بلقیس ایدھی کی گود میں کھیلنے والی امریکہ کیسے پہنچی؟


انسانی خدمت کے مینار عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اُنکی نیکیاں دنیا بھر میں ان کی عزت اور تکریم کی گواہی دے رہی ہیں، ایسی ہی ایک نیکی ’’رابعہ بانو‘‘ بھی ہے جس کو بلقیس ایدھی نے اپنی گود میں کھلایا اور سلایا تھا، انہوں نے اس یتیم بچی کی ایدھی ہوم میں پرورش کی، آج رابعہ بانو ایک بڑے امریکی برانڈ NIKE میں اہم عہدے پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ 28 برس قبل ’ایدھی‘ کے جھولے سے ملنے والی ننھی بچی نے بلقیس ایدھی کی وفات پر اپنی کہانی سوشل میڈیا پر شئیر کی ہے جس نے پڑھنے والوں کو افسردہ کر دیا ہے یہ
چند دن کی رابعہ بانو کو اس کے بدقسمت والدین ’ایدھی‘ کے جھولے میں ڈال گئے تھے۔
ایدھی ہوم میں پرورش پانے والی رابعہ بانو آج دنیا کی نمبر ون شو کمپنی ’NIKE‘ میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ، اور ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کر رہی ہیں، بلقیس ایدھی کے انتقال پر رابعہ بانو نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی تمام تر کامیابیوں کا کریڈٹ انہیں ہی دیا۔ رابعہ امریکا میں ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس، یو ایس کانگریس، اور یو ایس سینیٹ میں انٹرن شپ بھی کر چکی ہیں، انہوں نے سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی لاء میں تعلیم حاصل کی ہے۔
رابعہ نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 28 سال پہلے مجھے کراچی میں واقع ایدھی ہوم میں لاوارث بچوں کے جھولے میں چھوڑ دیا گیا تھا، بلقیس ایدھی نے مجھے اپنا کر میرا نام اپنی والدہ رابعہ بانو کے نام پر رکھا، مجھے شناخت دی، پھر انہوں نے مجھے گھر دیا، میں آج جو کچھ بھی ہوں انکی وجہ سے ہوں۔ رابعہ بانو نے وفات پا جانے والی بلقیس ایدھی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، آپ ایک سرگرم کارکن، انسان دوست، نیک مقصد کے لیے پُرعزم تھیں، آپ نے مجھے عورت کی طاقت سکھائی، خود دار اور خود اعتمادی کا سبق دیا اور غیر معمولی طور پر کسی مقصد کو حاصل کرنے کا سبق بھی میں نے آپ سے ہی سیکھا۔ آپ کی وجہ سے ہی پیدائش کے وقت سے یتیم ایک ننھی پاکستانی بچی نے خواب دیکھنے کی ہمت کی، آپکی وجہ سے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک خودمختار عورت ہوں اور دنیا میں ایک ایسے مقام پر ہوں کہ آج کسی کے سامنے اپنا تعارف اعتماد سے کروا سکوں، آپ نے مجھے موقع دیا، آپ نے مجھے خواب دیکھنے کا موقع دیا، اور آپ نے ہی مجھے آزادی سے سے جینا سکھایا، دنیا کے لیے آپ بلقیس ایدھی ہیں، لیکن میرے لیے آپ بڑی اماں ہیں، آپ کی بدولت میرے پاس دو پیار کرنے والے والدین ہیں جنہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میرے پاس وہ سب کچھ ہو جس کی میں کبھی خواہش رکھتی تھی۔ میں ایک اعلیٰ ہائی سکول گئی، پورے کالج میں اسکالرشپ حاصل کی، برونکس ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس، یو ایس کانگریس، یو ایس سینیٹ میں انٹرن شپ کی اور سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی لاء میں ماسٹرز کرنے کے لیے لاء سکول گئی اور ان تمام کامیابیوں کی وجہ صرف آپ ہیں۔
رابعہ بانو نے لوگوں کو اپنی پوسٹ میں بلقیس ایدھی کا تعارف بھی کروایا اور لکھا کہ جو لوگ بڑی امی کے بارے میں پہلی بار پڑھ رہے ہیں، میں چاہتی ہوں انہیں معلوم ہو کہ میرے لیے اور پورے پاکستان کے لیے وہ کون تھیں، بلقیس ایدھی ایک ہیرو تھیں، وہ بہت سارے یتیموں کی ماں اور انسانیت کے لیے پاور ہاؤس تھیں، انہوں نے لکھا کہ بڑے ابو یعنی عبدالستار ایدھی کو کھونا مشکل تھا، لیکن بلقیس ایدھی کے کھونے سے آج مجھے ایک بار پھر سے یتیم ہونے کا احساس ہو رہا ہے۔

Back to top button