بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کمیٹی تشکیل

وزیر اعظم عمران خان نے مواصلات، زراعت، توانائی اور دیگر اہم شعبوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ بلوچستان میں ترقی کے لیے ترجیحی شعبوں کی تجاویز کےلیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جو اس سلسلے میں اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔
وزیر اعظم آفس کے جاری کردہ ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی) کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر اور وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔
اجلاس میں بلوچستان میں معدنی وسائل کی استعداد کو بروئے کار لانے اور فروغ کےلیے بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، حماد اظہر، علی حیدر زیدی، عمر ایوب خان، مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، وزیرِاعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید و دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں کی ترقی کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں بلوچستان کے عوام کے احساسِ محرومی کا مکمل ادراک ہے جس کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، صوبہ بلوچستان میں مکمل امن و امان کو یقینی بنانا اور سماجی و اقتصادی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کو مالی وسائل تو فراہم کیے گئے لیکن عوام کی فلاح و بہبود کےلیے ان کے مناسب استعمال کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا جس سے نہ صرف صوبے کا بڑا حصہ پسماندگی کا شکار رہا بلکہ عوام میں احساس محرومی نے جنم لیا۔ اجلاس میں قومی ترقیاتی ایجنڈا خصوصاً بلوچستان کے پس ماندہ اور دور دراز علاقوں میں آمدو رفت، آبی وسائل کے بہتر استعمال، زراعت، توانائی، بارڈر مارکیٹوں کے قیام اور گوادر پورٹ سے مکمل طور پر استفادہ حاصل کرنے کےلیے مختلف منصوبے زیر غور آئے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ گوادر کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے علاقے کےلیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، گوادر اور سی پیک کے منصوبوں سے مکمل طور پر مستفید ہونے کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک، عوام اور خصوصاً نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور انفرا اسٹرکچر کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے۔
