بلا چھن جانے کے بعد تحریک انصاف کا مستقبل تاریک کیوں؟

سپریم کورٹ کی جانب سے تحریکِ انصاف سے ’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے بعد پی ٹی آئی کا اپنا وجود برقرار رکھنا نا ممکن نظر آتا ہے۔
سپریم کورٹ کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا حکم قانونی و سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
جہاں ایک طرف سیاسی و قانونی حلقے سپریم کورٹ کے حکم کو آئینی طور پر درست قرار دے رہا ہے تو وہیں کئی لوگ اس پر تنقید کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنا رہے ہیں کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل کسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان ’چھین لینا‘ اس کے ووٹروں کے ساتھ ناانصافی ہے جبکہ بعض مبصرین کا سوال ہے کہ کیا اس اقدام کے بعد بھی انتخابات کو صاف و شفاف کہا جاسکے گا۔
ٹی وی چینلوں سے لے کر سوشل میڈیا صارفین تک، آٹھ فروری کے الیکشن سے قبل یہ فیصلہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی بحث کا بھی حصہ رہنے کا امکان ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے الیکشن پر اثرات کے حوالے سے بیشتر سوشل میڈیا صارفین کا یہ ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آنے والا فیصلہ قانون کے مطابق درست ہے۔ صحافی غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ’جسٹس عیسیٰ کے اس فیصلے نے آئندہ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے سٹینڈرڈ مقرر کر دیا ہے۔’جماعتوں کے اندر جمہوریت ہو گی تو ہی ملک میں جمہوریت آ سکے گی۔‘
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کا نشان چھن جانے سے کیا نقصان ہوگا؟یہ بھی زیرِ بحث ہے کہ بلے کا نشان چھن جانے سے تحریک انصاف کے لیے مزید کیا رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔
آئینی ماہر احمد محبوب بلال کا کہنا یے کہ’میرے خیال میں تحریک انصاف کو بلے کا نشان چھن جانے سے زیادہ نقصان نہیں ہوگا۔ البتہ ان کے ووٹرز کو زیادہ محنت کرنی ہو گی کہ وہ معلوم کر سکیں کہ ان کے علاقے میں تحریک انصاف کا امیدوار کون ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور ان کی اپنے سپووٹرز تک رسائی اور رابطے خاصے مضبوط ہیں۔ ’وہ یہ پیغام با آسانی پہنچا سکیں گے کہ ان کے ووٹر کو کسے ووٹ کرنا ہے اور ان کے امیدوار کا انتخابی نشان کیا ہے۔‘
ان کا خیال ہے کہ تحریک انصاف اپنے پارٹی آئین کے تحت انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں ناکام رہی۔ ’چلو پارٹی چیئرمین کا انتخاب چھوڑ کر کم از کم دیگر صوبوں میں تو صحیح انداز میں الیکشن کرواتے۔ الیکشن کمیشن نے انھیں بیس دن کا وقت دیا۔ لیکن انھوں نے گیارہ دن میں الیکشن کروا کر نتائج بتا دیے۔ وہ کچھ اور نہ کرتے سب سوشل میڈیا پر ہی اشتہار کر دیتے کہ اس تاریخ کو انٹرا پارٹی الیکشن ہیں اور آپ کاغذات جمع کروا سکتے ہیں۔ اس جگہ پر الیکشن کا انعقاد ہوگا۔ لیکن وہ یہ سب کرنے میں ناکام ہوئے۔‘
اگر پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں جیت جاتے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟ کیا ان پر پارٹی قانون لاگو ہوگا؟ کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستیں کھو دے گی؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جو ماہرین کے مطابق خاصے اہم ہیں۔
ان سوالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پلڈاٹ کے سربراہ احمد محبوب بلال کا کہنا تھا کہ ’آئینی اور قانونی طور پر آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدوار پر کسی سیاسی جماعت کا قانون لاگو نہیں ہوگا۔ اس لیے ان پر دباؤ ڈال کر وفاداریاں بھی تبدیل کرائی جا سکتی ہیں۔‘ یعنی اس سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔مخصوص نشستوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں بھی تحریک انصاف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کے مطابق ان کی جماعت الیکشن جیتنے کے بعد کسی دوسری جماعت کے ساتھ الحاق کر کے مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔دوسری جانب سیاسی ماہرین کے مطابق یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ تحریک انصاف کس جماعت کے ساتھ الحاق کرے گی کیونکہ ان کے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہیں۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے کے تاریخی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے تجزیہ کار وجاہت مسعود بتاتے ہیں کہ 1988 میں پیپلز پارٹی سے تلوار کا نشان لے لیا گیا تھا۔ ’ان سے تلوار کا نشان لے کر تیر کا نشان دیا گیا تھا اور وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا، اس لیے ماننا پڑا۔‘وہ بتاتے ہیں کہ اسی طرح 2018 میں سینیٹ کے الیکشن سے پہلے مسلم لیگ ن سے شیر کا نشان لے لیا گیا تھا اور نواز شریف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے آگے آنا پڑا۔سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ان کا کہنا ہے کہ اس سے ’آنے والے انتخابات کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ قانونی طور پر فیصلہ درست ہے لیکن سیاسی طور پر یہ فیصلہ شاید اتنا مناسب نہ ہو کیونکہ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں ہونے چاہییں۔‘
