بلاول پر صحافی کے قتل کا الزام فہمیدہ مرزا لگوا رہی ہے

تحریک انصاف اور سندھ کی تانگہ پارٹی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے تحصیل محراب پور ضلع نوشھروفیروز میں سینئر صحافی عزیز میمن کے قتل کا ملبہ پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو پر ڈالنے کی کوشش کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب پولیس نے اس خدشے کا اظہار کردیا کہ عزیز میمن کو ذاتی رنجش پر ان کے ساتھی کیمرہ مین اویس قریشی نے قتل کیا ہے۔ یاد رہے کہ عزیز میمن آخری مرتبہ اپنے کیمرہ مین کے ساتھ ہی گھر سے باہر گئے تھے جس کے بعد ان کی لاش ایک نہر سے برآمد ہوئی۔ کیمرہ مین اویس قریشی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قتل کے بارے تحقیقات جاری ہیں۔
دو روز قبل سندھ کے شہر محراب پور میں کے ٹی این ٹی وی چینل سے وابستہ سینئر صحافی عزیز میمن کی لاش مقامی نہر سے برآمد ہوئی جسے مبینہ طور پر کیبل کے تار سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ پولیس نے عزیز میمن کے ساتھی کیمرہ مین اویس قریشی پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے۔ پولیس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مذکورہ کیمرہ مین نے ذاتی رنجش پر عزیز میمن کو موت کے گھاٹ اتارا اور پھر لاش کو نہر میں پھینک دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عزیز میمن فرائض کی انجام دہی کے لئے گھر سے نکلے تھے، مقتول صحافی کو کیمرہ مین اویس قریشی دوپہر میں گاؤں صوفائی سہتہ چھوڑ کر آیا تھا۔
عزیز میمن کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح صحافتی حلقوں اور سیاسی ایوانوں تک پھیل گئی۔ جہاں ایک طرف صحافتی تنظیموں نے عزیز میمن کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تو وہیں دوسری طرف اس معاملے پر سیاست شروع کر دی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اورگرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والی سپورٹس منسٹر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی اس معاملے کی چھان بین کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ فواد چوہدری نے تو چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد سے واقعے کا نوٹس لینے کی بھی اپیل کی اور سندھ حکومت پر خوب گرجے برسے۔
پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو یقین دلایا کہ صحافی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاہم اس حوالے سے پارلیمانی کمیشن بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس واقعے پر سیاست سے گریز کیا جائے۔
خیال رہے کہ عزیز میمن نے گزشتہ برس پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ سے متعلق ایک رپورٹ فائل کی تھی کہ خواتین کو فی کس دو سو روپے معاوضہ دے کر مارچ میں لایا جا رہا ہے جس کے بعد مبینہ طور پر عزیز میمن کو قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ عزیز میمن نے کچھ عرصہ قبل اپنے ویڈیو پیغام میں بھی کہا تھا کہ اسے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں لہذا پولیس اسے تحفظ فراہم کرے تاہم ایسا نہ ہوسکا اور عزیز میمن کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا۔ اب اس کی کئی مہینے پرانی اسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی پر عزیز میمن کے قتل کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں فہمیدہ مرزا کے کزن علی قاضی کا کے ٹی این چینل پیش پیش ہے جس کے لیے عزیز میمن بغیر تنخواہ کے کام کر رہا تھا۔
عزیز میمن کے قتل کا وزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لیا ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام سے 72 گھنٹوں میں واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف حکومت اور اتحادی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جو کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے سیاسی حریف ہیں، اس واقعے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مقتول صحافی عزیز میمن جس کے ٹی این ٹی وی سے وابستہ تھے، وہ بھی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے رشتہ داروں قاضی فیملی کا ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ان کی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس پیپلزپارٹی کو نیچا دکھانے کے لئے عزیز میمن کے قتل کے واقعے پر بھرپور سیاست کر رہی ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزرا کی جانب سے بھی صحافی کے قتل پر خلاف توقع حساسیت دکھانے پر بھی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ حکومت عزیز میمن قتل کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصا بلاول بھٹو کو پریشر میں لانا چاہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button