بلوچوں کا مذاکرات کے لیے فوج واپس بلانے کا مطالبہ

بلوچ عسکریت پسندوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پہلی شرط یہ ہو گی کہ فوج کو بلوچستان سے نکالا جائے اور بلوچ قوم کی نسل کشی اور اس کے خلاف ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ادارے لائے جائیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ یونائیٹڈ آرمی اپنے گوریلا حملوں میں تیزی لے آئی ہیں۔ خیال رہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے رواں ماہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ نے ’ناراض بلوچ عسکریت ہسندوں‘ سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ بلوچستان میں ناراض عناصر سے بات چیت پر کام جاری ہے۔ تاہم ان عناصر سے بات چیت ہو گی جو انڈیا سے رابطے میں نہیں ہیں۔ اس فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عوامی جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کے لیے اپنا معاون مقرر کیا ہے۔
اس وقت بلوچستان کی ’ناراض قیادت‘ دو حصوں میں تقسیم ہے جن میں سے ایک لندن، سوئزرلینڈ اور دیگر ممالک میں جلاوطن ہے تو دوسری قیادت پہاڑوں میں مسلح جدوجہد میں مصروف ہے، جن میں سے سرگرم مسلح تنظیمیں مذاکرات کے لیے رضامند نظر نہیں آتیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے
کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ یعنی بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی باتیں ڈھکوسلہ ہیں اور ان میں کوئی سچائی نہیں کیونکہ موجودہ حکمران قابل بھروسہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پہلے مذاکرات کا جال پھیلایا گیا اور پھر تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے تحریری سوالات کے نامعلوم مقام سے دیئے گئے جوابات میں ڈاکٹر اللہ نذر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکمران قابل بھروسہ نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ ون ٹو ون مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ جائیں۔ یہ صرف دنیا کو دکھانے کے لیے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ بالفرض مذاکرات ہو جائیں اور یہ سنجیدہ ہوں تو ہماری سب سے پہلے شرط یہ ہو گی کہ فوج کو بلوچستان سے نکالیں اور بلوچستان میں جو نسل کشی اور جنگی جرائم ہو رہے ہیں ان کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ادارے لائے جائیں وہ یہاں بیٹھیں تب ہم طے کریں گے کہ ہمارا ایجنڈا کیا ہو گا۔‘
اس معاملے پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب کا کہنا ہے کہ ’وہ مذاکرات کے دعوؤں کو کسی پیشرفت کی صورت میں نہیں دیکھتے بلکہ یہ کسی بڑے نوعیت کے قتلِ عام کا پیش خیمہ ہیں کیونکہ بلوچستان میں جب بھی کسی بڑے نوعیت کے آپریشن کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس سے پہلے کسی کٹھ پتلی سیاست دان کو مذاکرات کا دعوت نامہ یا عام معافی کی باتوں کی پٹیاں پڑھا کر بھیجا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ قتل و غارت مجبور ہو کر کی گئی۔‘ بشیر زیب کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے دعوؤں کو کسی پیشرفت کی صورت میں نہیں دیکھتے بلکہ یہ کسی بڑے نوعیت کے قتلِ عام کا پیش خیمہ ہیں۔ یاد رہے کہ بشیر زیب کراچی اور بلوچستان میں حملوں اور دھماکوں کے متعدد واقعات میں پولیس کو مطلوب ہیں اور ان کا نام سندھ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کی گئی ریڈ بک میں بھی شامل ہے۔ بی بی سی کی جانب سے تحریری طور پر بھیجے گئے سوالات کے جوابات میں ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات برابر کی طاقتوں کے مابین ہوتے ہیں اب تک پاکستان ہمیں برابر کے طاقت کے طور پر نہیں دیکھتا، اس لیے جب ان کے زبان سے لفظ مذاکرات نکلتا ہے تو ان کے ذہن میں قیمت پوچھ کر نوجوانوں سے ہتھیار پھینکوانے کا خیال ہوتا ہے، وہ بیوپاری کی طرح قیمت پر بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہمارے لیے یہ بقا و فنا کا مسئلہ ہے، ایسی صورت میں مذاکرات کیسے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اور ہماری قوت کو برابری کے بنیاد پر تسلیم کر لیا جائے تو ہم انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اور فوج کو بلوچستان سے نکلنے کا محفوظ راستہ دینے کے لیے کسی بین الاقوامی ضامن کی موجودگی میں سرکار سے مذاکرات کر سکتے ہیں۔‘
حکومت کے قریبی حلقے اور بیرون ملک سرگرم بلوچ کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ حکومتی سائڈ کے حال ہی میں براہمداغ بگٹی سے رابطے ہوئے ہیں تاہم ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس سے پہلے نواز شریف کے دور حکومت میں جب ڈااکٹر مالک بلوچ وزیر اعلیٰ تھے تب بھی بلوچ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیے گئے تھے۔ ڈاکٹر مالک کے مطابق پہلے مرحلے میں براہمداغ بگٹی اور خان آف قلات سے مذاکرات ہوئے جن میں سے براہمداغ بگٹی نے جو مطالبات رکھے وہ عام سے تھے جو صوبائی حکومت بھی حل کر سکتی تھی لیکن مزید پیشرفت نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ براہمداخ بگٹی بلوچستان میں بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد جرگے کے فیصلے کے تحت بیرون ملک چلے گئے تھے جہاں انھیں بین الاقوامی اداروں اور ملکوں سے رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ خان آف قلات سلیمان داؤد کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کی کسی حکومت سے بذات خان آف قلات کوئی رابطہ نہیں کیا بلکہ پاکستان کی مختلف حکومتوں کی طرف سے گزشتہ 14 برسوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ’میرا جواب ہمیشہ یہ ہی ہوتا ہے کہ پہلے میرے معصوم بلوچوں کا قتل عام بند کرو، ان کو اپنی غیر قانونی جیلوں سے رہا کرو پھر کسی غیر جانبدار ملک کی موجودگی میں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
جب سینیٹر انوار الحق کاکڑ سے سوال کیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو بلوچوں سے اچانک مذاکرات کی ضرورت کیوں پیش آئی تو اس پر کاکڑ کا کہنا تھا کے شاید اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مذاکرات کا شوشہ چھوڑا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے جلا وطن قیادت سے مذاکرات کی کوششوں کے بعد کیا آزادی پسند سرمچار اپنی کارروایاں بند کر دیں گے؟ اس بارے میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلح بلوچ قیادت اب جلاوطن قیادت کے زیر اثر نہیں رہی۔ اسی لیے بلوچستان میں حکمران بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا ماننا ہے کہ یہ مذاکرات بھی ماضی کی طرح بے سود ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ براہمداغ بگٹی ہو یا خان آف قلات دونوں کا مسلح جدوجہد کاروں پر کوئی اثر رسوخ نہیں۔ ’خان آف قلات تو ایک یونین کونسل نہیں جیت سکتا جبکہ براہمداغ بگٹی کا اثر بھی صرف ایک تحصیل تک محدود ہے جبکہ پورے جنوبی مکران میں اللہ نذر بلوچ مضبوط ہے۔ براہمداغ کو کون پوچھتا ہے، چار ہوں یا چار ہزار ہوں جو بھی ہوں وہ لوگ اللہ نذر کے ساتھ ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلح بلوچ جدوجہد کی قیادت اب کسی سردار یا نواب کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جو اب یہ لڑائی نظریے کی بنیاد پر لڑ رہے ہیں، اب ان کے پاس وسائل کا مسئلہ نہیں رہا۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے مذاکرات کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان پیش قدمی کر رہے ہیں، اس سے قبل ماضی میں روس کے انخلا کے بعد افغانستان پر طالبان کے کنٹرول سے پہلے جنرل شیروف مری اور اس کے بعد نواب خیربخش مری افغانستان سے پاکستان واپس آ گئے تھے۔ بی ایل ایف کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد بلوچ تحریک پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں لیکن اس طرح نہیں جس طرح لوگ سوچ رہے ہیں۔ ’ہماری اپنی زمین ہے ہماری اپنی قوم ہے ہم اس میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے طالبان اپنے علاقوں میں جائیں گے انھیں بھی سمجھنا چاہیے کہ بلوچ ایک قوم ہے وہ افغانستان میں بھی موجود ہیں اور اپنے وطن میں بھی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘ انہون نے کہا کہ جس وقت نواب مری اور جنرل شیروف مری موجود تھے تب بھی مجاہدین نے بلوچوں کا بڑا خیال رکھا تھا۔ اس وقت ہمارے پناہ گزینوں کی کافی تعداد افغانستان یا ایران میں پناہ لیے ہوئے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ طالبان یہ رسک نہیں لے سکتے۔‘
