بلدیاتی انتخابات اگست تک ممکن نہیں

الیکشن کمیشن کے مطابق حکومت کے نئے آرڈیننس کے تحت بلدیاتی انتخابات اگست تک ممکن نہیں۔
الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہےکہ حکومت نےاپنا ہی بنایا بلدیاتی قانون عملدرآمد سے قبل ختم کردیا اور نئے آرڈیننس کے تحت انتخابات جون میں ممکن ہیں اور نہ ہی اگست میں ممکن ہیں کیوں کہ نئے آرڈیننس سے نئی حلقہ بندیاں کرنا پڑیں گی۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ نئے آرڈیننس سے بلدیاتی ادارے مضبوط اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے جب کہ الیکشن کمیشن بیک وقت انتخابات کی بجائے مرحلہ وار انتخابات کرائے، پہلے مرحلے میں پنجاب کے3 ڈویژنوں میں الیکشن اگست میں کرائے جاسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس کے مطابق نئے آرڈیننس کے تحت ہر گاؤں میں پانچ افراد پر مشتمل پنچائت بنے گی، شہری علاقوں میں نیبر ہڈ کونسل اور دیہی علاقوں میں ویلیج کونسل ہوگی، نیبرہڈ کونسل اور ویلیج کونسل کی تعداد 25 ہزارسے کم کرکے 6 یا 8 ہزار رکھنےکافیصلہ کیا گیا ہے۔ آرڈیننس کے مطابق ولیج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل 13 منتخب ارکان پر مشتمل ہوگی، ٹاؤن کمیٹی 20 کی بجائے 50 ہزار کی آبادی پر قائم ہوگی اور میونسپل کمیٹی 75 ہزار جب کہ میونسپل کارپوریشن ڈھائی لاکھ آبادی پرمشتمل ہوگی۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہےکہ مری کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے، ہر ڈویژن ہیڈ کوارٹر کا ضلع میٹروپولیٹن کارپوریشن کہلائے گا، بلدیاتی انتخابات ہر سطح پر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button