بلوچستان مسلسل سیاسی بحران کا شکار کیوں رہتا ہے؟


صوبہ بلوچستان پچھلے چار برس سے مسلسل سیاسی بحرانوں کی زد میں ہے اور کوئی بھی وزیراعلیٰ اپنی مدت پوری نہیں کر پاتا۔ اس مرتبہ قومی وسائل پر ہونے والے متنازعہ معاہدوں نے صوبہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں پھر دراڑیں پیدا کردی ہیں۔ صوبائی وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کوناقص طرز حکمرانی کا ردعمل قراردیا جا رہا ہے۔بلوچستان کے سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے اس لیے یہاں سیاسی استحکام نہیں آ پایا۔ نہوں نے کہا کہ بلوچستان اس ملک کا وہ بد قسمت صوبہ ہے، جہاں اسٹیبلشمنٹ نے کبھی حقیقی عوامی حکومت کو قائم نہیں ہونے دیا۔ استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لیے صوبے میں حکومتیں بناتی اور ختم کرتی ہیں۔ موجودہ مخلوط حکومت ایک مقصد کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اب جب مقصد پورا ہوگیا ہے تو اس کے خلاف وہ عناصر پھر سے اکٹھے کیے گئے ہیں جنہوں نے سابقہ حکومت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

لشکری رئیسانی کاکہنا تھا کہ بلوچستان کے نام پر سیاست کرنے والے ریاستی آلہ کاروں کو صوبے کے حقیقی مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بلوچستان کے وسائل لوٹنے والے صوبے کے خیرخواہ کبھی نہیں ہوسکتے۔ موجودہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے عوام کو تاریکی میں رکھ کر ریکوڈک کا سودا کیا۔ اس معاہدے کو صوبے کی حقیقی قیادت کس طرح قبول کر سکتی ہے؟ بلوچ قومی قیادت اپنے حق خودارادیت پر کبھی سودا نہیں کرے گی۔ بلوچستان میں نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے، اسی لیے اقتدار تک پہنچنے کی دوڑ میں ہر کوئی مگن دکھائی دیتا ہے۔ لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی بدحالی کے ذمہ دارخود کو ترقی پسند ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر عوام نے انہیں یکسر مسترد کیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی کی 65 نشستیں ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کی بھی 33 اراکین اسمبلی نے حمایت کی تھی۔ سابق اسپیکر اور موجودہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے شورش زدہ ضلع آواران سے ہے۔ وہ سابقہ انتخابات میں اپنے حلقے میں صرف 544 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔اپوزیشن میں شامل بعض دیگر جماعتوں کی طرح بلوچستان عوامی پارٹی بھی مرکز میں تحریک انصاف کے اتحاد سے الگ ہوئی تھی۔ بی اے پی کے صدر جام کمال کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو متحدہ اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل ہے۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدوس بزنجو ہماری جماعت کے رکن ہیں۔ بطور وزیراعلیٰ جب میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو میں نے صوبے کے مفاد میں مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید ان کی حکومت ڈیلیور کر لے گی۔ لیکن اس حکومت نے کسی بھی شعبے میں کام نہیں کیا۔ عوامی مفاد کے منصوبے ادھورے پڑے ہیں۔ لوگوں کو ہم کیا جواب دیں گے؟ بلوچستان کو مزید کس طرح اس حالت میں چھوڑا جا سکتا ہے؟‘‘

جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگ بھوک و افلاس سے مر رہے ہیں، لیکن حکومت صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہے۔ ان کے بقول، حکومت گرانے کا مقصد صاف واضح ہے، جن لوگوں کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں انہیں حکومت میں بھی نہیں رہنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں غیر آئینی اقدامات کا تسلسل رک سکے۔ دودھ اور شہد کی نہریں کوئی نہیں بہا سکتا لیکن دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ ہمارے اتحاد نےاس لیے تحریک عدم اعتماد جمع کی ہے تاکہ صوبے کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر اور تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند کہتے ہیں موجودہ صوبائی حکومت عوامی خدمت کے بجائے جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ہمارے علاقے میں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو موجودہ حکومت تحفظ فراہم کررہی ہے۔ پی ٹی آئی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی ہم نے مرکز کو کئی شکایات درج کرائی تھیں کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ قدوس بزنجو کی حکومت نے ہر جگہ کرپشن اور لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ عوامی نمائندے ایسے ماحول میں کس طرح عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں؟‘‘۔ یارمحمد رند کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بلوچستان سے متعلق پالیسی تضادات کا شکار تھی اور انہوں نے اپنے دور میں صوبے کے مفادات کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ قدوس بزنجونے تحریک عدم اعتماد میں کردار ادا کرنے والے 2 صوبائی وزراء ایک مشیر اور 3 پارلیمانی سیکرٹریوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔ برطرف کیے گئے وزراء میں نوابزادہ طارق مگسی، مبین خلجی، صوبائی مشیر نعمت اللہ زہری اور پارلیمانی سکریٹری، شاہینہ کاکڑ، مٹھا خان کاکڑ اور نعیم احمد بازئی شامل ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button