگی کا انتخاب اپنی مرضی سے نہیں کیا، میرے نانا اور والدہ کے قتل کے بعد مجبوراً کم عمری میں سیاست میں آنا پڑا۔‘ ان پر الزام لگتا ہے کہ یہ موروثی سیاست کا تسلسل ہیں۔ مگر برصغیر اور پاکستان کے سیاسی کلچر میں ’خاندانوں کی سیاست‘ ایک حقیقت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو کو وزیر خارجہ بنانے کا مقصد مستقبل میں وزارت عظمیٰ کے لیے انکی نیٹ پریکٹس کروانا ہے۔ یاد رہے کہ انکے نانا ذوالفقار علی بھٹو بھی وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے تھے اور ان کی سفارتی محاذ پر صلاحیتوں کی تعریف آج بھی کی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو وزیر خارجہ بنانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا کہ مستقبل میں اگر وہ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے وہ عالمی سطح پر اپنے آپ کو بحیثیت وزیر خارجہ متعارف کرا چکے ہوں گے تو انھیں دنیا میں زیادہ بہتر انداز سے دیکھا جائے گا۔
بلاول کا اصل نام بلاول علی زرداری تھا جسے ان کی والدہ کی شہادت کی بعد تبدیل کرتے ہوئے ’بلاول بھٹو زرداری‘ کر دیا گیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی گرامر سکول اور فروبلس انٹرنیشنل سکول اسلام آباد سے حاصل کی۔ دبئی منتقل ہونے کے بعد انھوں نے اپنی تعلیم راشد پبلک سکول دبئی میں جاری رکھی، جہاں وہ سٹوڈنٹ کونسل کے نائب چیئرمین بھی رہے۔ 2007 میں بلاول بھٹو نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سب سے اہم کالج کرائسٹ چرچ میں داخلہ لیا۔ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ’بی اے آنرز‘ کی سند جدید تاریخ اور سیاست کے شعبے میں حاصل کی۔ بلاول بھٹو یہاں بھی طلبہ یونین میں سرگرم رہے۔ بالآخر 2010 میں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کرلی۔
باقاعدہ سیاست کے آغاز سے قبل بلاول بھٹو زرداری پاکستانی سیاست کی سختیوں سے نبرد آزما ہو چکے تھے۔ وہ اپنی والدہ کی انگلی تھامے پاکستان کی جیلوں میں اپنے والد آصف علی زرداری سے ملاقاتوں کے لیے جایا کرتے تھے۔ 1999 سے 2007 کے دوران انھوں نے اپنی والدہ کے ساتھ جلا وطنی بھی کاٹی اور اس دروان بیشتر عرصہ وہ اپنے والد سے بھی دور رہے۔
یہی وجہ ہے کہ بلاول نے جب سیاست میں قدم رکھا تو عالمی امور، علاقائی مسائل، سیاسی سوجھ بوجھ اور جمہوریت کے حوالے سے ان کے موقف کو کئی سینئر سیاست دانوں سے زیادہ پذیرائی ملی۔ 2012 میں کراچی میں ایک بڑے جلسہ عام کے ذریعے سیاست میں انٹری دینے والے بلاول بھٹو کم عمری کی وجہ سے 2013 کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ 2018 کے الیکشن میں این اے 200 لاڑکانہ سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچنے والے بلاول بھٹو زرداری اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر تھے اور اپنے پہلے ہی خطاب میں انھوں نے وزیراعظم عمران خان کو ’سلیکٹڈ‘ کا خطاب دے دیا جو اب بھی زبان زد عام ہے۔ انھوں نے اسمبلی فلور پر اپنے فنِ خطابت کا لوہا منوایا ہے۔ تیراکی، نشانہ بازی اور گھڑ سواری کا شوق رکھنے اور کراٹے میں بلیک بیلٹ کے حامل بلاول کے لیے وزارت خارجہ ایک نیا چیلنج ہوگا۔
سیاسی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق جہاں بحیثیت وزیر خارجہ بلاول کو ان کا خاندانی پس منظر اور تعلیم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں مدد دے گا، وہیں ان کے لیے چیلنج بھی ہوگا۔ ان کے سامنے رول ماڈل شاہ محمود قریشی نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بطور وزیر خارجہ بلاول بھٹو پر اس لیے بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیروی کرنا ہے۔ ان کے نانا اور والدہ نے سفارت کاری کے میدان میں بہت محنت کی تھی۔ اس لیے اب بلاول کو بھی معمول سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو کو بطور وزیرِ خارجہ کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کیا اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ لہٰذا سب سے بڑا چیلنج تو یہی ہوگا کہ بلاول کیسے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری لاتے ہیں۔ مودی حکومت کے حوالے سے اِن کا نقطہ نظر خاصا سخت رہا ہے۔ اس بارے اِن کو اپنے روّیے میں لچک لا کر انڈیا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو جانچنا، بھی ایک چیلنج ہوگا۔
افغانستان میں افغان طالبان کے اقتدار کو پاکستان کی گزشتہ حکومت کی جانب سے مکمل تائید حاصل رہی۔ لیکن اب افغان طالبان پاکستانی حکام کو آنکھیں دکھانے لگے ہیں اور تحریک طالبان کی پشت پناہی سے باز نہیں آ رہی۔ لہٰذا افغان طالبان حکومت کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھنے ہیں، یہ بھی ایک چیلنج ہوگا۔ ماضی قریب میں روس اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ یہ تعلقات آگے بڑھیں گے یا نہیں؟ اس کے علاوہ بلاول کو بطور وزیر خارجہ چین کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات کو مزید بہتر بنانا ہوگا ۔ لہٰذا نوجوان بلاول کو بطور وزیرِ خارجہ اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے کافی محنت کرنا ہوگی۔
