بلند شرح سود ملکی معیشت پر خود کش حملہ قرار

جہاں تبدیلی سرکار کی دیگر پالیسیاں ناکام ثابت ہوئیں اور ملک کی معیشت کا بھٹہ بٹھانے کا سبب بنی وہیں بلند شرح سود نے کاروباری طبقے کو شدید متاثر کیا ہے.
ترقی یافتہ ممالک میں کاروباری ماحول کا سازگار رکھا جاتا ہے جس سے ملک کی معیشت ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔ تاہم پاکستان میں معاملات اس کے قطعی برعکس ہیں، یہاں بجلی، گیس، تیل اور ٹیکس حتیٰ کہ بینکوں قرض لینا بھی سستا نہیں رہا اس وقت ملک میں شرح سود 13.25 پر برقرار ہے۔ بلند شرح سود کاروباری طبقے کےلیے حوصلہ شکنی کا باعث رہا ہے۔ ایک گھی کمپنی کے مالک شیخ امجد رشید کے مطابق بینک سے بلند شرح سود پر قرضہ لے کر واپس لوٹانا موجودہ اقتصادی حالات میں بہت مشکل ہے۔ ان کے مطابق ورکنگ کیپٹل یعنی کاروباری سرمایہ بلند شرح سود پر بینک سے لینا اس لیے بھی قابل عمل نہیں رہا کہ ادھار پر اپنی مصنوعات دے کر رقم کی وصولی میں بہت مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں بینک کو سود سمیت قرض واپس کرنا مشکل تر ہو جاتا ہے۔
کراچی کے ایک انڈسٹریل ایریا میں درآمدی کیمیکل سے چلنے والی پراسیسنگ فیکٹری میں کچھ عرصہ قبل پیداواری عمل روک دیا گیا۔ بلند شرح سود پر ملنے والے نجی بینکوں کے قرضے جب مہنگے ہوئے تو فیکٹری کے مالک نے بینک سے قرض لینا بند کر دیا۔کیمیکل کی درآمد کےلیے ورکنگ کیپیٹل یعنی کاروباری سرمائے کی عدم دستیابی اور اس کے نتیجے میں کیمیکلز کی درآمد نہ ہونے کی وجہ سے درآمدی کیمیکلز سے چلنے والا پلانٹ بند ہو گیا۔ اگرچہ فیکٹری آج بھی چل رہی ہے اور مقامی طور پر دستیاب کیمیکلز کی پراسیسنگ کر رہی ہے تاہم درآمد ی کیمیکلز کا پلانٹ بند کر دیا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پرائیوٹ سیکٹر باروئنگ یعنی نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے لیے گئے قرضوں میں ستر فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ یعنی جولائی سے جنوری کے عرصے میں نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے 179 ارب روپے کے قرضے لیے گئے جو گزشتہ مالی سال کے انہی مہینوں میں 587 ارب کےلیے گئے قرضوں سے ستر فیصد کم ہے۔
معاشی امور کے ماہر فرحان محمود کا کہنا ہے کہ جب اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود بڑھایا گیا تو بینکوں نے بلند شرح سود پر نجی شعبے کو قرض دینا شروع کیا۔ بلند شرح سود پر قرضے کے حصول نے جب نجی شعبے کےلیے کاروباری سرمائے کو مہنگا کر دیا تو نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے لیے گئے قرضے میں کمی دیکھنے میں آئی۔
فرحان محمود کے مطابق اگر نجی شعبہ بینکوں سے قرضہ نہیں لے رہا تو یہ ایک خراب معاشی صورت حال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ نجی شعبے کی جانب سے قرضوں کی شرح میں کمی کے بعد بینکوں نے اگرچہ اس سرمائے کو حکومتی سیکورٹیز میں لگانا شروع کر دیا ہے تاہم یہ ملک کی مجموعی قومی معاشی صورت حال کےلیے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں ہے۔
معاشی امور کے ماہر ثاقب شیرانی کے مطابق بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے جہاں کاروبای لاگت کو بڑھایا تو بلند شرح سود نے نجی شعبے پر مزید بوجھ ڈال دیا۔ ان کے مطابق کاروباری لاگت میں شرح سود کے اضافے کی وجہ سے نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرضے لینے کے رجحان میں کمی آئی ہے۔
ثاقب شیرانی کا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی معاشی صورت حال کی وجہ سے نجی شعبے نے نئی سرمایہ کاری کےلیے ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی اپنا لی ہے۔ ماہر معاشی امور نے اگلے چھ مہینوں کو ملکی معیشت کےلیے بہت اہم قرار دیا ہے۔یہ صورت حال ایک بحرانی کیفیت پیدا کر رہی ہے۔ نجی شعبے ایک جانب کاروبار میں توسیع نہیں کر رہا ہے تو دوسری جانب اپنے کاروبار میں پیداواری لاگت میں کمی لانے کےلیے ملازمین کو نکال رہا ہے جو ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔‘
معاشی امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں کمی کا رجحان ملکی معیشت کےلیے بہت تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ملکی صنعتی شعبے میں مزید ابتر صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جس کا ایک نتیجہ مزید بیروزگاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اس قدر اضافے سے معاشی شرح نمو میں کمی کاروبار اور صنعتوں کی بندش اور بیروزگاری کا باعث بنے گی۔ کراچی کے صنعتی علاقے میں بند ہونے والی صنعتیں اور کاروبار اس کی واضح مثال ہے۔
نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے کم قرضہ لینے اور بینکوں کے پاس فاضل سرمایے کے بارے میں فرحان محمود کا کہنا تھا کہ بینک اس صورت حال میں زیادہ سرمایہ کاری حکومتی سیکیورٹیز میں کم کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button