وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد نمبر پورے نہ ہونے پر ناکام

وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہوگئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے اکثریت حاصل نہ کرسکی، تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے مطلوبہ اراکین کی تعداد 13ہونی چایئے تھی لیکن جام کمال گروپ اسمبلی میں 13 ممبران کی تعداد پوری نہ کر سکا.
صوبائی اسمبلی میں صرف 11اراکین نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی، آئین کے تحت 20 فیصد ممبران یعنی 13 اراکین کی اجازت سے اسمبلی میں قرار داد پیش کی جا سکتی ہے۔ممبران پورا نہ ہونے پر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوئی، اب آئندہ چھ مہینے تک وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف کسی قسم کا عدم اعتماد نہیں ہو سکتا ہے ۔
صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل نے کی اور عدم اعتماد کی تحریک ظہور بلیدی نے پیش کی تھی۔
اسمبلی کا اجلاس پانچ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران بلوچستان میں ایک نگران وزیر اعلیٰ سمیت 5 وزیر اعلیٰ تبدیل ہوئے جبکہ 10 سالوں کے دوران 2 نگران وزیر اعلیٰ سمیت 8 شخصیات وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہو چکی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں جام کمال کی حکومت کا خاتمہ ہوا لیکن 6 ماہ بعد ہی رواں سال 18 مئی کو ایک مرتبہ پھر وزارت اعلیٰ کی تبدیلی کے لیے تحریک عدم اعتماد جمع کردی گئی جس کا فیصلہ آنے والے چند روز میں ہونے جا رہا ہے.
