بلوچستان جل رہا ہے لیکن لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر

تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے معروف لکھاری اور تجزیہ کار ایاز امیر نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب بلوچستان بدترین بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت لاہور میں بسنت کا تہوار منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق یہ تضاد نہ صرف ن لیگی حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے بلکہ قومی سطح پر سیاسی قیادت میں پائی جانے والی بے حسی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کا کہنا ہے کہ پنجاب کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے لہٰذا جب بلوچستان میں خونریز حملے یا دھماکے ہوتے ہیں تو پنجاب میں محض رسمی طور پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، حکومتی سطح پر بھی اس سے آگے بڑھنے کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ پنجاب میں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رہتی ہے، شادی ہال بھرے ہوتے ہیں اور لاہور میں کڑاہی گوشت کی رونق بھی ماند نہیں پڑتیں، دوسری جانب صوبہ بلوچستان مسلسل بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔

ایاز امیر کے مطابق بلوچستان میں حالات طویل عرصے سے خراب ہیں، جہاں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی پاکستان سے آزادی کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنمائوں کے مطابق ان کا صوبہ احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ماضی میں مشرقی پاکستان میں حالات بگڑتے ہوئے علیحدگی کی جانب بڑھ رہے تھے تو بھی پنجاب میں کسی کو زیادہ فکر لاحق نہیں تھی۔ ایاز امیر نے 1971 کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تب خود فوج میں کیپٹن تھے اور طیارہ شکن توپیں لاہور کے محاذ پر منتقل کر رہے تھے، ان کے مطابق تب مشرقی پاکستان میں کیا ہو رہا تھا، اس حوالے سے عوام کو مکمل طور پر لا علم رکھا جا رہا تھا اور جھوٹی معلومات فراہم کی جا رہی تھیں۔ سرکاری ذرائع مسلسل کامیابیوں کے دعوے کر رہے تھے، مگر بی بی سی کی خبریں ایک مختلف تصویر پیش کرتی تھیں۔

ایاز امیر بتاتے ہیں کہ جب جیسور پر بھارتی فوج کے قبضے کی خبر سامنے آئی تو سرکار کے بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان تضاد واضح ہو گیا، مگر اس سچ کو تسلیم کرنے پر کوئی آمادہ نہیں تھا۔
ایاز امیر نے کہا کہ آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں کی تعداد ختم ہونے کے قریب بتائی جا رہی ہے، مگر حالیہ دنوں میں بیک وقت 12 شہروں میں یونے والے دہشت گرد حملوں نے ان دعوؤں کی نفی کر دی ہے۔ ان حملوں کے بعد پوری قوم ہل کر رہ گئی، کیونکہ یہ واقعات اس لیول کے تھے کہ سرکاری بیانیہ ہوا میں اڑتا محسوس ہوا۔

ایاز امیر نے ویتنام جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح امریکی فوجی کمانڈ روزانہ فتح کے دعوے کرتی رہی، اسی طرح بلوچستان میں حالیہ حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اصل صورتحال سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ بلوچستان میں حالیہ حملے معمولی نوعیت کے نہیں تھے۔ کوئٹہ میں حساس سرکاری دفاتر کے قریب حملے کیے گئے، بینک پر راکٹ لانچر سے حملہ ہوا اور اسکی فوٹیج وائرل ہوئی۔ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کو یرغمال بنایا گیا اور بعد ازاں ویڈیو بنا کر چھوڑ دیا گیا، جبکہ ضلع واشک میں بی ایل اے کے جنگجو گھنٹوں دندناتے رہے۔ اس دوران بی ایل اے کی جانب سے بینک لوٹے گئے اور لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ ان واقعات کے بعد اگرچہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنی پریس کانفرنس میں جارحانہ لب و لہجہ اختیار کیا، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ غیر رسمی گفتگو میں حالات کی سنگینی کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔

ایاز امیر کے مطابق بلوچستان میں اس وقت جاری شورش ماضی کی تمام بغاوتوں سے مختلف ہے۔ مشرف دور میں فوج کے ہاتھوں نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک سرداروں یا نوابوں کے زیر قیادت نہیں چل رہی، بلکہ پڑھے لکھے مڈل کلاس نوجوان اس کی قیادت کر رہے ہیں، ان کے مطابق اسلام آباد کے کیفوں یا لاہور میں بسنت کی تیاریوں کے دوران یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع میں عوام کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے۔ ایاز امیر کا کہنا ہے کہ حکومتی ترجیحات کا جائزہ لیا جائے تو پہلی ترجیح پی ٹی آئی سے منسلک ناپسندیدہ سیاسی عناصر کو قابو میں رکھنا دکھائی دیتی ہے، جبکہ اصل خطرات مغربی سرحد اور بلوچستان میں موجود ہیں۔ سیاسی مخالفین ریاست کے لیے خطرہ نہیں، اصل خطرہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں سے ہے، جو آئین اور قانون کو نہیں بلکہ بندوق کو مانتی ہیں۔

نواز شریف بسنت کہاں منائیں گے اور پیچے کس سے لڑائیں گے؟

ایاز امیر کے مطابق پنجاب کی نفسیات اور حالات دیگر تین صوبوں سے مختلف ہیں، جہاں سیاسی مسائل سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز کافی سمجھے جاتے ہیں، مگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورتحال بگڑ کر اس سے کہیں زیادہ ابتر ہو چکی ہے۔ بلوچستان، جو پاکستان کے 43 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، شدید شورش کی لپیٹ میں ہے اور وہاں کے عوام کی ہمدردیاں کس طرف جا رہی ہیں، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری سچ اور زمینی حقیقت کے درمیان خلیج مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے، جبکہ ملک کے طاقتور اور خوشحال حصوں میں بیٹھے لوگوں کو اس سنگین صورتحال کا کوئی حقیقی احساس نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب بلوچستان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز لاہور میں بسنت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

Back to top button