بلوچ جنگجوؤں کیساتھ سیلفیاں بنوانے والوں کو اشتہاری وارننگ شروع

بلوچستان حکومت نے اخباری اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے جنگجووں کے ساتھ سیلفیاں، ویڈیوز یا تصاویر بنانے سے گریز کریں کیونکہ اب اس عمل کو جرم قرار دے دیا گیا ہے اور ایسا کرنے ہر کسی نقصان کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے تنبیہی اعلامیوں کے بعد حکومت بلوچستان نے اب ملک کے معروف اخبارات میں اشتہار دینا شروع کر دیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کالعدم تنظیموں کے کارروائیوں کے دوران جنگجوون کیساتھ تصاویر بنوانے والے کسی فرد کو جانی یا مالی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری اسی فرد پر عائد ہوگی۔ خیال رہے کہ گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے شہروں میں بڑی تعداد میں آنے اور وہاں کارروائی کرنے کے علاوہ شاہراہوں پر ناکہ بندی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان واقعات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ عسکریت پسند لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہیں یا عام لوگ ان کے ساتھ ویڈیوز بناتے ہیں۔
اگرچہ ان ویڈیوز اور تصاویر کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی تاہم بعض مبصرین یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان کے کچھ لوگوں میں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے لیے ہمدردی ہو سکتی ہے اور وہ اسی لیے ان کے قریب آتے ہیں۔ تاہم سرکاری حکام اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اس کی وجہ خوف کو قرار دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ’دہشت گرد عام لوگوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اخبارات میں اشتہارات اس لیے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کے دوران عام لوگوں کا نقصان نہ ہویاد رہے کہ بلوچستان میں جاری مسلح شورش کا آغاز 2000 کے اوائل میں ہوا تاہم 2018 کے بعد سے اس میں بعض نئے رحجانات سامنے آئے ہیں۔
ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھے گئے ہیں کہ چار سے آٹھ بلوچ عسکریت پسند ’اجتماعی خودکش حملے‘ کے طور پر شہری علاقوں میں سکیورٹی فورسز سمیت دیگر اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ بعض حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔ اسی طرح 2024 سے شاہراہوں پر ناکہ بندی کرنے اور شہری آبادیوں میں داخل ہونے کا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔
بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ کالعدم تنظیموں کے ارکان کے ساتھ نہ صرف ملتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ سیلفیاں اور ویڈیوز بھی بناتی ہیں جنھیں بعد ازاں سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ عیدالاضحی کے تیسرے روز ضلع نوشکی کے علاقے شیر جان آغا کے مقام پر کالعدم بی ایل اے کے جنگجوؤں نے ناکہ بندی کی اور سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمود خان نے بتایا کہ جب مسلح افراد نے شیر جان آغا کے مقام پر اچانک آ کر کوئٹہ-کراچی شاہراہ کی ناکہ بندی کی تو وہاں پِکنک کے لیے آنے والے متعدد نوجوان ان کے پاس جمع ہوئے اور ان کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں نے پِکنک کے لیے لائی گئی کھانے پینے کی اشیا بھی عسکریت پسندوں میں تقسیم کی تھیں۔
اس کے بعد اضلاع گوادر اور مستونگ کے ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے جاری اعلامیوں میں لوگوں کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ عسکریت پسندوں کے قریب نہ جائیں لیکن 14جولائی سے حکومت بلوچستان کی جانب سے اس سلسلے میں باقاعدہ اخبارات میں اشتہارات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ نصف صفحے پر مشتمل اشتہار کے مندرجات کے مطابق ‘بلوچستان کے بعض علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران بعض شہری دہشت گردوں کے ہمراہ سیلفی، ویڈہوز اور تصاوہر بنواتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایسے افراد تعزیرات پاکستان کے تحت معاون جرم تصور کیے جائیں گے۔’
لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی کے دوران یا بعد ازاں کسی بھی مشتبہ جگہ پر موجودگی، ہجوم لگانا یا ویڈیو یا فوٹو بنانا نہ صرف قانونی کارروائی کا موجب بن سکتا ہے بلکہ فورسز کے فوری ردعمل کے دوران ایسے افراد گولی کا نشانہ بن کر اپنی جان بھی گنوا سکتے ہیں۔‘
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ رسپانس میکانزم کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کے دوران ’اگر کسی فرد کو کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ فرد پر عائد ہوگی۔‘
اسکے علاوہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ سکیورٹی فورسز سے مکمل تعاون کریں اور کسی بھی غیر ضروری یا مشتبہ سرگرمی سے گریز کریں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جب ’دہشت گرد شہروں میں یا شاہراہوں پر آتے ہیں تو وہ عام لوگوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔‘انھوں نے حال ہی میں مستونگ میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار حملہ آوروں کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن عام لوگوں کو بطور شیلڈ استعمال کرنے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بہت زیادہ انتظار کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی فورسز عام لوگوں کی موجودگی میں کارروائی کرے تو ’اس میں فرق کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ کون معصوم ہے اور کون دہشت گرد۔‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی آپریشن میں کوئی ’بے گناہ شخص مارا گیا تو پھر اسے حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔‘
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اب اخابری اشتہار حکومت کی جانب سے اس لیے دیا جا رہا یے تاکہ عام لوگ ان دہشت گردوں سے دور رہیں کیونکہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کسی طرح بھی یہ نہیں چاہتے کہ عام لوگوں کا نقصان ہو۔‘
