بلوچستان میں پٹرول 112 روپے لیٹر کی بجائے 77 روپے کا کیوں؟


جہاں پاکستان کے چار شہروں میں اس وقت پٹرول 112 روپے لیٹر کے حساب سے بک رہا ہے وہیں بلوچستان میں اس کی قیمت صرف 77 روپے فی لیٹر ہے۔ یعنی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں پٹرول 42 روپے فی لیٹر کم پر دستیاب ہے جس کی بنیادی وجہ بلوچستان میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کا کاروبار ہے جو کہ دہائیوں سے جاری ہے. حکومت کی جانب سے ماضی میں بار بار تیل کی اس غیر قانونی اسمگلنگ اور فروخت پر پابندی لگانے کے دعوے کیے گے ہیں لیکن پھر بھی وہ اس کاروبار کو روکنے میں ناکام ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے مکینوں کی زندگی کا تمام تر دارومدار اسی اسمگل شدہ پیٹرول پر ہے۔ بڑا مسلہ یہ ہے کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں پانی، بجلی اور سڑکیں نہ ہوں اور نہ ہی روزگار کے دیگر ذرائع ہوں، وہاں کے لوگ اپنا گھر بار چلانے کے لیے اسمگلنگ نہیں کریں گے تو فاقوں سے مر جائیں گے۔ اگر حکومت بارڈر بند کر دے تو ان خاندانوں کی زندگی رک جائے گی اس لیے کہ ان کی زندگی کا تمام تر دارومدار اسی اسمگل شدہ پیٹرول پر ہے۔
بلوچستان کے ضلع واشک کی ایک چھوٹی تحصیل مشخیل (جسے مقامی طور پر ماشکیل بھی کہا جاتا ہے) پاک ایران کی سرحد پر واقع ایک ریگستانی تحصیل ہے جہاں پچاس ہزار افراد کی آبادی ہے اور تقریبا ہر خاندان کا ایک ہی ذریعہ معاش اسمگل شدہ ایرانی تیل کی خرید و فروخت ہی ہے۔ لیکن اسی پترول کے باعث 2014 میں حب سڑک پر دو مسافر بسوں اور دو ٹرکوں کے تصادم کے بعد آگ لگنے سے 35 افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ جیسا کہ ہر حادثے کے بعد ہوتا ہے، حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری دیا جن میں یہ بات سامنے آئے کی مسافر بسوں میں بھی اسمگل شدہ ایرانی تیل ڈرموں میں بھر کر سندھ اور پنجاب تک پہنچایا جا رہا تھا۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں کافی شور برپا ہوا۔ اس نعامکے پر مختلف اراکین اسمبلی کے درمیان تکرار بھی ہوئی۔ بلوچستان کے تب کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس واقعے کی ذمہ داری سرحدی راستوں سے اسمگل ہو کر آنے والے ایرانی تیل پر ڈالی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایرانی پیٹرول کی فروخت بلوچستان کی کسی تحصیل یا ضلع میں نہیں ہونے دی جائے گی۔
تاہم حب حادثے میں جاں بحق ہونے والے شاہ میر بلوچ کی والدہ سلمیٰ منیر کا کہنا ہے کہ وہ اس حادثے کا الزام کسی پر عائد نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کی حقیقت کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ہم لوگ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ انہی راستوں سے، انہی بسوں میں اسمگل شدہ پیٹرول یا ڈیزل کے ساتھ سفر کر چکے ہیں۔ اب چاہے کوئی کچھ بھی کہے، میرا بیٹا اور باقی لوگوں کے خاندان والے واپس نہیں آ سکتے۔ آج اس واقعے کو سات سال بیت چکے ہیں۔ تب کچھ نہیں ہوا، تو اب کیا ہو سکتا ہے؟۔
بلوچستان کے ڈسٹرکٹ واشک کی تحصیل مشخیل سے نزدیکی ایرانی علاقہ سراوان ہے، جہاں سے ہر روز نیلے پِک اپ ٹرک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ڈرم آتے ہیں۔ ان پِک اپ ٹرک کا نام ’زمیاد‘ بتایا جاتا ہے جب کہ مقامی لوگ اسے ’زمباد‘ بھی کہتے ہیں۔ زمباد گاڑیوں کے بارے میں بات مشخیل کے جہند خان نے بتایا کہ یہ تہران میں بنتی ہیں اور تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ تک مل جاتی ہیں۔ جہاں تک ان کی یہاں آمد و رفت کی بات ہے تو ان گاڑیوں پر درج نمبر کہیں بھی درج نہیں ہوتے، اس لیے یہ گاڑیاں اگر پکڑی بھی جائیں تو کسی اہلکار کو نہیں پتا چلتا کہ اس گاڑی کا مقدمہ کہاں درج کریں۔ جہند خان نے بتایا کہ دوسری جانب، تیل لانے والی گاڑیوں کے مالک مختلف ہوتے ہیں اور بلوچستان کے مختلف سرحدی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ہر مالک کے پاس 20 سے 30 گاڑیاں ہیں۔ جو بارڈر سے شہروں اور چھوٹی تحصیلوں تک پیٹرول لے کر جاتے ہیں۔ مشخیل میں یا تو کچھ لوگ زمباد کا ٹھیکہ لے لیتے ہیں یا پھر تیل خرید کر دکان کھول لیتے ہیں۔ اس سے ماہانہ خرچہ اچھا مل جاتا ہے۔
مشخیل کے بازاروں میں روز مرہ کے استعمال کی ایرانی اشیاء کے علاوہ اسمگل شدہ پیٹرول بھی ایسے ہی بِکتا ہے جیسے کہ کھانے کی چیز ہو۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں پر 85 فیصد لوگ تیل کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی نزدیکی دکان کی چھت یا چٹان سے اس علاقے کو دیکھا جائے تو تیل کی منڈی میں آنے والے تیل کے نیلے پِک اپ ٹرک ہر جگہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ جو مختلف دکانوں میں ڈرم پہنچا کر واپس سرحد کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یہ کام اسی روانی سے چلتا رہتا ہے جب تک کوئی بندش نہیں آ جاتی۔ ایسی صورت میں گاڑیوں کی ایک لمبی قطار چِیدگی سرحد اور دیگر علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً مشخیل دریا میں سیلاب آنے پر اکثر سرحدی راستہ اور علاقوں کے درمیان بندش آ جاتی ہے جس کی وجہ سے تاحدِ نگاہ صرف نیلی گاڑیاں ایک قطار میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں کے ایک رہائشی سعید مہر بلوچ نے پچھلے 45 برسوں میں کئی دیگر کاروبار شروع کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام ریے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2013 میں تیل کی اسمگلنگ کے علاوہ کوئی اور کام کرنے کا سوچا، تو زلزلہ آ گیا۔ راستے بند ہوگئے اور اس دوران گھروں میں قحط تک کی صورت حال بن گئی۔ اس دوران اسی پیٹرول کو کسی طرح بیچ کر گزارا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کھجوروں کا کام بھی نہیں چلا تو انہوں نے دوبارہ تیل کی خرید و فروخت شروع کر دی۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے پتا ہے کہ اگر کل کو حکومت نے یہ بارڈر بند کر دیا تو ہماری زندگی رک جائے گی، ختم ہو جائے گی۔ ہماری زندگی کا تمام تر دارومدار اس اسمگل شدہ پیٹرول پر ہے۔ سعید مہر بلوچ نے سوال پوچھا کہ ہمارے لیے یہاں متبادل کام کیا ہے؟ پہلے ایک متبادل ذریعہ معاش شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اسی طرح مند، گبد اور ایران کے درمیان بارڈر مارکیٹ شروع کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔ لیکن پھر اس پر کوئی حکومتی پیش رفت نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ مشخیل اور تفتان کے درمیان راستہ ریگستانی اور میدانی طرز کا ہے۔ پھر چِیدگی اور ایرانی بارڈر مند کی طرف جانے والا راستہ پہاڑی ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے یہ پیٹرول چھوٹے چھوٹے علاقوں تک پہنچتا ہے۔ ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر بات کرتے ہوئے پروفیسر اور محقق حفیظ جمالی کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے سرحدی علاقوں سے بلوچستان آنے والے راستوں کے بیچ میں بیشتر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جیسے کہ چیک پوسٹ، سیلاب کو روکنے والے بند اور دیگر اور بندشیں لگائی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کرنے والوں کو سیدھا راستہ نہ مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیکن یہ گاڑیاں اپنا راستہ ڈھونڈتے ہوئے پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں سے جتنے بھی نزدیکی سرحدی علاقے ہیں جیسے کہ نوکُنڈی، دالبندین، نوشکی، خاران، ان سب علاقوں میں یہی پیٹرول جاتا ہے۔ جہاں سے پھر مسافر بسوں، ٹرکوں اور گاڑیوں کے ذریعے اس کا رخ صوبہ سندھ میں کراچی کی طرف ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف تیل جنوب مغرب پنجاب اور وہاں سے خیبر پختونخوا پہنچایا جاتا ہے۔
مشخیل کے ہی ایک سابق حکومتی ارکان جو اب خود بھی اسمگل شدہ پیٹرول کا کاروبار کرتے ہیں، نے سرحد پر پہرہ دینے والے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں پہرے پر کھڑے اہلکاروں کو یہاں سے پیٹرول اور ڈیزل لانے لے جانے کے عوض اچھی رقم دی جاتی ہے جو یومیہ ڈیڑھ سے دو لاکھ کے برابر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں سرحدوں کے قریب موجود چیک پوسٹ پر ہر آنے جانے والی گاڑی سے پوچھا جاتا ہے کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ کہاں جارہے ہو، یہی سوال ان نیلی گاڑیوں سے نہیں پوچھا جاتا۔ بلکہ زیادہ تر مقامات پر اہلکار اور گاڑی چلانے والے ڈرائیور ایک دوسرے کو سلام یا ‘جوڑ وًش` بول کر کر آگے نکل جاتے ہیں۔
اسی سرحدی پٹی سے گوادر کی طرف سفر کے دوران کئی ایسے پمپس گزرتے ہیں جہاں سے ایرانی پیٹرول قدرے کم قیمت پر دستیاب ہوتا ہے۔ جہاں ملک بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت اب 112 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، وہیں ضلع کیچ میں ایرانی سرحدوں سے آنے والا پیٹرول 77 روپے فی لیٹر تک مل جاتا ہے۔ اسمگل شدہ ایرانی تیل بیجنے والے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ میں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور میرے پاس یہاں کوئی اور نوکری نہیں ہے۔ کسی نوکری کےلیے کراچی تک جانا پڑتا ہے۔ جو آٹھ گھنٹے کا سفر ہے۔ مجھے اس کام سے پیسے ملتے ہیں اور میرے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ میں کیوں 77 روپے کے پیٹرول کے بجائے 110 روپے کا پیٹرول خریدوں؟ پھر اوپر سے 300 روپے اضافی ٹیکس دوں۔ یہ تو میرے ساتھ نا انصافی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button