بلوچ مردوں کے بعد بلوچ خواتین کی گرفتاریاں شروع

کراچی میں بلوچ قوم پرست خاتون شاری بلوچ کی جانب سے چینی اساتذہ پر خود کش حملے کے بعد سے بلوچ خواتین سکیورٹی فورسز کے زیر عتاب آ چکی ہیں اور اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 10 خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں ایجنسیز نے اغوا کیا ہے۔ ماضی میں بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت میں لکھنے اور بولنے والوں کو ہراساں تو کیا جاتا رہا ہے، لیکن بلوچ خواتین کے خلاف ایسی کارروائیاں ایک نئی روایت ہیں جو بلوچ عوام میں غصہ اور نفرت پیدا کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد بلوچ عورتوں کے خلاف شروع ہونے والا سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن افسوسناک ہے۔
بلوچستان کے ضلع تربت میں ایک بلوچ قوم پرست شاعرہ حبیبہ پیر جان کی گرفتاری کے خلاف جاری دھرنے کی وجہ سے تربت سے گوادر، پسنی، اورماڑہ اورکراچی جانے والی شاہراہ پر ٹریفک کئی روز سے معطل ہے اور مظاہرین خاتون کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حبیبہ کی فیملی نے حق دو تحریک اور سول سوسائٹی کے ہمراہ مل کر تربت میں ایم ایٹ شاہراہ کو دی بلوچ پوائنٹ پر دھرنا دے کر بند کر رکھا ہے۔ شاہراہ کی بندش سے کئی گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ حبیبہ کی گرفتاری سے قبل بلوچستان کے ضلع کیچ سے 16 مئی کو نور جہاں نامی ایک اور بلوچ خاتون کی گرفتاری کے خلاف ہوشاب میں سی پیک روڈ پر دھرنا دیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ اسی تناظر میں حق دو تحریک نے ہفتے سے پورے مکران میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دی ہے۔ ایم ایٹ شاہراہ پر دھرنے کے حوالے سے تربت کے صحافی اسد بلوچ نے بتایا کہ اس میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے جبکہ ہوشاب میں بھی دھرنا بدستورجاری ہے۔دھرنا میں کراچی نیول کالونی سے 19 مئی کو حراست میں لی جانے والی شاعرہ حبیبہ پیر جان کی بہن نسیمہ بھی شریک تھیں جن کا تعلق نظر آباد کی تحصیل تمپ سے ہے۔ نسیمہ نے بتایا کہ ’حبیبہ پیر جان کو جب اٹھایا گیا تو اس وقت گھر میں ان کے دو بچے اور میری بیٹی موجود تھی۔ تاہم ان کی گرفتاری اور الزامات کے حوالے سے ہمیں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔‘
سوشل میڈیا پر زیرگردش رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر لاپتا کی جانے والی خاتون بلوچ شاعرہ ہیں اور بلوچ قوم پرستوں کی حمایت کرتی ہیں۔ خاتون کا تعلق بلوچستان کے ضلع تربت کی تحصیل تمپ کے علاقے نظر آباد سے ہے۔ تاہم وہ کراچی کے علاقے گلشن مزدور میں مقیم ہیں۔ حبیبہ کی بیٹی حنا نے الزام لگایا کہ ان کی والدہ کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ ان کے بقول کچھ لوگوں نے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، جب میں نے کھڑکی سے دیکھا تو چند گاڑیاں اور رینجرز اہلکار موجود تھے۔ جب والدہ نے دروازہ کھولا تو اہلکار انہیں ایک طرف لے گئے اور پوچھ گچھ کی۔ حنا نے دعویٰ کیا کہ رات کی تاریکی میں گھر آنے والے اہلکار لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں یا حکام کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس گرفتاری کے خلاف احتجاج میں شامل حق دو تحریک کے رہنما غلام یاسین نے دھرنے سے خطاب میں کہا کہ ’بلوچ عورتوں کی گرفتاری ایک خطرناک رجحان ہے۔ ہمارے سکیورٹی ادارے بلوچ قوم کی روایات سے ناواقف ہیں۔ اس لیے انہیں اس کے رد عمل کا اندازہ نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’ہوشاب سے گرفتار خاتون نورجہاں کے کیسز واپس لے کر انہیں رہا کیا جائے اور کراچی سے گرفتار کی جانے والی حبیبہ کو بازیاب کرایا جائے۔‘ دوسری جانب حق دو تحریک نے خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف ہفتے سے ضلع کیچ سمیت پورے مکران میں غیر معینہ مدت تک شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔ حق دو تحریک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں تاجر برادری سے کل دکانیں اور مارکیٹ بند کرکے تعاون کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ریاستی اداروں کا رویہ روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘ انہوں نے سول سوسائٹی، جماعت اسلامی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہڑتال کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب سینئر صحافی حامد میر نے بھی اس معاملے پر ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک بلوچ شاعرہ کو گھر میں گھس کر اٹھایا گیا ہے۔ ان کے بقول روزانہ آئین کی دھجیاں بکھیر کر شہریوں کو لاپتا کیا جارہا ہے لیکن اس معاملے پر عدلیہ کو ازخود نوٹس لینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ بلوچستان میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق اس سے قبل بھی بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان پر مختلف الزامات لگا کر انہیں منظر عام پر لایا گیا اور عوامی رد ِعمل پر انہیں رہا کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اکثر ایسی خواتین کو لاپتا کیا جاتا ہے جن کے شوہر یا قریبی رشتے داروں پر بلوچ مزاحمتی تنظیموں سے تعلق کا الزام ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح گزشتہ دنوں نور جہاں نامی خاتون کو گرفتار کیا گیا اور اب ایک شاعرہ حبیبہ بلوچ کو لاپتا کیا گیا ہے یہ کارروائیاں اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔ اُن کے بقول اگر کسی پر الزام ہے تو اس کے لیے قانونی طریقۂ کار موجود ہے، مگر اس طرح رات کے اندھیرے میں کسی کو گھر سے اُٹھا کر لاپتا کرنا قابلِ مذمت ہے۔ نصر اللہ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں شاری بلوچ کی جانب سے چینی اساتذہ پر خود کش حملے کے واقعے کے بعد سے اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 10 کے قریب خواتین اور بچے لاپتا ہو چکے ہیں۔
