بلاول کا نام متبادل وزیراعظم کے طور پر کیوں آ رہا ہے؟

بلاول بھٹو کا نام متبادل وزیر اعظم کے طور پر آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کے پڑنانا، پھر نانا اور پھر والدہ بھی وزیر اعظم رہی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی پنجاب میں کوئی قابل ذکر حیثیت نہیں بنا لیتی تب تک عنان اقتدار بلاول کو نہیں مل سکتی۔
ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ تجزیہ میں کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو پنجاب کے ووٹوں سے ہی وزیر اعظم بنے تھے اور بلاول کو بھی وزیر اعظم بننے کے لیے سندھ کے ووٹوں کے علاوہ پنجاب سے بھی قابل ذکر حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، تبھی جا کر وہ سب کے لئے قابل قبول وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی اپوزیشن مخالف حکمت عملی میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ شہباز شریف ابھی تک جیل میں ہیں اور شاہد خاقان عباسی متبادل وزیر اعظم بننے کی بجائے عدالتوں میں انصاف ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے اختلافات بڑھنے سے جہاں عمران خان کو ریلیف ملا ہے وہاں ایک نئی آپشن کھلنے سے ان کے لئے نئے مسائل بھی پیدا ہونگے۔ ان اختلافات کے پس منظر اور پیش منظر کا جائزہ لیں تو کہیں نہ کہیں بلاول بھٹو کے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کا حوالہ بھی نظر آتا ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن ہونے کی وجہ سے ویسے تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں لیکن ذاتی طور پر اسٹیبلشمنٹ سے ان کا رویہ ہمیشہ مفاہمانہ رہا ہے۔ وہ نواز شریف کے جلسوں میں بھی سر عام جرنیلوں پر تنقید کرنے سے باز رہے اور گوجرانوالہ جلسہ کے بعد انھوں نے اپنی اس کا سر عام اعلان کر کے اپنی پوزیشن کو واضح کر دیا تھا۔ کراچی میں مریم نواز کے کمرے پر پولیس اور رینجرز نے ریڈ کیا تو یہ بلاول ہی تھے جنھوں نے براہ راست فوجی قیادت سے انکوائری کا مطالبہ کیا۔ جنرل باجوہ نے بھی فوراً اس مطالبے کا نوٹس لیا اور خود بلاول کو فون کر کے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے پر نوٹس لیں گے اور پھر واقعی انھوں نے نوٹس لیتے ہوئے دو حاضر سروس بریگیڈئیروں کے تبادلے کا حکم دیدیا اور یوں بلاول کو مایوس نہیں ہونے دیا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے کے اس ظاہری اظہار کے علاوہ بھی ایسے کئی اشارے ملتے ہیں کہ بلاول کو اہم قومی ایشوز پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بریفینگز دی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمانہ سیاست کے حامی ہیں اور ان کے بھی گوجی اسٹیبلشمنٹ سے نام و پیام جاری رہتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ الیکشن سے پہلے آصف زرداری نے اعلیٰ فوجی حکام سے رابطہ کر کے یہ شکایت کی کہ بعض فوجی آفسران اراکین قومی اسمبلی کو اپروچ کر کےحکومتی امیدوار کو ووٹ دینے پر زور دے رہے ہیں جس پر انھیں یقین دلایا گیا کہ ایسا نہیں ہو گا اور واقعی دوسرے دن یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہو گئے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ سے دوستانہ رابطے اور نام و پیام ویسے تو معمول کی بات ہے مگر تحریک انصاف کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کی مضبوطی کی سب سے بڑی وجہ یہ قرار دی جاتی ہے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں ہے ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں اور پیپلز پارٹی پنجاب میں موجود نہیں مگر پیپلز پارٹی کی قربت بلاول بھٹو کو عمران خان کے متبادل کے طور پر کھڑا کر سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہی وہ خطرہ ہے جس کو بھانپتے ہوئے مریم نواز نے یہ ٹویٹ کر دی کہ اب سلیکٹرز کو سلیکٹڈ کے ایک سافٹ متبادل کی تلاش ہے۔ یہ اشارہ واضح طور پر بلاول بھٹو کی طرف تھا۔ شاید اسی لیے بلاول بھٹو نے بھی اس کا جواب دینا مناسب سمجھا اور یہ کہہ کر اس خیال کو مسترد کر دیا کہ میرے رگوں میں سیلیکٹڈ والا خون نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہ لاہور کے ایک سیاسی خاندان کی روایت ہے۔ مریم اور بلاول کے بیانات کی اس گرما گرمی سے ہٹ کر یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بلاول کو پی ڈی ایم میں بے شک ولن کی حیثیت سے دیکھا جائے لیکن وہ لازماً اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں ‘فیورٹ’ کے طور پر دیکھے جا رہے ہوں گے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کا نام متبادل وزیر اعظم کے طور پر آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے خاندانی وارث کا اس عہدے کے لیے نام کبھی نہ کبھی تو آنا ہی تھا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی پنجاب میں کوئی قابل ذکر حیثیت نہیں بنا لیتی اس وقت تک عنان اقتدار بلاول کو نہیں مل سکتی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو پنجاب کے ووٹوں سے ہی وزیر اعظم بنے تھے جہاں پر اس وقت نواز لیگ کا زور دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم میں اختلافات سب کے لیے گھاٹے کا سودا نہیں، کچھ کو اس کا فائدہ بھی ہو گا۔ مجموعی طور پر تو ان اختلافات سے اپوزیشن کمزور اور حکومت مضبوط ہوئی ہے۔ لانگ مارچ کے ملتوی ہونے اور اجتماعی استعفوں پر اختلافات سے حکومت کو ریلیف ملا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کا حکومت پر جو دباؤ اور پریشر تھا وہ یک لخت ختم ہو گیا ہے۔ گذشتہ اڑھائی سالہ سیاست میں عمران خان اپنے اصل سیاسی حریف شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو گردانتے رہے ہیں۔ وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ اپوزیشن کے ان ہی دونوں لوگوں کی اسٹیبلشمنٹ تک رسائی تھی اور انہی دو کو اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے عمران خان نے شروع سے ہی اپنے احتساب کے ہدف میں ان دونوں کو نشانہ بنائے رکھا، نہ یہ احتساب کے گورکھ دھندوں سے نکلیں اور نہ یہ اپنے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر حکومت حاصل کر سکیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم اختلافات سے مولانا فضل الرحمن کی شخصیت اور قیادت دونوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پیپلز پارٹی کافی عرصے سے شکایت کر رہی تھی کہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز ہر معاملے میں پہلے سے مشورہ کر لیتے ہیں اور پھر اس رائے کو پیپلز پارٹی پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اجتماعی استعفوں کے معاملے میں بھی پیپلز پارٹی کا شکوہ ہے کہ وہ 26 مارچ کے لانگ مارچ کی تیاری کیے ہوئے تھے کہ اچانک دس روز پہلے استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ نتھی کر دیا گیا، حالانکہ پہلے سے ایسی کوئی بات طے نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ بُرے سے بُرے حالات میں بھی پارلیمانی سیاست سے دستبرداری سیاسی طور پر نقصان دیتی ہے۔ پیپلزپارٹی والے تو 1985 میں آج سے 36 سال پہلے غیر جماعتی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے سے ہونے والا نقصان بھولنے کو تیار نہیں جس کے بعد پنجاب میں پیپلز پارٹی کمزور تر ہو گئی۔ 1985 کے بعد سے پیپلز پارٹی نے استعفوں کی دھمکیاں تو دی ہیں مگر کبھی ان پر عمل نہیں کیا۔ اب بھی ان کا استعفے دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہم لک کی مجموعی سیاست کو دیکھیں تو پی ڈی ایم کے اندرونی اختلافات سے اپوزیشن کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ لانگ مارچ اور اجتماعی استعفے ایسا کار گر حربہ ہیں کہ ان سے تحریک انصاف کی حکومت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ مگر اپوزیشن کے آپس کے اختلافات نے اس خیال کو نقصان پہنچایا ہے۔ سچ تویہ ہے اب پی ڈی ایم کے لیے مستقبل کا چیلنج حکومت کو ہٹانے کی بجائے اپنے اتحاد کو بچانا ہے۔
پی ڈی ایم کا اتحاد مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں بنا ہی اس لیے تھا کہ حکومت کو گرایا جائے۔ مگر اندرونی اختلافات نے اسکو ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے کہ ایسا کیا فارمولا اختیار کیا جائے کہ اپوزیشن کا اتحاد بھی قائم رہے اور حکومت کے خلاف دباؤ بھی برقرار رہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگرچہ بلاول اور مریم کے بیانات سے دونوں جماعتوں کے اختلاف بڑھے ہیں مگر دونوں جماعتوں کے سنجیدہ فکر رہنما چاہتے یہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اتحاد برقرار رہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ مولانا فضل الرحمن ایسا کیا فارمولا نکالتے ہیں جس سے دونوں بڑی جماعتیں بھی راضی رہیں اور اتحاد بھی نہ ٹوٹے۔
